Wednesday , September 20 2017
Home / مذہبی صفحہ / مسئلہ طلاق ثلاثہ پر سپریم کورٹ کا منقسم فیصلہ

مسئلہ طلاق ثلاثہ پر سپریم کورٹ کا منقسم فیصلہ

قرآن مجید قانونِ سماوی ہے جو تمام قوانین اراضی سے مافوق و ماوراء ہے اس کے ثابت شدہ احکام ناقابل تنسیخ اور ناقابل ترمیم ہیں، وہ اہل اسلام کا دستور حیات اور مصدر اول ہے اس میں اسلام کے بنیادی اور اصولی قوانین ، قدرے اجمال اور قدرے تفصیل سے موجود ہیں۔ نماز ، روزہ ، زکوٰۃ اور حج کی فرضیت قرآن مجید سے ثابت ہے ،اس کا منکر اسلام سے خارج ہے ، اس کے باوصف ان کی ادائیگی کا طریقہ اور ان سے متعلقہ ضروری احکام کی صراحت قران مجید میں نہیں ملتی ۔ نماز کی فرضیت کا حکم تو قرآن میں موجود ہے لیکن اس کو ادا کرنے کاطریقہ قرآن میں موجود نہیں ۔ زکوٰۃ کی فرضیت کاثبوت قرآن مجید میں ہے، لیکن اس کی تفصیل موجود نہیں ، اس کے برعکس اہل اسلام کی معاشرتی زندگی سے تعلق رکھنے والے مسائل کو قرآن مجید نے تفصیل سے بیان کیا ہے ۔ صرف نکاح ، طلاق اور وراثت کے مسائل کو ارکان اسلام نماز ، روزہ، زکوٰۃ اور حج پر قیاس کرلیں تو واضح ہوگا کہ مفروضہ عبادات سے زیادہ تفصیل سے مسلم پرسنل لاء کو قرآن مجید میں بیان کیاگیاہے۔ اس کے باوصف مسلم پرسنل لاء سے تعلق رکھنے والی آیات محدود ہیں اور دنیا کے طول و عرض میں بسنے والے مسلمانوں کو درپیش ہونے والے مسائل غیرمتناہی اور غیرمحدود ہیں ۔ ہر ملک کا مزاج ، رہن سہن ، طرز معاشرت ، تمدن ، آب و ہوا ، طور و طریق اور رسم سب مختلف ہوتے ہیں۔ ہر وقت نت نئے حالات پیش آتے ہیں ایسے وقت میں قرآن و حدیث سے جب تک بنیادی اصول و قواعد مرتب و منضبط نہ ہوں فروعی مسائل کے حل کو راست قرآن مجید سے تلاش کرنا ممکن نہیں ہے اس لئے کہ قرآن مجید عربی زبان میں نبی اکرم ﷺ پر عربوں کے طرز معاشرت اور عرف و رواج کے مابین صحابہ کرام کو پیش آنے والے روزمرہ کے حوادث و واقعات کے تناظر میں نازل ہوا اس لئے جب تک عربی زبان و بیان پر کامل قدرت نہ ہو ، عربوں کا عرف و رواج ، تہذیب و تمدن سے آگاہی نہ ہو ، حضور پاک ﷺ کے ارشادات ، تصریحات اور تشریحات سے کماحقہ واقفیت نہ ہو نیز آپ ﷺ کے بعد صحابہ کرام کے عہد مبارک میں پیش آنے والے مسائل و حوادث میں خلفاء راشدین اور صحابہ کرام کے طرز استدلال سے کامل آشنائی نہ ہو نیز قرآن مجید ، سنت نبوی اور عمل صحابہ کی روشنی میں ائمہ متقدمین نے فروعی و جزوی مسائل کے استنباط و استخراج کیلئے جو اصول و قواعد مرتب کیا ہے اس سے واقفیت و آگاہی نہ ہو تو نہ جامعہ نظامیہ جیسا علمی ادارہ راست قرآن مجید سے استنباط کرسکتی ہے ، نہ دارالعلوم دیوبند ، نہ ندوۃ العلماء ، نہ بریلوی مکتب فکر ، نہ جامعہ ازھر، نہ جامعہ ام القریٰ ، نہ جامعہ مدینہ منورہ اور نہ ہی وہ مسلم ممالک جو طلاق بدعت کو کالعدم قرار دیئے ہیں اس لئے کہ قرآن مجید میں نہ ’’طلاقِ احسن‘‘ کا ذکر ہے ، نہ ’’طلاقِ حسن‘‘ کااور نہ ہی طلاق بدعت کا ۔ نہ طلاقِ صریح کی تفصیل ہے اور نہ طلاقِ کنایہ کا بیان ہے ۔

