Tuesday , September 26 2017
Home / Top Stories / مساجد کی جاسوسی کرنے ڈونالڈ ٹرمپ کی اپیل

مساجد کی جاسوسی کرنے ڈونالڈ ٹرمپ کی اپیل

امریکہ آنے سے مسلمانوں کو روکنا ضروری، ٹرمپ کی بیان بازی فضول، ہلاری کلنٹن

واشنگٹن،16 جون (سیاست ڈاٹ کام) ریپبلکن پارٹی کے ممکنہ صدارتی امیدوار ڈونالڈ ٹرمپ نے دہشت گردی کو رکنے کی کوششوں کے تحت مساجد کی جاسوسی کرنے کی اپیل کی ہے وہ اب بھی اپنے اس بیان پر قائم ہیں کہ مسلمانوں کے امریکہ آنے پر پابندی لگادینی چاہیے ۔ حالانکہ ان کی پارٹی کے دیگر لوگ اس بات کی وجہ سے ان پر تنقید کرتے ہیں۔ٹرمپ نے اور لینڈو میں ہم جنسوں کے نائب کلب پر حملہ کے بعد ایک مرتبہ پھر یہ بات دہرائی ہے کہ مسلمانوں کے امریکہ میں داخلہ پر عارضی پابندی لگا دینی چاہیے ۔ یہ حملہ امریکہ میں پیدا ہوئے ایک مسلمان نے کہا ہے یہ افغان تارکین وطن کا بیٹا تھا۔ اس نے اتوار کو حملہ کرکے 49لوگوں کی جان لے لی تھی۔نیویارک کے ایک زمینوں کے ڈیلر نے کہا ”فلوریڈا کا حملہ آور امریکہ میں پیدا ہوا تھا مگر اس کے والدین نہیں۔ اس کے خیالات یہاں پیدا نہیں ہوئے تھے ۔ٹرمپ نے اٹلانٹا میں ایک ریلی میں کہا ”ہمیں مساجد کو چیک کرنا پڑے گا اور دوسرے مقامات کی بھی نگرانی کرنی پڑے گی یہ ایک مسئلہ ہے اگر ہم نے اسے حل نہ کیا تو یہ ہمارے ملک کو زندہ کھا جائیں گے ۔”ٹرمپ نے نومبر میں بھی مساجد کی نگرانی کی بات کہی تھی اس کے علاوہ وہ امریکہ میں داخل ہونے والے شامی پناہ گزیں کی پوری معلومات کی فہرست رکھتے کے بھی حق میں ہیں۔ اورلینڈ کے حملہ آور عمر متین کے بارے میں حکام کا خیال ہے کہ اس نے انٹرنیٹ پر انقلابی نظریات سے متاثر ہوکر اپنے آپ یہ حرکت کی تھی۔ امریکہ۔ اسلامی تعلقات کونسل کے مواصلاتی ڈائریکٹر ابراہم ہوپر نے کہا امریکی مساجد میں انتہا پسندی یا تشدد کا سبق نہیں پڑھایا جاتا۔ بلکہ ریسرچ سے ثابت ہوتا ہے کہ مساجد میں آنے والوں میں اعتدال پسندی آتی ہے ۔  ممتاز ری پبلکن لیڈروں نے اس ہفتہ خود کو مسلمانوں کے بارے میں ٹرمپ کے بیانات سے الگ کیا۔

ایوان نمائندگان کے اسپیکر پال ریان نے کل کہا کہ انہیں نہیں لگتا کہ مسلمانوں کے داخلہ پر پابندی امریکہ کے مفاد میں ہے ۔ سنیٹر لنڈسے گراہم جو ری پبلکن پارٹی کی نامزدگی کے لئے ٹرمپ کے خلاف کھڑے ہوئے تھے اور پر سخت منعقد کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ ٹرمپ کے ردعمل سے انہیں بے حد غصہ ہے ۔ ڈیموکرٹیک پارٹی کی ممکنہ امیدوار ہلیری کلنٹن نے آج کہا کہ ٹرمپ کی بیان بازی اب او ر بھی اشتعال انگیز ہوچکی ہے انہوں نے کہا کہ امریکہ دہشت گردی سے لڑنے کے لئے امریکہ میں مسلم برادریوں پر انحصار کرتی ہیں اور مسلم اکثریتی ممالک سے اس کی شراکت ہے ۔ہلاری کلنٹن نے کہا ”ڈونالڈ ٹرمپ کے بے کار کے خیالات سے اور لینڈومیں ایک جان بھی نہیں بچائی جاسکتی تھی۔ٹرمپ نے پیر کے روز کہا تھا کہ امریکہ یوروپ اور ہمارے اتحادیوں کو دنیا کے ایسے علاقوں سے لوگوں کی ہجرت روک دینی چاہے جہاں” امریکہ کے خلاف دہشت گردی کی تاریخ ثابت ہے ”جب تک ہم یہ نہ سمجھ سکیں کہ ان خطرات سے کیسے نمٹا جائے ۔انہوں نے کہا پناہ گزینوں کے سیلاب کے ہمراہ انقلابی مسلمان امریکہ میں داخل ہور ہے ہیں اور وہ ہمارے بچوں کو شکار بنانا چاہتے ہیں”۔امیگریشن پر ٹرمپ کی سخت تجاویز سے کئی قدامت پسند ووٹروں میں ان کی مقبولیت بڑھ گئی ہے مگر اقلیتی ،کو انسانی حقوق کے کارکنوں کی جانب سے ان کی مذمت بھی شروع ہوگئی ہے ۔ ان کے سیاسی مخالفین بھی ان کے بیانات کے خلاف ہیں اور انہیں نسل پرست اور متعصب کہتے ہیں ۔

 

دہشت گردی کیخلاف جنگ میں
’’اصطلاحات کا اہم رول ‘‘ :ٹرمپ
واشنگٹن ۔ 16 جون (سیاست ڈاٹ کام) امریکی صدر بارک اوباما کے ذریعہ ڈونالڈ ٹرمپ کی ’’انتہاء پسند اسلام‘‘ کی اصطلاح استعمال کرنے پر کی گئی تنقید کے بعد ری پبلکن کے امکانی صدارتی امیدوار نے آج اپنا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں یہی اصطلاحات اہم رول ادا کرتی ہیں۔ اٹلانٹا میں ایک انتخابی ریالی سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جس طرح دنیا میں ہر ایک کا کچھ نہ کچھ نام ہوتا ہے چاہے وہ انسان ہو، جانور ہو، پہاڑ ہو، کوئی مقام ہو یا کچھ بھی۔ اس طرح اگر ہمیں دہشت گردی کا سامنا ہے تو اسے اسلامی دہشت گردی یا انتہاء پسند اسلام کہنے میں کیا قباحت ہے۔ اگر آپ اصطلاحات کے استعمال سے بھی گریز کریں گے تو آپ ان مسائل کی یکسوئی بھی نہیں کرسکیں گے جن کا آپ کو سامنا ہے۔ انہوں نے اوباما کے ذریعہ لگائے گئے الزام کا جواب دیتے ہوئے یہ بات کہی۔ اوباما نے کہا تھا کہاگر انتہاء پسند اسلام کی اصطلاح  استعمال کی گئی تو اس سے حالات مزید پیچیدہ ہوجائیں گے۔

TOPPOPULARRECENT