Sunday , September 24 2017
Home / مضامین / مسئلہ کشمیر کیلئے ’نہ گالی، نا گولی‘ کیساتھ ’بولی‘ کیوں نہیں؟

مسئلہ کشمیر کیلئے ’نہ گالی، نا گولی‘ کیساتھ ’بولی‘ کیوں نہیں؟

 

سدھیندر کلکرنی
کشمیر کے تعلق سے وزیراعظم نریندر مودی نے اس مرتبہ اپنی یوم آزادی تقریر میں جو کچھ کہا، اس میں کچھ تو وقتی اور بزدلانہ، اور کچھ ہچکچاہٹ والا اور محتاط موقف سامنے آیا۔ بلاشبہ کشمیر کے عوام تک پہنچنے کی کوشش ہے، جو شاید بے چینی سے یہ سننے کے منتظر تھے کہ پی ایم وادی کی انتہائی پریشان کن صورتحال کے تعلق سے کیا کہتے ہیں۔ لیکن مشکلات سے دوچار کشمیریوں کو گلے لگانے کیلئے بازو پھیلانا تن من سے نہیں ہوا۔ جو کچھ انھوں نے کہا کہ وہ چند جملوں میں اعتماد بحال کرنے کی کوشش رہا۔ تاہم، انھوں نے وہ عناصر کیلئے تک کچھ خاص گنجائش نہیں چھوڑی جو اُن ناکافی باتوں میں پنہاں مطلب کو سمجھنے اور عملی طریقہ میں اصلاح کے ممکنہ اشارے کھوجنے بے قرار تھے، اور نا ہی اپنی حکومت کے ماضی کے اعتبار سے کچھ جرأت مندانہ نیا اقدام پیش کیا کہ سب سے قدیم مسئلہ کو حل کیا جاسکے جس کا ہندوستان کو 1947ء سے ہی سامنا رہا ہے۔ جو کچھ انھوں نے کہا وہ حسب ذیل ہے (ان کی ہندی تقریر کا میرے الفاظ میں ترجمہ):
’’جموں و کشمیر کی ترقی نہ صرف حکومت جموں و کشمیر بلکہ ہندوستان کے سارے عوام کا بھی عہد ہے۔ ہم فرض کے پابند ہیں کہ اسے دوبارہ جنت بنائیں۔ بہت کچھ نعرہ بازی ہورہی ہے، کافی الزام آرائی اور جوابی الزامات کا سلسلہ جاری ہے، ہر کوئی ایک دوسرے کو نشانہ بنانے میں مشغول ہے۔ مٹھی بھر دہشت گرد اور علحدگی پسند نئی نئی چالیں اختیار کررہے ہیں۔ ان کے تعلق سے نرم ہونے کا سوال ہی نہیں ہے۔ لیکن میرے ذہن میں سب واضح ہے کہ اس لڑائی کو کس طرح جیتا جائے۔ ہم اس مسئلہ کو گالیوں یا گولیوں کے ذریعہ حل نہیں کرسکتے۔ ہم اس مسئلہ کو ہر ایک کشمیری کو گلے لگا کر حل کرسکتے ہیں۔ اسی طرح 125 کروڑ لوگوں کا یہ ملک خود کو سنبھال رکھنے اور آگے بڑھنے میں کامیاب ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم اس عہد کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں …… ’’نہ گالی سے، نا گولی سے، پریورتن ہوگا گلے لگاکر کے‘‘۔

مودی کی باتوں میں واضح پن کا فقدان
ہم تمام بشمول کشمیریوں کو وزیراعظم کے تیقن کا خیرمقدم کرنا چاہئے کہ گولیاں (بشمول سکیورٹی فورسیس کے گولیاں اور پیلٹس) مسئلہ کشمیر کا کوئی حل نہیں ہیں۔ ہمیں ان کی حکومت کے بیان کردہ عہد کا بھی خیرمقدم کرنا چاہئے کہ کشمیر کے عوام کو ’’گلے لگانا‘‘ ہے۔ اس کے ذریعہ ان کا شاید یہ مطلب ہے کہ کشمیریوں کے دل و دماغ جیتنا کشمیر کی گڑبڑزدہ صورتحال میں مثبت بدلاؤ لانے میں کلید ہے۔ تاہم، مودی کی باتوں میں واضح پن کا صریح فقدان ہے۔ اور واضح پن کے فقدان کو بالخصوص کشمیری عوام انھیں ’’گلے لگانے‘‘ کے عہد کے فقدان پر بہ آسانی محمول کرسکتے ہیں۔ وزیراعظم نے ماضی میں یہ مشہور فقرہ دہرایا تھا کہ ’’کشمیریت، جمہوریت، انسانیت‘‘، جسے پہلی بار اُن کے پیشروؤں میں سے اٹل بہاری واجپائی نے کہا تھا۔
واجپائی کی کشمیریوں تک پہنچنے کی کوشش اور اختراعی فقرہ جس میں انھوں نے مصالحت کے اپنے وعدے کو پیش کیا، اس میں معقول حد تک حتمی رائے پنہاں ہے۔ تاہم، مودی کے معاملے میں ایسا نہیں ہے۔ ان کی وزارت عظمیٰ کے ابتدائی تین سال نے انھیں کشمیریوں کے دلوں اور ذہنوں سے قریب تر نہیں لایا ہے۔