نہ لفظ خلع کا ذکر ہے اور نہ فسخ نکاح کی تفصیل ، نہ طلاق بالکنایہ کی توضیح ہے اور نہ طلاق تفویض کی تشریح ۔ بناء بریں جمہور اہل اسلام نے مسائل شرعیہ فرعیہ میں ائمہ اربعہ کی تقلید پر اعتماد کیا ہے اور یہی طریقہ سب سے زیادہ محفوظ جامع اور احتیاط پر مبنی ہے چونکہ ہندوستان ، پاکستان اور بنگلہ دیش کے زیادہ تر مسلمان فقہ حنفی کے مقلد ہیں اس لئے ماہرین قانون نے ہندوستان میں مسلم پرسنل لاء کے لئے ہدایہ جیسی فقہ حنفی کی کتاب کو منتخب کیا ہے جس کالازمی مفہوم یہ ہے کہ اس میں ذکر کردہ احکام و مسائل امکانِ خطا کے باوصف دوسری فقہ کے بالمقابل قرآن و حدیث سے زیادہ موافقت اور مطابقت رکھتے ہیں۔ گرچہ ہندوستان میں فقہ حنفی کے علاوہ دیگر ائمہ کے مقلدین اور غیرمقلدین موجود ہیں تاہم مسلم پرسنل لاء میں ان میں زیادہ اختلاف رائے نہیں۔ اس میں کوئی دورائے نہیں ائمہ و فقہاء کے مابین رائے کا اختلاف نیز فروعی مسائل میں ان کا فقہی اختلاف اس اُمت کیلئے رحمت اور سہولت کا باعث ہے اور یہی فقہی تنوع شریعت اسلامیہ کے لچکدار ہونے ، چودہ صدیاں گزرنے کے باوجود ترو تازہ رہنے اور ہرزمان و مکان میں یکساں قابل عمل و قابل نفاذ ہونے کا اہم سبب ہے ۔ البتہ اسلام دشمن عناصر نے اس فقہی تنوع کے ذریعہ قانون ِ اسلام کو بدنام کرنا چاہا اور ہماری ناعاقبت اندیشی سے وہ جزوی طورپر کامیاب ہوئے ہیں۔ حیدرآباد کے مشہورو معزز گھرانے سے تعلق رکھنے والے ایک بزرگ آئی اے ایس آفیسر نے ایک مرتبہ دوران گفتگو مجھ سے کہا تھا کہ وہ کچھ وقت امریکہ میں گزارے ہیں ، امریکہ میں قیام کے دوران ان کی ملاقات ایک امریکی اسکالر سے ہوئی جو کئی کتابوں کا مصنف تھا۔ اس نے سوال کیا کہ آج کل میڈیا میں کونسا موضوع زیربحث ہے ۔ یہ لگ بھگ اسی کے دہائی کی بات تھی ۔ انھوں نے جواب دیا کہ ’’طلاق ثلاثہ‘‘ کا مسئلہ سرگرم ہے ، اخبارات ، ریڈیو پر گرماگرم مباحث ہورہے ہیں ۔ عالم عرب اور مسلم ممالک میں بھی اس کا خوب چرچا ہے اور کئی مسلم ممالک میں اس موضوع پر قانون سازی کا کام جاری ہے ، اس امریکی اسکالر نے مزید استفسار کیا کہ کیا آپ جانتے ہیں کہ کس نے اس مسئلہ کو اس قدر حساس بناکر پیش کیا کہ جس کی وجہ سے ساری مسلم برادری فکرمند ہوگئی ہے ؟ وہ عمررسیدہ آئی اے ایس آفیسر نے نفی میں جواب دیا تو اس نے نہایت متانت اور سنجیدگی سے اقرار کیا کہ وہ اس مسئلہ کو ہوا دینے اور میڈیا میں عام کرنے کامحرک ہے ۔

طلاق ثلاثہ کے مسئلہ پر سپریم کورٹ کے 3.2 کے حالیہ فیصلہ پر بی جے پی حکومت خوش ہے۔ واضح رہے کہ بی جے پی نے اس مسئلہ کو حالیہ دنوں میں زیربحث نہیں لایا ہے بلکہ چالیس سال قبل شروع کی گئی ان کی محنت کایہ ایک حصہ ہے۔ اسی کی دہائی کے اوائل میں اس مسئلہ کو بڑی قوت کے ساتھ اُٹھایا گیا تھا ، اخبارات ، ریڈیو کی نشریات اور دوردرشن کے انٹرویوز کے ذریعہ ہوا دی گئی ، اس کامقصد مسلمان خواتین کو راحت پہنچانا اور ان کی دادرسی کرنا قطعاً نہ تھا بلکہ یہ ایک سیاسی تحریک تھی جو اپنے استحکام و استقرار کے لئے مسلم پرسنل لاء کو بدنام کرنے اور یکساں سیول کوڈ کو نافذ کرنے کیلئے راہ ہموار کرنا تھا ۔ اس بار اس مسئلہ کو اُٹھانے میں تین بنیادی عوامل کار فرمارہے ۔ ۱) چونکہ طلاق ثلاثہ کا مسئلہ شیعہ سنی ، مقلدین ، غیرمقلدین کے مابین اختلافی نوعیت کا ہے ، اس لئے اس حساس مسئلہ کو اُٹھاکر باہم مسلمانوں کو ایک دوسرے کے برسرپیکارکرنا ۔۲) یکساں سیول کوڈ کے لئے راہ ہموار کرنا ۔ ۳) قانونِ اسلامی کو بدنام کرنا ۔

پس ہندوستان کے مسلمانوں نے اس مسئلہ پر مسلک و نظریہ سے بالاتر ہوکر مکمل یکجہتی اور اتحاد کا نمونہ پیش کیا وہ درحقیقت بجائے تفریق کے شیرازہ بندی اور اتحاد کا سبب بن گیا ۔ اب رہا ہندوستان کے جمہوری آئینی نظام میں یکساں سیول کوڈ کو نافذ کرنا بعید از قیاس ہے کیونکہ وہ درحقیقت ملک کا جمہوری ڈھانچہ تبدیل کرنا ہے جو بظاہر ممکن نہیں ہے ۔ البتہ وہ ضرور اس مسئلہ کے ذریعہ اسلام کے آفاقی اور جامع قانون و دستورحیات کو متھم کرنے اور جزوی طورپر تنقید کا نشانہ بنانے میں کامیاب ہوئے ہیں مخفی مبادکہ مرکزی حکومت نے عدالت عظمی کے مقررہ بنچ کو جو رپورٹ پیش کی ہے وہ مرکزی حکومت کی صاف دلی اور خلوص نیت کی غماز ہے جس میں درج ہے : ’’عدالت عظمیٰ طلاق ثلاثہ کو اگر غیردستوری قرار دیتی ہے تو وہ مسلمانوں میں شادی اور طلاق کو باضابطہ و باقاعدہ بنانے کیلئے قانون وضع کرے گی … مسلم برادری میں طلاق کے تینوں اقسام ’’طلاقِ بدعت‘‘، ’’طلاق حسن‘‘ اور طلاق احسن‘‘ یکطرفہ اور ماورائے دستور ہیں۔ مرکز نے عدالت عظمیٰ سے کہا تھا کہ تمام مسلم پرسنل لاء (عائلی قوانین ) کو وراثت ، جائیداد ، طلاق اور شادی کے حقوق دستور سے ہم آہنگ ہونا چاہئے اور انھیں ایک ہی زمرہ میں مساویانہ تصور کیا جانا چاہئے ۔ مرکز نے یہ بھی کہا تھا کہ تین طلاق نہ تو اسلام کا اٹوٹ حصہ ہے اور نہ ہی اکثریت اور اقلیت کے درمیان کاکوئی مسئلہ ہے بلکہ یہ مسلم مردوں وار محروم عورتوں کے درمیان بین طبقاتی رسہ کشی ہے ‘‘ (سیاست نیوز ۲۳اگسٹ ۲۰۱۷؁ء ) ۔ سپریم کورٹ کے متذکرہ فیصلہ پر وزیراعظم ہند نے ٹویٹ کیاور اس فیصلہ کو ایک تاریخی فیصلہ قرار دیا اور مسلم خواتین کو حق مساوات فراہم ہونے سے تعبیر کیا ۔Judgment of the Hon’ble SC on Triple Talaq is historic. It grants equality to Muslim women and is a powerful measure for women empowerment.

