Wednesday , September 20 2017
Home / شہر کی خبریں / مستقبل کی نسلوں کے لیے ندیوں کی بقاء و بحالی ناگزیر

مستقبل کی نسلوں کے لیے ندیوں کی بقاء و بحالی ناگزیر

سیاست اور کووا کے زیر اہتمام ریالی ، اہم مذہبی و سیاسی قائدین کا خطاب
حیدرآباد۔15ستمبر (سیاست نیوز) پانی انسان کی زندگی کیلئے انتہائی اہم جز ہے اور اس کے بغیر انسان کی زندگی کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا ۔ اللہ تعالی نے پانی کی اہمیت کو متعدد مرتبہ اجاگر کرتے ہوئے اسے انسان کیلئے دوسری اہم ضرورت زندگی قرار دیا ہے ۔ ہندستان میں اگر ندیوں و دریاؤں کے تحفظ کیلئے ابھی سے جدوجہد نہیں کی جاتی ہے تو ایسی صورت میں ہندستان کا بڑا حصہ صحراء میں تبدیل ہوجائے گا اور ہندستان کی زمین ناقابل کاشت ہوجائے گی ۔ جنگلاتی علاقہ اور جانوروں کی موجودگی زمین کے کیمیائی مادہ کو تلف کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے اور زمین کو جانوروں کے فضلہ سے قدرتی کھاد میسر آتی ہے جو زمین کو قابل کاشت برقرار رکھنے میں انتہائی اہم ہے۔ ادارہ سیاست و کووا کے زیر اہتمام منعقدہ مذاکرہ سے خطاب کے دوران مولانا مفتی صادق محی الدین فہیم اورسدگرو جگی واسو دیو نے خطاب کے دوران ان خیالات کا اظہار کیا ۔اس مذاکرہ میں ڈپٹی چیف منسٹر جناب محمد محمود علی ‘ جناب زاہد علی خان ایڈیٹر روزنامہ سیاست‘جناب کونڈہ ویشویشر ریڈی رکن پارلیمنٹ ‘جناب ظفر جاوید نائب صدرنشین سلطان العلوم ایجوکیشنل سوسائٹی ‘ جناب عامر علی خان نیوز ایڈیٹر روزنامہ سیاست کے علاوہ جناب مظہر حسین اور دیگر اہم شخصیتیں موجود تھیں۔ سدگرو جگی واسو دیو نے اپنے خطاب کے دوران بتایا کہ ہندستان کی موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ ملک میں 2030 تک 25فیصد سرزمین بنجر ہوجائے گی اور صحراء کی صورتحال پیدا ہوگی کیونکہ اس زمین میں زیر زمین پانی نہ ہونے کے علاوہ یہ زمین ناقابل کاشت ہوگی ۔ انہوں نے بتایاکہ جانوروں کی گذر بسر سے زمین کو طویل عرصہ تک قابل کاشت رکھا جاسکتا ہے لیکن ہندستان میں جانور کو ذبح کرتے ہوئے گوشت دیگر ممالک کو روانہ کیا جا رہاہے اور اسے ایک صنعت کی شکل دیدی گئی ہے جبکہ اگر انسان کی ضرورت کے مطابق گوشت کا استعمال کیا جائے اور مابقی جانوروں کو چرنے کیلئے چھوڑ دیا جانے لگے تو صورتحال میں تبدیلی پیدا ہوسکتی ہے اور زمین کو قابل کاشت رکھا جا سکتا ہے۔ سدگرو نے کہا کہ ہندوستان دریاؤں کے تحفظ کے لئے اگر ابھی سے مہم چلائی جاتی ہے تو اس کے نتائج آئندہ 25برسوں کے دوران برآمد ہوں گے اور ان نتائج کا فائدہ آئندہ نسلوںکو حاصل ہوگا۔ انہوں نے آبی وسائل کے تحفظ کیلئے ضروری ہے کہ جانوروں کے تحفظ کو بھی ممکن بنایا جائے کیونکہ تحقیقی مطالعہ کے مطابق ہندستان کی کئی ریاستوں میں زمینی ہدت ختم ہوتی جارہی ہے جو کہ زمین میں موجود کاشت کی صلاحیت کو ختم کرنے کا موجب بنتی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ زمین میں ہدت 2فیصد ہونا لازمی ہے لیکن یہ بتدریج کم ہوتے ہوئے ملک کے کئی حصو ں میں 0.05تک پہنچ چکی ہے۔