مودی پر یقین کیوں کیا جائے ؟
اس کی وجوہات ہیں کہ کشمیریوں کو شکوک و شبہات کیوں ہیں، جو بے اعتمادی سے جڑے ہیں۔ پہلی یہ کہ اگرچہ مودی کی حکومت دہشت گردوں اور علحدگی پسندوں سے نمٹنے میں بجاطور پر مصالحت سے گریزاں رہی ہے، لیکن کشمیر کے عام لوگوں کے ساتھ اس کے برتاؤ میں شاید ہی کوئی انسانی یا تسلی بخش پہلو دیکھنے میں آیا ہے۔ بقیہ ملک میں مودی کے حامیوں کی اکثریت نے جس میں خصوصیت سے موافق مودی میڈیا کا جارحیت پسند جتھہ شامل ہے، کسی ہچکچاہٹ کے بغیر تمام کشمیری مسلمانوں پر غدار کا لیبل لگادیا ہے۔ نہ خود مودی اور نا ہی حکومت اور بی جے پی میں ان کے کئی سینئر رفقاء میں سے کسی نے (وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ کو منفرد استثنا کے ساتھ) بروقت یا واضح مداخلت نہیں کی کہ عام کشمیری مسلمانوں کو بدنام کرنے کے اس خطرناک اور روزانہ کے رجحان کو روکا جائے۔ یہ معاملہ روا رہنے کے بعد کس طرح کشمیریوں کو آسانی سے یقین آسکتا ہے کہ وزیراعظم اور مرکز میں ان کی حکومت کا اب من بدل گیا اور وہ انھیں ’’گلے لگانے‘‘ آمادہ ہیں۔
دوسری وجہ یہ ہے کہ کیوں کشمیریوں کا وزیراعظم کی ان تک پہنچنے کی کوشش پر یقین کرنے کا امکان نہیں ہے۔ ’’ہر ایک کشمیری کو گلے لگانے‘‘ کیلئے اپنی آمادگی سے فی الواقعی ان کا کیا مطلب ہے؟ کیا اس کا مطلب ہے ان کی حکومت اب بات چیت کے سنجیدہ عمل میں ہر ایک کشمیری مکتب فکر کو شامل کرنے آمادہ ہے؟ لیکن مذاکرات (بولی) اہم لفظ ہے جو مودی کی تقریر میں نہیں ملا۔
مودی کشمیر کو گلے لگانے تیار مگر
’’مذاکرات‘‘ کے تعلق سے خاموش
قوم سے یوم آزادی خطاب وزیراعظم کیلئے کشمیریوں اور عمومی طور پر اپنے تمام ہم وطنوں کو یقین دہانی کرانے کا موزوں موقع تھا: ’’مسئلہ کشمیر نہ گالی سے، نا گولی سے، بلکہ بولی سے حل کیا جاسکتا ہے‘‘۔ لیکن مودی لفظ ’’مذاکرات‘‘ کو استعمال کرنے میں متذبذب یا غیرمائل رہے۔ اس سے ایک پریشان کن سوال جنم لیتا ہے: اگر مرکز کشمیری مکتب فکر کے ہر ایک گوشہ سے بات کرنے میں متذبذب یا نارضامند ہے تو کس طرح وادی کے عوام یقین کرسکتے ہیں کہ وہ ہر ایک کشمیری کو ’’گلے لگانے‘‘ آمادہ ہے؟ آخرکار، برگشتہ کردیئے گئے لوگوں (اور اس تعلق سے کوئی شبہ یا غلط فہمی نہ رہے کہ موجودہ طور پر کشمیریوں کی اکثریت کو بیگانگی کی خلیج نے ہندوستان سے علحدہ رکھا ہوا ہے) کو ’’گلے لگانا‘‘ یا ان کے دل اور ذہن جیتنے کی خواہش رکھنا ان کے ساتھ سنجیدہ بات چیت کرنے میں آمادگی کے بغیر کھوکھلا رہے گا۔ وزیراعظم ہی اس تعلق سے غیریقینی کیفیت کو ختم کرسکتے ہیں۔ امید ہے کہ وہ اپنے ارادہ اور عزم کو واضح کرتے ہوئے آنے والے دنوں میں بیان دیں گے کہ مرکز کشمیر میں تمام حاملین مفاد کے ساتھ بامعنی بات چیت پر آمادہ ہے، جن میں وہ علحدگی پسند شامل ہوں جو تشدد کی راہ چھوڑ چکے ہیں۔
مودی کشمیریوں کو فوری طور پر تیقن دے سکتے ہیں اور انھیں دینا چاہئے تاکہ اس خیال کو تقویت ملے کہ وہ واقعی انھیں ’’گلے لگانے‘‘ آمادہ ہیں۔ کشمیریوں کی اکثریت اور حتیٰ کہ پی ڈی پی جو بی جے پی کے ساتھ جموں و کشمیر میں برسراقتدار مخلوط حکومت کی قیادت کررہی ہے، اِن دنوں بی جے پی کے حامیوں کے اڑیل گوشہ کی اس کوشش پر مشتعل ہیں کہ دستور کے آرٹیکل 35-A کو منسوخ کرایا جائے۔ مذکورہ دفعہ جموں و کشمیر کے رہنے والوں کو خصوصی درجہ عطا کرتی ہے۔ چیف منسٹر جموں و کشمیر محبوبہ مفتی نے مرکز کو متنبہ کیا ہے کہ ’’آرٹیکل 35-A کو چھیڑا نہ جائے، کیونکہ نتائج و عواقب مرتب ہوں گے‘‘۔

