Wednesday , September 20 2017
Home / سیاسیات / مسئلہ کشمیر کا سیاسی حل تلاش کرنے پر زور

مسئلہ کشمیر کا سیاسی حل تلاش کرنے پر زور

طاقت کے ذریعہ صورتحال سے نمٹنے کی حکمت عملی درست نہیں ، راجیہ سبھا میں اپوزیشن کا کل جماعتی اجلاس کا مطالبہ

نئی دہلی -18جولائی ( سیاست ڈاٹ کام ) کشمیر کی صورتحال پر اپوزیشن نے آج راجیہ سبھا میں حکومت کی مذمت کرتے ہوئے ایک کُل جماعتی اجلاس طلب کرنے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ اس مسئلہ پر تبادلہ خیال کیا جاسکے اور مطالبہ کیا کہ شورش سے بندوق کی نال پر نمٹنے کے بجائے اُس کا سیاسی حل تلاش کیا جانا چاہیئے ۔ عالمی دہشت گردی اور تشدد کی جو دنیا کے مختلف علاقوں میں جاری ہے بشمول فرانس اور بنگلہ دیش ‘ مذمت کی گئی اور دہشت گردی سے متحدہ طور پر نمٹنے کی عالمی برادری سے اپیل کی گئی ۔ مسئلہ کشمیر پر مختصر مباحث کے دوران قائد اپوزیشن غلام نبی آزاد نے کہا کہ ان کی پارٹی مودی حکومت کی ساتھ دے گی اور ریاست جموں و کشمیر میں عسکریت پسندی سے سختی سے نمٹنے کی تائید کرے گی ‘ تاہم عام شہریوں بشمول بچوں اور خواتین کے خلاف حد سے زیادہ طاقت کا استعمال ناقابل قبول ہے ۔ موجودہ بے چینی کی کئی وجوہات ہیں بشمول بی جے پی کی ٹی ڈی پی کے ساتھ حکومت میں شمولیت ‘ بی جے پی کے بعض ریاستی قائدین کی اشتعال انگیز تقریریں اور آر ایس ایس کے علاوہ پاکستان موجودہ مسئلہ کی بنیادی وجہ ہیں ۔ غلام نبی آزاد نے مسئلہ کی اہمیت اُجاگر کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر پر بندوق کی نال یا گولیوں کے ذریعہ حکومت نہیں کی جاسکتی ۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حد سے زیادہ طاقت کے استعمال لئے خاطیوں کو ذمہ دار قرار دیا جائے اس مسئلہ پر تبادلہ خیال کے لئے ایک کُل جماعتی اجلاس طلب کیا جائے ۔ قائد ایوان ارون جیٹلی نے اعتراف کیا کہ کشمیر کی صورتحال ایک تشویشناک معاملہ ہے تاہم اس ادعا کو مسترد کردیا کہ وادی میں تشدد ریاست میں بی جے پی کی اقتدار میں شرکت کا نتیجہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کوششیں معمول کی صورتحال جلد از جلد بحال کرنے کیلئے جاری ہیں ۔ پورے ملک کو موجودہ صورتحال میں بیک آواز بات کرنی چاہیئے ۔ عام آدمی کو صورتحال کی وجہ سے مصائب کا شکار نہیں ہونا چاہیئے ۔ انہوں نے نوجوانوں سے احتجاج نہ کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ایک عسکریت پسند کی ہلاکت کے خلاف احتجاج کیا جارہا ہے جس کی وجہ سے گرفتاریاں عمل میں لارہی ہیں ۔ جب ہزاروں افراد پولیس پر حملہ کریں تو کارروائی یقینی طور پر کی جائے گی ۔ ملک ‘ علحدگی پسندوں اور عوام کے درمیان قومی مفاد کی بنیاد پر اتحاد ہونا چاہیئے ۔ راجیہ سبھا میں صدرنشین محمد حامد انصاری نے دنیا کے مختلف مقامات پر جون اور جولائی میں دہشت گرد حملوں کا حوالہ دیا جس میں کئی انسانی جانی ضائع ہوئیں اور کئی افراد معذور اور کئی زخمی ہوگئے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ بغیر سوچے سمجھے بربریت انگیز دہشت گرد کارروائیاں ہیں ۔ استنبول میں بم دھماکے ہوئے ‘ کابل اور بغداد میں خودکش بم بردار نے حملہ کیا ‘ نائس ‘ ڈھاکہ ‘ جدہ ‘ قطیف اور مقدس شہر مدینہ منورہ میں بھی دہشت گردی کی گئی جس کی وجہ سے پوری دنیا کو صدمہ پہنچا ۔ انہوں نے کہا کہ پورا ملک اس سلسلہ میں رنج و غم کا اظہار کرتاہے ۔ آفات سماوی میں بھی جیسے بادل پھٹ پڑنے ‘ سیلابوں اور اروناچل پردیش ‘ یو پی ‘ بہار ‘ ہماچل پردیش ‘ آسام ‘ مہاراشٹرا ‘ اتراکھنڈ ‘ مدھیہ پردیش اور ملک کے دیگر چند علاقوں میں جون اور جولائی میں اموات واقع ہوئیںجن پر پورا ملک رنگ و غم کا شکار ہوگیا ۔ ارکان اپنی نشستوں سے اُٹھ کر کھڑے ہوگئے اور ہلاک ہونے والے افراد کی یاد میں خاموشی منائی ۔

TOPPOPULARRECENT