Wednesday , September 20 2017
Home / شہر کی خبریں / مساجد میں افطار و دعوت ، انتظامات کیلئے صرف ارکان اسمبلی کی شمولیت

مساجد میں افطار و دعوت ، انتظامات کیلئے صرف ارکان اسمبلی کی شمولیت

ارکان قانون ساز کونسل و کارپوریٹرس کی سفارشات بے خاطر ، حکومت سے مسلسل نمائندگیاں
حیدرآباد۔/23جون، ( سیاست نیوز) تلنگانہ حکومت کے رمضان پیاکیج کے تحت شہر اور اضلاع کی مساجد میں افطار اور دعوت کے انتظام میں صرف ارکان اسمبلی کو شامل کیا گیا جبکہ ارکان قانون ساز کونسل اور بلدی کارپوریٹرس حکومت سے نمائندگی کررہے ہیں کہ مساجد کے انتخاب میں ان کی سفارشات کو بھی شامل کیا جائے۔ بتایا جاتا ہے کہ ٹی آر ایس سے تعلق رکھنے والے کئی ارکان کونسل  اور بلدی کارپوریٹرس نے اس سلسلہ میں حکومت سے نمائندگی کی اور ان کی سفارش کردہ مساجد کو بھی رمضان پیاکیج کے تحت شامل کرنے کی درخواست کی۔ ٹی آر ایس حکومت نے گذشتہ سال رمضان پیاکیج کا آغاز کیا تھا اور اس سال بھی صرف ارکان اسمبلی سے مساجد کے نام حاصل کئے گئے تھے۔ گریٹر حیدرآباد کے حدود میں 100 اور اضلاع میں 100مساجد کا انتخاب کیا جاتا ہے۔ شہر میں ہر رکن اسمبلی 4 مساجد کے نام پیش کرتے ہیں جبکہ اضلاع میں ہر اسمبلی حلقہ کے ہیڈکوارٹر پر ایک مسجد میں رمضان پیاکیج پر عمل کیا جارہا ہے۔ جاریہ سال بھی ارکان اسمبلی سے مساجد کے نام حاصل کئے گئے اور ناموں کو تقریباً قطعیت دے دی گئی۔ اب جبکہ رمضان پیاکیج کے تحت غریبوں میں کپڑوں کی تقسیم کا عمل کل جمعہ سے شروع ہوگا کئی ارکان قانون ساز کونسل اور ارکان پارلیمنٹ نے حکومت سے نمائندگی کہ مساجد کے انتخاب میں ان کی رائے بھی شامل کی جائے اور ان کی سفارش کردہ مساجد میں دعوت افطار، طعام اور کپڑوں کی تقسیم کا اہتمام کیا جائے۔ مختلف عوامی نمائندوں نے اس سلسلہ میں حکومت اور محکمہ اقلیتی بہبودکو مکتوب روانہ کیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ حکومت ان تجاویز کا جائزہ لے رہی ہے تاہم نئے ناموں کی شمولیت اس مرحلہ میں ممکن نہیں۔ ہوسکتا ہے کہ آئندہ سال ارکان اسمبلی کے ساتھ ارکان کونسل سے بھی مساجد کے نام حاصل کئے جائیں گے۔ لمحہ آخر میں حکومت مساجد کی تعداد میں اضافہ پر بھی غور کررہی ہے تاکہ ارکان کونسل کو مطمئن کیا جاسکے۔ اس پیاکیج کے تحت منتخب کردہ مساجد میں 26 جون کو دعوت افطار اور طعام کا انتظام کیا جائے گا۔ اسی دن چیف منسٹر کی دعوت افطار ہے۔ ہر مسجد میں 1000 افراد کیلئے طعام کا انتظام رہے گا اور مسجد کمیٹی کو حکومت کی جانب سے 2 لاکھ روپئے فراہم کئے جارہے ہیں جس کے تحت بریانی اور دیگر لوازمات سربراہ کئے جائیں گے۔ ہر مسجد کے تحت 1000 کپڑوں کے پیاکٹس کی تقسیم عمل میں آئے گی۔ دوسری طرف چیف منسٹر کی دعوت افطار کیلئے دعوت نامہ حاصل کرنے ٹی آر ایس قائدین کے علاوہ مختلف تنظیموں کے نمائندوں اور سیاسی کارکنوں کی دوڑ دھوپ جاری ہے۔ دعوت افطار میں داخلہ بذریعہ دعوت نامہ رہے گا اور 6000 افراد کی گنجائش رکھی گئی ہے۔ حکومت نے ہجوم سے نمٹنے کیلئے اس مرتبہ زائد انکلوژرس کا انتظام کیا ہے اور چیف منسٹر کے ساتھ انتہائی اہم شخصیتوں کا انکلوژر صرف 150 شخصیتوں پر مشتمل رہے گا۔اس زمرہ کے زائد کارڈز حاصل کرنے کیلئے مختلف وزراء نے عہدیداروں سے ربط قائم کیا ہے۔ وی وی آئی پی زمرہ کے کارڈز کے سلسلہ میں جو فہرست تیار کی گئی وہ کارڈز کی تعداد سے زیادہ ہے اور اس میں سے کئی کارڈز تو وزراء اپنے لئے زائد حاصل کرچکے ہیں۔ ایسے میں اہم مذہبی شخصیتوں اور اعلیٰ عہدیداروں کو اس زمرہ کا کارڈ فراہم کرنا اقلیتی بہبود کیلئے دشوار کن ہوچکا ہے۔ کئی کاغذی اور چھوٹی تنظیموں کے قائدین اقلیتی بہبود کے عہدیداروں سے رجوع ہوکر وی آئی پی کی مانگ کرتے ہوئے دیکھے گئے۔ ٹی آر ایس پارٹی کے قائدین اور کارکنوں کو کارڈ کے حصول کیلئے وزراء اور عوامی نمائندوں کے پاس دوڑ دھوپ کرتے ہوئے دیکھا گیا۔ کئی اقلیتی قائدین تو سکریٹریٹ پہنچ کر وی آئی پی کارڈ کی پیروی میں لگ گئے۔ عہدیداروں کا کہنا ہے کہ وی وی آئی پی اور وی آئی پی زمرہ میں کم گنجائش کے سبب کارڈز کی فراہمی دشوار کن مسئلہ ہے۔ کوئی بھی شخص وی آئی پی سے کم کارڈ حاصل کرنا نہیں چاہتا۔ ایسے میں چیف منسٹر کی دعوت افطار کے مدعوئین سے نمٹنا پولیس کیلئے چیلنج رہے گا۔ یہی وجہ ہے کہ ہر انکلوژر کے پاس بیریکیٹس لگائے جارہے ہیں تاکہ ایک زمرہ سے دوسرے زمرہ میں پھلانگنے کی کوشش نہ کی جاسکے۔

TOPPOPULARRECENT