مودی ہند ۔ پاک مشترک تاریخ بھول گئے
مسئلہ کشمیر کے بیرونی پہلو میں پاکستان شامل ہے، جس کا ناقابل تردید مفاد مضر ہے۔ مودی نے پاکستان کے ساتھ بات چیت کے احیاء کے تعلق سے کچھ نہ کہا۔ درحقیقت، انھوں نے تو اپنی یوم آزادی تقریر میں پاکستان کا ذکر تک نہیں کیا۔ ٹھیک نہیں، بالکلیہ نامناسب۔ یہ تو پاکستان کی آزادی کے بھی 70 سال کا موقع رہا۔ وہ خطے جو پاکستان اور (بعد میں) بنگلہ دیش بنے ہندوستان کی جدوجہد آزادی کا اٹوٹ حصہ تھے۔ اگر ہمارا مشترک ماضی ہمیں جوڑے رکھتا ہے تو ہمارے مستقبل کا بھی یہی معاملہ ہے۔ خیرسگالی کی رسم ادا کرنے سے کہیں زیادہ مودی پاکستان کے عوام کو ان کے ملک کی تشکیل کے 70 سال پر انھیں مبارکباد دیتے ہوئے خلوص کا مثبت پیام بھیج سکتے تھے۔
کیسی عجیب صورتحال ہوئی، واقعی پریشان کن ستم ظریفی، کہ چین نے اپنے نائب وزیراعظم وانگ یانگ کو پاکستان کی آزادی کے 70 سالہ جشن کی تقاریب میں ’’مہمان خصوصی‘‘ کے طور پر حصہ لینے کیلئے اسلام آباد کو بھیجا، جب کہ ہندوستانی وزیراعظم نے اپنی تقریر میں پاکستان کا تذکرہ تک نہیں کیا۔ یہ حقیقت مساوی طور پر پریشان کن ہے کہ اُدھر پاکستان کے نئے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے یوم آزادی کے اسی موقع پر ایک روز قبل ہندوستان کو جنوبی ایشیا میں اس کے ’’توسیع پسندانہ عزائم‘‘ پر جم کر ہدف تنقید بنایا۔
جہاں تک پاکستان کا معاملہ ہے، وزیراعظم مودی کی یوم آزادی تقریر کا ایک نمایاں اور خوش آئند عنصر ہے کہ انھوں نے بلوچستان کا نام نہیں لیا۔ گزشتہ سال 15 اگست کی اپنی تقریر میں ان کا بلوچستان کا تذکرہ کرنا واضح طور پر اشتعال انگیز، نیز ہندوستان کے قومی مفادات کیلئے بے مصرف رہا۔ اس نے پاکستانیوں کو ایسا پیام پہنچایا کہ ہندوستان نہیں چاہتا کہ اُن کا ملک متحد برقرار ہے۔ اِس مرتبہ تقریر سے بلوچستان تو غائب ہوگیا ، لیکن ’’بولی‘‘ (مذاکرات) کی بات شامل نہ ہوئی۔
( مصنف ، سابق وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی کے مددگار رہے ہیں)

TOPPOPULARRECENT