Wednesday , September 20 2017
Home / ہندوستان / مساجد میں اذاں کیلئے لاوڈاسپیکرس کا استعمال

مساجد میں اذاں کیلئے لاوڈاسپیکرس کا استعمال

سپریم کورٹ کی رہنمایانہ ہدایات پر عمل کیا جائے: مدراس ہائیکورٹ

چینائی ۔ 16 اگست (سیاست ڈاٹ کام) مدراس ہائیکورٹ نے آج یہ احساس ظاہر کیا کہ مذہبی آزادی ایک بنیادی حق ہے جس میں مداخلت نہیں کی جاسکتی لیکن مساجد میں اذاں کیلئے استعمال ہونے والے ساونڈ سسٹم کے سلسلہ میں سپریم کورٹ کی رہنمایانہ ہدایات پر عمل کیا جانا چاہئے۔ چیف جسٹس اندرابنرجی اور جسٹس ایم سندر پر مشتمل بنچ نے اس معاملہ مںی دائر کردہ مفادعامہ کی درخواست کی سماعت کرتے ہوئے ان احساسات کا اظہار کیا۔ مفادعامہ کی درخواست میں الزام عائد کیا گیا ہیکہ ضلع کوئمبتور کے پولچی تعلقہ میں عہدیدار مساجد سے لاوڈاسپیکر بے تحاشہ انداز میں ضبط کررہے ہیں اور یہ بھی معلوم نہیں کیا جارہا ہیکہ ان لاوڈاسپیکرس سے جو آواز پہنچ رہی ہے وہ مقررہ حد میں ہے یا نہیں۔ درخواست گذار شاہنواز خان صدر پولچی ایکیا جماعت نے کوئمبتور رورل سپرنٹنڈنٹ پولیس اور ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ پولیس کو لاوڈاسپیکرس کی ضبطی سے روکنے کی خواہش کی۔ آج جب اس درخواست پر سماعت شروع ہوئی، بنچ نے کہا کہ نماز کی ادائیگی بنیادی حق ہے اور اس میں مداخلت نہیں کی جاسکتی۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہیکہ درخواست گذاروں کو آواز کی سطح کے معاملہ میں سپریم کورٹ کی رہنمایانہ ہدایات پر عمل کرنا چاہئے۔ بنچ نے درخواست گذار کو لاوڈ اسپیکرس ضبط کئے جانے کی تفصیلات پر مشتمل حلف نامہ داخل کرنے کی ہدایت دی اور آئندہ سماعت 4 ستمبر کو مقرر کی ہے۔ درخواست گذار نے سپریم کورٹ کی ہدایات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر لاوڈاسپیکر کی آواز مقررہ حد میں ہو تو انہیں ضبط نہ کیا جائے بصورت دیگر متعلقہ حکام کو کارروائی حق ہے۔

TOPPOPULARRECENT