فقہ اسلامی کے ایک ادنی طالب علم ہونے کے ناطے میرے ذہن و دماغ میں کچھ سوالات گشت کررہے ہیں پہلا سوال یہ ہے کہ شریعت مطہرہ نے طلاق کا اختیار شوہر کو دیا ہے تو کیا اس فیصلہ کے آنے سے بیوی کو بھی مساویانہ حقوق حاصل ہوتے ہوئے طلاق دینے کا بھی اختیار حاصل ہوگیا ؟ کیا وہ شوہر کی رضامندی کے بغیر اپنا نکاح خود ختم کرسکتی ہے ؟ وہ خواتین جن کو ان کے شوہروں نے بیک وقت تین طلاقیں دی ہیں وہ انصاف کیلئے عدالت عظمیٰ سے رجوع ہوتی ہیں لیکن ازروئے فقہ حنفی بلکہ باتفاقِ ائمہ اربعہ ان خواتین پر تین طلاقیں واقع ہوکر شوہر سے تعلق زوجیت بالکلیہ ختم ہوگیا ۔ ان میں رشتہ نکاح باقی نہ رہا، تاہم ایسا طلاق دینے والا شرعاً جاہل ، ظالم اور گنہگار ہے ۔ دنیا میں تعزیری سزا اور آخرت میں سخت مواخذہ کے قابل ہے۔ علاوہ ازیں غیرمقلد نظریہ کے مطابق مذکورہ طریقہ پر دی گئی طلاق بدعت سے ایک طلاق واقع ہوئی ۔ اس صورت میں مذکورہ خواتین پر ایک طلاقِ رجعی واقع ہوئی اور ایام عدت( تین حیض) میں رجوع نہ کرنے کی بناء وہ شوہر کے نکاح سے خودبخود خارج ہوگئیں۔ اگر یہ خواتین سپریم کورٹ کے اس چھ ماہی امتناع کے مطابق مذکورہ طلاقِ بدعت کو غیرقانونی اور غیرآئینی قرار دیتے ہوئے ناقابل نافذ سمجھتی ہیں تو کیا وہ اس فیصلہ کے منظرعام پر آجانے کے بعد بیوی کو ایک طلاقِ بائن جس میں وہ فی الفور نکاح سے خارج ہوتی ہے لکھ کر روانہ کرتا ہے تو کیا وہ تب بھی قید نکاح میں باقی رہیگی ؟ اگر وہ سمجھتی ہیں کہ بیک وقت دی گئی تین طلاق کو غیردستوری قرار دینے سے وہ ظالم شوہر کو پولیس تک گھسیٹ سکتی ہیں اور ان کے خلاف قانونی چارہ جوئی کرسکتی ہیں تو شریعت مطہرہ کی نظر میں ایسا شخص تعزیری سزا کا مستحق ہے ۔ واضح باد کہ ہندوستانی مسلمانوں نے ہر وقت ہندوستان کے جمہوری نظام اور عدلیہ پر بھروسہ کیا ہے اور آئندہ بھی کرتے رہیں گے ۔ تاہم سپریم کورٹ نے جو طلاق بدعت ( بیک وقت دی گئی تین طلاق) کو جو ناقابل نفاذ قرار دیاہے اس کی وجوہات اور اساس معلوم کرنے کیلئے ۳۹۵ صفحات پر مشتمل فیصلہ باریکی سے پڑھنا ہوگا ۔ امید ہے کہ مسلم پرسنل لاء بورڈ عدالت عالیہ کے مکمل احترام کے ساتھ اس میں جو قانونی پہلو ہیں اس پر بہت جلد روشنی ڈالے گا ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس فیصلہ کے ذریعہ ناعاقبت اندیش ، جاہل جذباتی اور غیرمعقول مسلمانوں پر لگام کسنے میں مدد حاصل ہوگی ۔ واضح باد کہ یہ مسئلہ ان مسائل میں سے ایک ہے جن کو حضرت عمر فاروق ؓ نے صحابہ کرام سے مشاورت کے بعد باجماع صحابہ حل فرمایا اور آپ کے بعد دیگر خلفاء راشدین نے اس کو اختیار کیا ۔ ایک روایت کے مطابق رسول اللہ صلی اﷲ علیہ و آلہٖ و سلم نے فرمایا میرے بعد بہت سی نئی چیزیں ظاہر ہوں گی مجھے سب سے زیادہ پسندیدہ بات یہ ہے کہ تم عمر ؓ کے طریقہ کار کو اختیار کرو (الاصابۃ ۲؍۴۱۰) حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالیٰ عنہ حلفیہ فرماتے ہیں کہ صراط مستقیم وہی ہے جس پر حضرت عمر فاروقؓ تادم زیست کاربند رہے ۔
مشہور تابعی حضرت مجاہد فرماتے ہیں جب لوگ کسی معاملہ میں اختلاف کریں تو دیکھو حضرت عمر کی اس مسئلہ میں کیا رائے تھی پس اسی کو کام لو۔

TOPPOPULARRECENT