Tuesday , April 25 2017
Home / اضلاع کی خبریں / مسائل کے حل کیلئے وسائل کے استعمال کی منصوبہ بندی ضروری

مسائل کے حل کیلئے وسائل کے استعمال کی منصوبہ بندی ضروری

بہتر نظم و نسق کیلئے عہدیداروں کا تعاون ناگزیر‘ کلکٹرس ‘ ایس پیز کے اجلاس سے چیف منسٹر کا خطاب

نظام آباد:15؍ ڈسمبر ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز)ترقیاتی کام ، فلاحی اسکیمات سے عوام کو فائدہ پہنچانے کی غرض سے نئے اضلاع کا قیام عمل میں لایا گیا ۔ نظم ونسق میں سہولت فراہم کرنے کیلئے عہدیداروں کا تعاون ناگزیر ہے ۔ ان خیالات کا اظہار چیف منسٹر مسٹر چندرشیکھر رائو کل ضلع کلکٹرس ، جوائنٹ کلکٹرس ، ایس پیز ، پولیس کمشنرس کے ساتھ منعقدہ جائزہ اجلاس سے مخاطب کرتے ہوئے کیا۔ مسٹر چندرشیکھر رائو نے کہا کہ کئی پارٹیاں ریاست میں اقتدار پر آئی اور کئی پروگرامس کو متعارف کیا اس کے باوجود بھی سماج میں مایوسی رہی عوام کی ضرورت کیا ہے اس بات کا پتہ چلاتے ہوئے اس کے حل کیلئے اقدامات کریں۔ عوام میں موجودہ انقلاب حد سے تجاوز کرنے کی صورت میں اس کا غلط فائدہ اٹھانے کے امکانات ہیں ۔ اس خصوص میں انتظامیہ فیصلہ کن اقدامات کریں اور عوام کی زندگیوں میں تبدیلی لائیں اور سماج میں موجودہ برائیوں کے خاتمہ کیلئے اقدامات کریں ۔ حکومت کاکام منظوریوں کا اعلان کرنا نہیں ہے اور پیسے سے سب کچھ ہونے والا نہیں ہے بہترین پالیسیوں کو متعارف کریں اور اس سے عوام کی زندگیوں میں تبدیلی آنے کے امکانات ہیں ۔ ٹی ایس آئی پاس کے ذریعہ 2500 صنعتوں کا قیام عمل میں آیا ہے ۔ مشن کاکتیہ کے ذریعہ تالابوں کی کشادگی عمل میں لائی گئی ۔ ہریتا ہرم کے ذریعہ سرسبز و شاداب انجام دیا جارہا ہے ۔ قمار بازی ، گڑبہ کے خاتمہ اور گڑمبہ تیار کرنے والی خواتین کو روزگار کی فراہمی ، فلاحی اسکیمات میں ریاست ملک گیر سطح پرریاست سر فہرست رہا ۔ 30 ہزار کروڑ روپئے خرچ کرتے ہوئے خاندانوں کو نقصان پہنچانے والے برائیوں کا خاتمہ کیا گیا ۔ ضلع کلکٹر س سے مخاطب کرتے ہوئے چیف منسٹر نے کہا کہ نظم و نسق کی سہولت کی فراہمی کیلئے نئے اضلاع کا قیام عمل میں لایا گیا ۔ 3تا 4 لاکھ خاندانوں پر مشتمل ایک ضلع ہے اور ضلع کلکٹرس ایس پیز کے پاس مکمل تفصیلات ہونے چاہی تاکہ نظم و نسق میں سہولت فراہم ہوسکے ۔ قدیم روایت کو خیر باد کریں ۔ ہر ضلع میں ایک ہی پالیسی کا ہونا ضروری نہیں ہے ضلع میں ضروریات کے مطابق منصوبہ بندی کریں اور مقامی وسائل کے استعمال خاص طور سے شہر اور دیہی ، زرعی ، صنعتی اعداد و شمار کے مطابق ضلع کی اہمیت ہوتی ہے ۔ اس کے مطابق منصوبہ بندی کریں اور اس طرح ہر ضلع میں ہونی چاہئے ۔ چیف منسٹر مسٹر چندر شیکھر رائو نے کہا کہ مشن کاکتیہ کو بخوبی انجام دیا گیا اور بہترین بارش کی وجہ تالابیں لبریز ہوئے ہیں اور مچھلیوں کی افزائش، مشن بھاگیرتا کے کاموں کا جائزہ لیں ایس ٹی، بی سی و دیگر طبقات کیلئے متعارف کردہ کاموں کا جائزہ لینے ، سابق میں منظور کردہ چرائی زمینوں کا جائزہ لیں اور اس کے استعمال کیلئے منصوبہ بندی کریں۔ قومی شاہرائوں کی تعمیر کیلئے بڑے پیمانے پر فنڈس کی منظوری عمل میں آئی ہے اس کی تعمیر کیلئے ضرورت کے مطابق تعاون پیش کریں اور اراضی کا حصول ، پراجیکٹوں کی ضرورت کے مطابق اراضی کا حصول اور مرکزی حکومت کی پالیسی کا اثر ریاست پر ہورہا ہے ۔ کیاش لیس لین دین کو فروغ دینے ہر ضلع کلکٹر کو تین کروڑ روپئے فراہم کئے جارہے ہیں ۔ ضرورت کے مطابق ہنگامی صورت میں اس کا خرچ کریں ۔ ایم ایل سی ، ارکان اسمبلی ، ارکان پارلیمنٹ کے فنڈس کا بھی استعمال کریں۔ ہاسپٹلس اور دواخانوں میں بنیادی سہولتوں کی فراہمی کیلئے اقدامات کریں۔ چیف منسٹر نے شی ٹیم کے قیام پر بھی تفصیلی روشنی ڈالی ۔ دیہاتوں میں شمشان گھاٹس کی تعمیر ، مسلم اور کرسچن کیلئے قبرستانوں کا قیام اس کیلئے فنڈس کا استعمال ، کلکٹرس اور جوائنٹ کلکٹرس کے تعاون سے عوام کو بہترین سہولتیں فراہم کی جاسکتی ہے ۔ چیف منسٹر کے کلکٹرس کانفرنس میں ضلع نظام آباد سے ضلع کلکٹر ڈاکٹر یوگیتارانا ، پولیس کمشنر کارتیکیا ، ضلع کاماریڈی سے ضلع کلکٹر ستیہ نارائنا اور ضلع ایس پی شویتا ریڈی نے شرکت کی ۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT