Saturday , May 27 2017
Home / شہر کی خبریں / مستقبل میں شمسی توانائی نظام کا موثر اور نمایاں رول

مستقبل میں شمسی توانائی نظام کا موثر اور نمایاں رول

انسٹی ٹیوٹ آف ٹیلی کمیونیکیشن اینڈ الیکٹرانکس میں سہ ماہی تربیت ، روزگار کے زرین مواقع
حیدرآباد ۔ 24 ۔ مارچ : ( سیاست نیوز ) : موجودہ دور میں شمسی توانائی کی اہمیت اور افادیت نہ صرف ہمارے ملک بلکہ بیرونی ملکوں میں بھی بڑھتی ہی جارہی ہے اور مستقبل میں ہماری روزمرہ زندگی میں شمسی توانائی نظام کا موثر اور نمایاں رول ہوگا ۔ یہ بات جناب عاصم ڈائرکٹر انسٹی ٹیوٹ آف ٹیلی کمیونیکیشن اینڈ الیکٹرانکس نے ایک خصوصی انٹرویو میں بتائی ۔ انہوں نے بتایا کہ سولار سسٹم کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کے پیش نظر انہوں نے انسٹی ٹیوٹ میں نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کے لیے سہ ماہی تربیتی پروگرام شروع کیا ہے ۔ جس میں 60 طلباء تربیت حاصل کررہے ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ سولار سسٹم دراصل جاپان کا ایجاد کردہ ہے اور اب کئی ممالک بالخصوص ہندوستان میں اس کی مانگ میں روز افزوں اضافہ ہوتا جارہا ہے ۔ چنانچہ اپنے انسٹی ٹیوٹ میں وہ طلباء کے لیے سرویسنگ ، مینٹننس اور انسٹالیشن کی تربیت دے رہے ہیں ۔ جس سے روزگار کی فراہمی کو یقینی بنایا جاسکے گا ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے شمسی توانائی نظام کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک سسٹم کے ذریعہ چلتا ہے جس کے اندر مختلف رنگوں کے اسٹرپس موجود ہوتے ہیں ۔ جن کی مدد سے سورج کی شعاعوں کو جذب کر کے حرارت پیدا کی جاتی ہے ۔ جس سے کرنٹ پیدا ہوتا ہے ۔ ایک مخصوص ڈیزائننگ کے ذریعہ 12volt اور 60volt کے پینلس تیار کئے جاتے ہیں جن کی مدد سے کیاپ طرز کے بلبس ، ٹیوبس اور برقی پنکھوں میں انہیں استعمال کیا جاتا ہے ۔ استعمال کے دوران شارٹ سرکٹ کا کوئی خطرہ نہیں رہتا ۔ سولار کے ذریعہ نہ صرف پنکھوں ، ریفریجٹرس اور تھری فیس لفٹ کو بھی کنکٹ کرنے کی سہولت حاصل رہتی ہے ۔ جناب عاصم نے مزید بتایا کہ نئی ٹکنالوجی میں سیل فونس ، کی سولار چارجنگ اور کاروں میں سولار اے سی اور بیاٹری چارجنگ ممکن ہے ۔ اس موقع پر ان کے فرزند جناب مصطفی حسن منیجنگ ڈائرکٹر بھی موجود تھے ۔ جو سولار نظام ، الکٹریکل انجینئرنگ اور ٹیلی کمیونیکیشن جیسے شعبوں میں مہارت رکھتے ہیں ۔ محمد عاصم اعجاز نے دہلی کے ٹیلی کمیونیکیشن آئی ٹی کی تکمیل کی اور مختلف اداروں میں نمایاں خدمات انجام دیں ۔ 1990 میں دہلی سے حیدرآباد منتقل ہونے کے بعد انہوں نے پہلی بار ملے پلی میں انسٹی ٹیوٹ آف ٹیلی کمیونیکیشن قائم کیا جہاں سے تقریبا 3000 نوجوانوں نے تربیت حاصل کی اور اب وہ نہ صرف حیدرآباد بلکہ دیگر ریاستوں اور بیرون ممالک جیسے آسٹریلیا ، امریکہ ، سعودی عرب اور کینڈا میں برسر روزگار ہیں ۔ انسٹی ٹیوٹ میں پیجر ، موبائل ، آئی فونس اور اسمارٹ فونس اور دیگر جدید و عصری مواصلاتی آلات کے انسٹالیشن اور ان کی ریپرینگ کی تربیت کا خصوصی انتظام ہے ۔ سولار سسٹم کی اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ دیہاتوں میں بجلی کی سربراہی انتہائی سنگین مسئلہ ہے اور اس کا متبادل صرف شمسی توانائی کا ذریعہ بجلی کا حصول ہے ۔ شمسی توانائی کو ذخیرہ کرنے سے متعلق ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ شمسی توانائی کو بیاٹری میں محفوظ کرلیا جاتا ہے جس کی مدد سے Led سسٹم پر 8 تا 10 گھنٹوں تک برقی کی سربراہی ممکن ہے ۔ موسم باراں کے دوران بھی کم سے کم روشنی میں بیاٹری کو چارج کیا جاسکتا ہے ۔ بیرونی ممالک میں اس سولار پینل پر وینڈ فیانس نصب کئے جارہے ہیں جن کے گھومنے سے برقی تیار ہوتی ہے جس کو Wind energy کہا جاتا ہے ۔ چنانچہ عمارتوں کی چھتوں پر Wind Solar کو نصب کیا جاتا اور اس کے ذریعہ خواہ موسم باراں ہو دیگر موسمیات رات بھر بجلی آسانی سے مہیا کی جاتی ہے ۔ جناب عاصم اعجاز نے مسلم نوجوانوں کو مشورہ دیا کہ وہ اس نظام سے استفادہ کریں اور اس کی تربیت حاصل کریں ۔ کالجس اور اسکولس کے انتظامیہ سے انہوں نے خواہش کی ہے کہ اگر وہ اپنے طلباء وطالبات کو اس تربیتی پروگرام میں شرکت کی ترغیب دیں تو ان کا انسٹی ٹیوٹ انتہائی رعایت کے ساتھ انہیں تربیت فراہم کرے گا ۔ یہ انسٹی ٹیوٹ جامعہ نظامیہ کامپلکس روبرو اسٹیٹ بینک آف حیدرآباد گن فاونڈری میں کام کررہا ہے ۔ اس سلسلہ میں مزید جناب محمد عاصم 9396529439 یا مصطفی حسن 9618272893 پر ربط کریں ۔۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT