Monday , September 25 2017
Home / Top Stories / مستقبل میں کوئی یہودی، کوئی خاتون اور کوئی ہندو بھی امریکی صدر ہوسکتا ہے : اوباما

مستقبل میں کوئی یہودی، کوئی خاتون اور کوئی ہندو بھی امریکی صدر ہوسکتا ہے : اوباما

میری بیٹیوں کے کوئی سیاسی عزائم نہیں، ٹرمپ انتظامیہ کیلئے نیک خواہشات کا اظہار

واشنگٹن ۔ 19 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) سبکدش ہونے والے امریکی صدر بارک اوباما نے خواہش کی کہ امریکہ میں اگر نسلی تنوع کا بول بالا ہوجائے تو کرہ ارض پر امریکہ سے بہتر کوئی دوسرا مقام ہو ہی نہیں سکتا۔ انہوں نے کہا کہ مستقبل میں امریکہ کا صدر اگر کوئی خاتون، کوئی ہندو یا کوئی یہودی بن جائے تو یہ امریکہ کیلئے باعث فخر ہوگا۔ امریکہ کا یہی طرۂ امتیاز ہونا چاہئے کہ ہر مستحق شخص اپنی صلاحیت کی بنیادوں پر ذات، مذہب، رنگ و نسل سے قطع نظر بلندیوں پر پہنچے چاہے وہ سیاسی بلندی ہو یا کسی اور شعبہ میں ملنے والی ترقی۔ ضرورت اس بات کی ہیکہ امریکہ میں ہر ایک کیلئے موقع موجود ہونا چاہئے  جہاں ہر ایک امریکی شہری یہی سمجھے کہ وہ بھی آئندہ ملک کا صدر بن سکتا ہے چاہے وہ کوئی خاتون ہو، کوئی یہودی ہو، کوئی لاطینی ہو یا کوئی ہندو۔ وائیٹ ہاؤس میں اپنے آخری خطاب کے دوران انہوں نے اخباری نمائندوں سے یہ بات کہی۔ یہ ان کا بحیثیت امریکی صدر آخری خطاب تھا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ میں بھی مختلف مذاہب کے پیروکار امن اور سکون کے ساتھ زندگی گذار رہے ہیں۔ ہمیں پتہ نہیں کہ ان میں سے کون کل امریکہ کا صدر بن جائے اسی لئے سب کیلئے موقع کھلا ہونا چاہئے۔ یہ بات انہوں نے اس وقت کہی جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا امریکہ میں دوبارہ کوئی سیاہ فام صدر ہوسکتا ہے۔ 2008ء میں اوباما نے اس وقت ایک نئی تاریخ رقم کی تھی جب وہ واضح اکثریت کے ساتھ امریکہ کے پہلے سیاہ فام صدر بن گئے تھے۔ یہی نہیں بلکہ 2012ء میں دوسری میعاد کیلئے بھی اوباما ہی سب کے پسندیدہ امیدوار تھے۔ 20 جنوری کو بارک اوباما کی جگہ ری پبلکن ڈونالڈ ٹرمپ امریکہ کے 45 ویں صدر کی حیثیت سے حلف لیں گے۔ اوباما نے اپنے اس فیصلہ کا دفاع کیا جہاں انہوں نے ایک زنخہ فوجی سپاہی چیلسی میاننگ کی 35 سالہ قید کی میعاد میں تخفیف کروائی، جس پر الزام تھا کہ اس نے ملک کے کچھ اہم خفیہ دستاویزات وکی لیکس کے حوالے کی تھیں۔

اوباما نے کہا کہ چیلسی نے جیل میں پہلے ہی بہت سخت وقت گذارا ہے اور اس سے ایک سبق بھی حاصل ہوا ہے کہ کوئی یہ سمجھے کہ وہ ملک کے خلاف جاسوسی کرتے ہوئے کبھی پکڑا نہیں جائے گا تو اسے چیلسی کی قید سے سبق لینے کی ضرورت ہے کیونکہ قانون سب کیلئے برابر ہے۔ یاد رہیکہ اوباما نے چیلسی میاننگ کی سزاء کی میعاد میں تخفیف کرواکر دو روز قبل سب کو حیرت زدہ کردیا تھا جس کی نومنتخبہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے بھی مذمت کی تھی۔ اس طرح اب سزاء کاٹنے والی 29 سالہ چیلسی میاننگ کی 17 مئی کو رہائی عمل میں آئے گی جبکہ اس کی رہائی 2045 میں ہونے والی تھی۔ 2013ء میں اسے 35 سال کی سزائے قید سنائی گئی تھی۔ اوباما نے کہا کہ وہ ڈونالڈ ٹرمپ انتظامیہ کیلئے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہیں اور وداعی جملہ کہا کہ ’’ہم سب ٹھیک ٹھاک رہیں گے‘‘۔ تاہم اگر ملک کی سلامتی کو خطرہ لاحق ہوا تو وہ (اوباما) خاموش تماشائی نہیں رہیں گے۔ وائیٹ ہاؤس میں اپنی وداعی پریس کانفرنس سے خطاب کے بعد جو جملہ انہوں نے سب سے آخر میں کہا وہ تھا ’’ہم سب ٹھیک ٹھاک رہیں گے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ ٹرمپ کو بھی انہوں نے کچھ پیچیدہ معاملات کی یکسوئی کیلئے مفید مشورے دیئے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہیکہ وہ (ٹرمپ) ان پر عمل آوری کرتے ہیں یا نہیں۔ بہرحال اب میں بھی کچھ وقت لکھنے لکھانے میں صرف کرنا چاہتا ہوں اور اس کے بعد ان کی ترجیحات میں مشیل اور اپنی دو بیٹیوں کے ساتھ زیادہ سے زیادہ معیاری وقت گذارنا بھی شامل ہے۔ ساشا اور مالیا نے اپنی نشوونما کے دوران (جس وقت وہ سن بلوغت کو پہنچیں) ہمیشہ انہیں کوئی نہ کوئی حیرت زدہ کردینے والا کام کرکے دکھایا۔ ہر ماں باپ اپنے بیٹے یا بیٹیوں کو چاہتے ہیں اور اگر کسی کے ماں باپ اپنے بیٹے یا بیٹیوں کو نہیں چاہتے تو مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ تاہم ساشا اور مالیا انہیں ہمیشہ مرعوب کیا کرتی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ مستقبل میں ان کی بیٹیوں کے کوئی سیاسی عزائم نہیں ہیں۔

TOPPOPULARRECENT