Sunday , October 22 2017
Home / سیاسیات / مزید 12 مصنفین نے ساہتیہ اکیڈیمی ایوارڈس واپس کردیئے

مزید 12 مصنفین نے ساہتیہ اکیڈیمی ایوارڈس واپس کردیئے

نئی دہلی ۔12اکٹوبر ( سیاست ڈاٹ کام ) ملعون بکر انعام یافتہ مصنف سلمان رشدی بھی ملک میں فرقہ وارانہ زہر کے پھیلاؤ اور بڑھتی عدم رواداری کے خلاف احتجاج میں شامل ہوگیا ہے جب کہ مزید 12 مصنفین نے اپنے ساہتیہ اکیڈیمی ایوارڈس واپس کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔  88 سالہ نین تارا سہگل نے جو جواہر لال نہرو کی بھتیجی ہیں ، سب سے پہلے یہ احتجاج شروع کیا اور اپنا ایوارڈ واپس کردیا تھا ۔ کشمیری مصنف غلام نبی خیال ‘ اردو ناول نگار رحمن عباس اور کنڑ مصنف ۔ ترجمہ نگار سریناتھ ڈی این نے کہا کہ وہ اپنے ساہتیہ ایوارڈس واپس کررہے ہیں ۔ خیال اور سریناتھ کے ساتھ ہندی مصنف منگلیش ڈبرال اور راجیش جوشی نے بھی اپنے ایوارڈس واپس کئے ۔ پنجابی مصنف وریام سندھو اور کنڑ ترجمہ نگار جی این رنگاناتھ راؤ نے کہا کہ انہوں نے اکیڈیمی کو اپنے ایوارڈس واپس کرنے کے فیصلوں کی اطلاع بھی دی ہے ۔ اس طرح اپنے ایوارڈس واپس کرنے کا فیصلہ کرنے والے مصنفین کی جملہ تعداد 21ہوگئی ہے ۔ ان سب کا احساس ہے کہ وہ اپنے ملک میں ’’غیر محفوظ اور خطرہ میں ہیں ‘‘ مصنفین نے انتباہ دیا کہ فرقہ وارانہ زہر پورے ملک میں پھیل رہا ہے اور عوام کے بڑے پیمانے پر منتشر ہونے کا خطرہ منڈلا رہا ہے ۔ کئی گوشوں سے تنقید کا نشانہ بنی ہوئی اکیڈیمی نے اپنے عاملہ بورڈ کا اجلاس 23اکٹوبر کو طلب کیاہے ۔ مصنفین کی جانب سے اپنے ادبی ایوارڈس واپس کرنے کی مہم کے دوران تھیٹرس کے فنکار مایہ کرشنا راؤ نے بھی آج اپنا سنگیت ناٹک اکیڈیمک ایوارڈ واپس کردیا ۔ یہ ایوارڈ کی واپسی دادری میں ایک عمر رسیدہ شخص کو زدوکوب کے ذریعہ ہلاک کردینے اور ملک گیر سطح پر بحیثیت مجموعی تعصب کا زہر پھیل جانے کے خلاف بطور احتجاج واپس کیا گیا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT