Wednesday , September 20 2017
Home / دنیا / مستقبل میں جرمنی اسلامی ملک بن جائیگا : انجیلا مرکل

مستقبل میں جرمنی اسلامی ملک بن جائیگا : انجیلا مرکل

برلن ۔ 20 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) جرمن چانسلر انجیلا مرکل نے آج ایک اہم بیان دیتے ہوئے کہا کہ جرمن شہری یہ بات سمجھنے سے قاصر ہیں کہ کس طرح مسلمان پناہ گزینوں کی یہاں آمد سے جرمن کا نقشہ بالکل تبدیل ہوکر رہ گیا ہے اور اب ایک وقت ایسا آ گیا ہے جہاں ہمیں گرجاؤں سے زیادہ مساجد نظر آئیں گی۔ اخبار فرینکفرٹر الجیمائن زٹینگ نے یہ بات بتائی۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا ملک پناہ گزینوں کی آمد کے بعد یہاں پیدا ہونے والی تبدیلیوں سے ہم آہنگ ہورہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب ہمارے شہر میں گرجاگھروں سے زیادہ مساجد نظر آئیں گی اور یہی حقیقت بھی ہے لیکن اس سے خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ اسلام ایک امن پسند مذہب ہے۔ جرمن میں مسلمانوں کی آبادی 4 تا 5 ملین ہے لیکن حالیہ دنوں میں مسلمانوں کو یہ کہہ کر تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے ترک اور عرب نژاد مسلمان جرمن کی ثقافت سے ہم آہنگ نہ ہوکر صرف بچے پیدا کرنے میں مصروف ہیں۔ چانسلر مرکل کے اس بیان سے یہ واضح ہوجاتا ہیکہ دیگر یوروپی ممالک کی طرح جرمن بھی اسلام کا ایک مضبوط گڑھ بن کر ابھرے گا۔ فرانس میں 30 فیصد ایسے لوگ جن کی عمریں 20 سال یا اس سے کم ہے، مسلمان ہیں۔ جنوبی فرانس میں گرجاگھروں سے زیادہ تعداد مساجد کی ہے۔ یوکے کا بھی کم و بیش یہی حال ہے۔ گذشتہ 30 سالوں میں مسلم آبادی 82000 سے بڑھ کر 2.5 ملین ہوچکی ہے۔ پورے برطانیہ میں اس وقت مساجد کی تعداد 1000 ہے اور ان میں سے بیشتر مساجد ایسی ہیں جہاں پہلے گرجاگھر تھا۔ بلجیم اور نیدرلینڈس میں بھی مسلمانوں کا قابل لحاظ تناسب ہے جبکہ روس میں ہر پانچ نفوس میں سے ایک مسلمان ہے۔ ایک بار لیبیا کے مرحوم ڈکٹیٹر معمر قذافی نے کہا تھا کہ ایک وقت ایسا آئے گا جب یوروپ میں بغیر تلوار اور بغیر بندوق یا کوئی اور ہتھیار استعمال کئے ہوئے اسلام کا بول بالا ہوگا۔ ہمیں دہشت گردوں کی ضرورت نہیں۔ ہمیں خودکش بم حملہ آوروں کی ضرورت نہیں بلکہ زائد از 50 ملین مسلمان (یوروپ میں) اسے ایک مضبوط مسلم براعظم میں تبدیل کردیں گے۔

TOPPOPULARRECENT