جگی واسو دیو نے حکومت تلنگانہ کی جانب سے تالابوں کے احیاء اور مشن کاکتیہ کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ یہ اچھی بات ہے لیکن اس کے باوجود ڈیم کی تعمیر کے ذریعہ پانی جمع کرنے کا تصور بھی قدرتی پانی کے بہاؤ کیلئے مضر ہے۔ مولانا مفتی صادق محی الدین نے اپنے خطاب کے دوران کہا کہ پانی اللہ تعالی کی انتہائی اہم نعمت ہے اور اس کی قدر کی تاکید کی گئی ہے۔ انہوںبتایا کہ نبی اکرم ﷺ نے بھی متعدد مرتبہ پانی کوضائع نہ کرنے کی تاکید فرمائی ہے اور آپ ﷺ خود بہت احتیاط سے پانی استعمال کیا کرتے تھے۔ مولانا مفتی صادق محی الدین فہیم نے کہا کہ پانی انسان کی دوسری اہم ترین ضرورت ہے اوراس کی اہمیت کو اللہ تعالی نے ظاہر کرتے ہوئے یہ وضح کردیا کہ جب ظلم حد سے تجاوز کرجاتا ہے تو اللہ تعالی پانی روک لیتے ہیں اور بارشیں بند ہو جاتی ہیں۔ انہوں نے پانی جیسی عظیم نعمت کے حصول کیلئے اللہ کی ناراضگی سے بچنے کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ زمین کو شرو فساد اور ظلم سے پاک بنائے رکھنے پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ اللہ کی ناراضگی قحط سالی کا سبب بنتی ہے جو کہ ہر چرند و پرند کے علاوہ انسان کیلئے انتہائی تکلیف کا باعث ہے۔ مولانا مفتی صادق محی الدین نے بتایا کہ احادیث مبارکہ میں یہ بات آئی ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے اسراف کرنے والوں کو سخت ناپسند کیا ہے اور پانی کو ضائع کرنے کو بھی اسراف میں شمار کیا گیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ خاتم النبین ﷺ وضو کے لئے ایک لیٹر سے کچھ زیادہ اور غسل کیلئے 4لیٹر کے قریب پانی استعمال کیا کرتے تھے۔ مولانا نے دریاؤں کے تحفظ اور زیر زمین پانی کی حفاظت کے لئے بلا تخصیص مذہب و ملت مہم چلانے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ پانی کے تحفظ کے سلسلہ میں اسلامی تعلیمات کو عام کرنے کے مثبت نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ جناب محمد محمود علی ڈپٹی چیف منسٹر تلنگانہ نے حکومت تلنگانہ کی جانب سے چلائے جانے والے مشن کاکتیہ اورہریتا ہرم کی تفصیلات سے واقف کرواتے ہوئے کہا کہ ریاستی حکومت تالابوں کے احیاء کے علاوہ جنگلاتی علاقہ کے فروغ کیلئے متعدد اقدامات کر رہی ہے ۔ انہوں نے ریاست تلنگانہ میں تالابو ںکے احیاء کے لئے چلائے جانے والے پروگرام اور ہریتا ہرم کو ملک کی دیگر ریاستوں کیلئے مثالی قرار دیا ۔ جناب محمد محمود علی نے کہا کہ ریاستی حکومت زیر زمین پانی اور آلودگی کے خاتمہ کے متعلق سنجیدہ اقدامات میں مصروف ہے۔بعد ازاں دریاؤں اور ندیوں کے تحفظ کے سلسلہ میں شعور بیداری پوسٹر کی رسم اجراء انجام دی گئی ۔

TOPPOPULARRECENT