Saturday , August 19 2017
Home / ہندوستان / مسئلہ کشمیر کا سیاسی حل ممکن عدالتی نہیں : سپریم کورٹ

مسئلہ کشمیر کا سیاسی حل ممکن عدالتی نہیں : سپریم کورٹ

نئی دہلی ۔22اگست ( سیاست ڈاٹ کام ) کشمیر میں جاری بدامنی سے سیاسی طور پر نمٹا جانا چاہیئے اور مسئلہ کو عدالتی پیمانہ میں رہتے ہوئے حل نہیں کیا جاسکتا ‘ سپریم کورٹ نے آج یہ بات کہی ۔ عدالت سے سالسیٹر جنرل سے کہا کہ جموں و کشمیر نیشنل پینتھرس پارٹی لیڈر اور سماجی کارکن  و وکیل بھیم سنگھ کی اس مسئلہ پر وزیراعظم نریندر مودی سے ملاقات میں مدد کریں ۔ چیف جسٹس ٹی ایس ٹھاکر کی زیرقیادت بنچ نے کہا کہ یہ مسئلہ کئی پہلوؤں کا حامل ہے اور اس سے سیاسی طور پر نمٹا جانا چاہیئے ۔ ہرمسئلہ کو عدالتی پیمانہ کے مطابق درست نہیں کیا جاسکتا ۔ اس بنچ میں جسٹس اے ایم کھنولکر اور جسٹس ڈی وائی چندرچوڈ بھی شامل تھے ۔ بنچ نے سابق چیف منسٹر جموں و کشمیر عمر عبداللہ کی زیرقیادت ریاستی اپوزیشن جماعتوں کے وفد کی وزیراعظم نریندر مودی سے ملاقات کا حوالہ دیا ۔ بھیم سنگھ سے کہا کہ وہ وفد میں شریک ہوجائیں ۔ سینئر وکیل جب کہا کہ آر ایس ایس کی مرضی سے چلنے والی حکومت انہیں مدعو نہیں کرے گی ‘ عدالت نے سالیسٹر جنرل رنجیت کمار سے بتایا ‘ان کی ملاقات موودی کرانے میں مدد کریں جسے انہوں نے نظرانداز کردیا ۔ بنچ نے کہا کہ آپ یہاں سیاسی بیان نہ دیں ‘ آپ یہ بتائیں کہ سیاسی قیادت سے ملنا چاہتے ہیں یا نہیں ۔ سالیسٹر جنرل نے کہا کہ وزیراعظم سے ملاقات کیلئے وہ شخصی طور پر معتمد داخلہ سے بات کریں گے ۔ بھیم سنگھ نے اپنی درخواست میں کئی راحت کاری اقدامات کے علاوہ جموں و کشمیر میں صدر راج نافذ کرنے کا مطالبہ کیا ۔ بنچ نے بھیم سنگھ سے کہا کہ وادی کی حقیقی صورتحال کے بارے میں مرکز نے جو موقف رپورٹ پیش کی ہے اس پر اپنا جواب دیں ۔ مرکز نے کہا کہ جموں و کشمیر ہائیکورٹ پہلے ہی اس مسئلہ کی سماعت کررہی ہے ۔ لہذا سپریم کورٹ اس درخواست کو مسترد کردے ۔ بنچ نے کہا کہ بھیم سنگھ کے بیانات عدالتی اعتبار سے مطابقت نہ رکھتے ہو لیکن سیاسی اعتبار سے پوری مطابقت رکھتے ہیں ۔مرکز نے اپنی موقف رپورٹ میں کہا تھا کہ صورتحال کی بہتری کے بعد 30جولائی کو وادی میں کئی حصوں میں کرفیو برخواست کردیا گیا ۔سالیسٹر جنرل نے رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 3اضلاع کے چند علاقوں میں ہی کرفیو برقرار ہے ۔

TOPPOPULARRECENT