Thursday , September 21 2017
Home / ہندوستان / مسئلہ ایودھیا کا مذاکرات کے ذریعہ حل خارج ازامکان

مسئلہ ایودھیا کا مذاکرات کے ذریعہ حل خارج ازامکان

مسلمانوں کو مشاورت سے دلچسپی نہیں، پارلیمنٹ میں قانون کی منظوری پر زور، وی ایچ پی لیڈر جین کا بیان
کولکتہ 11 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) مسئلہ ایودھیا کے متعلقہ فریقوں کے مابین بات چیت کے ذریعہ بیرون عدالت تصفیہ کے امکانات کو مسترد کرتے ہوئے وشوا ہندو پریشد (وی ایچ پی) کے ایک سینئر لیڈر سریندر جین نے آج کہاکہ ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر کے لئے پارلیمنٹ میں ایک قانون منظور کیا جانا چاہئے۔ وی ایچ پی کے بین الاقوامی جوائنٹ جنرل سکریٹری سریندر جین نے یہاں اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ ’’ہمیں حکومت پر پورا بھروسہ ہے۔ ہم محسوس کرتے ہیں کہ ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر کے لئے پارلیمنٹ میں جلد ایک قانون کو منظور کیا جانا چاہئے‘‘۔ انھوں نے کہاکہ ’’ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر کے لئے وزیراعظم نریندر مودی اور اترپردیش کے چیف منسٹر یوگی آدتیہ ناتھ کا عزم و عہد کسی بھی صورت میں ہمارے عزم سے کم نہیں ہے‘‘۔ سریندر جین نے سپریم کورٹ کی تجویز کے مطابق اس مسئلہ کے بیرون عدالت تصفیہ کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے کہاکہ ’’مسلم برادری میں شامل دیگر فریقین کو اس مسئلہ پر بات چیت یا مشاورت سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ چنانچہ ہم کس سے بات کرتے ہوئے اس مسئلہ کو حل کریں۔ اس مسئلہ کو حل کرنے کا بہترین طریقہ یہی ہے کہ پارلیمنٹ میں ایک قانون منظور کیا جائے اور ایودھیا میں رام مندر تعمیر کی جائے‘‘۔ اس سوال پر کہ بی جے پی کے زیرقیادت این ڈی اے حکومت آیا کس طرح پارلیمنٹ میں یہ قانون منظور کرسکتی ہے جبکہ راجیہ سبھا میں اس کو اکثریت حاصل نہیں ہے۔

انھوں نے جواب دیا کہ ایسی کئی مثالیں ہیں کہ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس میں مسودہ قانون منظور کئے گئے ہیں۔ رام مندر کے معاملہ میں بھی پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے ذریعہ بل منظور کی جاسکتی ہے۔ سریندر جین نے اس سوال کا واضح جواب دینے سے گریز کیاکہ آیا مرکز نے وی ایچ پی کو کوئی تیقن دیا ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ ’’ہم سب جانتے ہیں کہ مودی جی، اچانک اور حیرت انگیز فیصلوں کے ذریعہ سب کو حیرت میں ڈالنے کا ہنر جانتے ہیں۔ اس معاملہ میں بھی آپ کوئی حیرت انگیز اقدام دیکھ سکتے ہیں‘‘۔ جین نے مغربی بنگال میں وی ایچ پی کارکنوں کی گرفتاریوں پر چیف منسٹر ممتا بنرجی کی مذمت کی اور کہاکہ اس ریاست میں رام نومی جلوسوں کے ساتھ زعفرانی انقلاب شروع ہوچکا ہے۔ ممتا بنرجی اگر (مسلمانوں کی) خوشنودی کی سیاست بند نہیں کریں گی تو وہ دن دور نہیں ہندو جذبات میں مخالف ٹی ایم سی ووٹوں میں تبدیل ہوجائیں گے۔ جین نے مغربی بنگال ریاستی نظم و نسق کی مذمت کرتے ہوئے کہاکہ ایک طرف وہ رام نومی جلوسوں کی اجازت دینے سے انکار کررہا ہے تو دوسری طرف محرم جلوسوں پر آنکھیں بند کرلی گئی ہیں۔ جین نے کہاکہ ’’محرم کے جلوسوں میں کمسن بچے بھی اسلحہ تھام لیتے ہیں ریاستی انتظامیہ ان کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کرتا۔ ایسا رویہ دو طبقات کے مابین منافرت پیدا کرتا ہے‘‘۔

TOPPOPULARRECENT