Saturday , August 19 2017
Home / Top Stories / مستقبل کے صدر اسلام کے بارے میں تحقیر آمیز بیانات نہ دیں

مستقبل کے صدر اسلام کے بارے میں تحقیر آمیز بیانات نہ دیں

پیو کی جانب سے کئے گئے سروے میں امریکی شہریوں کی اکثریت کی رائے کا احاطہ، شام اور عراق میں امریکی فوج نہیں بھیجوں گی : ہلاری

واشنگٹن ۔ 4 فبروری (سیاست ڈاٹ کام) امریکی شہریوں کی اکثریت اس بات کی خواہاں ہے کہ ملک کے صدر کے جلیل القدر عہدہ پر فائز ہونے والا کوئی بھی قائد لب کشائی میں انتہائی محتاط رہے اور جب بھی اسلامی انتہاء پسندی کے بارے میں کوئی بیان دے تو مذہب اسلام کو نشانہ نہ بنائے کیونکہ ہر مسلمان دہشت گرد نہیں ہے۔ تازہ ترین سروے جسے پیو کی جانب سے منعقد کیا گیا تھا، جس میں بتایا گیا کہ 70 فیصد ڈیموکریٹس اور آزاد جن کا جھکاؤ ڈیموکریٹک پارٹی کی جانب ہے، ان کا یہی ماننا ہیکہ صدر کے عہدہ پر چاہے جو بھی فائز ہو لیکن اسے مذہب اسلام کی تحقیر کرنے کا کوئی حق نہیں ہونا چاہئے بلکہ جب بھی اسلامی دہشت گردوں کے بارے میں بھی صدر موصوف کوئی بیان دیں تو اس وقت بھی مجموعی طور پر مذہب اسلام کو تنقید کا نشانہ نہ بنائے۔ تاہم سروے میں مزید وضاحت کی گئی ہے کہ ہر دس امریکی شہریوں میں سے چار شہری اس بات کے خواہاں ہیں کہ مستقبل کے صدر جب بھی اسلامی دہشت گردی کا تذکریں تو وہ مجموعی طور پر اسلام کے بارے میں بھی سخت بیانات دیں۔ اس طرح اسلام کے بارے میں سخت بیانات دینے کی تائید کرنے والوں کا تناسب 65 فیصد ہے جن کا رجحان ری پبلکن کی جانب ہے۔ البتہ سروے میں ایک بات تشویشناک بھی ہے جس کے مطابق امریکیوں کی اکثریت کو یہ اندیشے لاحق ہیں کہ امریکہ کی قابل لحاظ مسلم آبادی امریکہ مخالف ہے۔

امریکی آبادی کا 42 فیصد کا یہ ماننا ہیکہ مسلمانوں کی قابل لحاظ آبادی نہیں بلکہ کچھ فیصد مسلمان ایسے ہیں جنہیں ہم محب وطن نہیں کہہ سکتے۔ 49 فیصد کا یہ کہنا ہیکہ صرف کچھ مسلمان ہی امریکہ ۔ مخالف ہیں۔ سروے میں اس بات کا بھی احاطہ کیا گیا ہیکہ امریکی شہری حالانکہ اسلامی انتہاء پسندی سے تشویش میں مبتلاء ضرور ہیں تاہم مذہب کے نام پر جو تشدد برپا کیا جارہا ہے اس کی وجہ سے ہم کسی بھی مذہب کو قصوروار نہیں ٹھہرا سکتے بلکہ یہ انسانی کمزوریوں کا نتیجہ ہے جو دہشت گردی کی طرف مائل کرتا ہے۔ اس میں کسی بھی مذہب کا آدمی شامل ہوسکتا ہے۔ البتہ 68 فیصد امریکیوں کا یہ کہنا ہیکہ تشدد پسند لوگ اپنی پرتشدد حرکتوں کو منصفانہ قرار دینے مذہب کا سہارا لیتے ہیں۔ 22 فیصد امریکی شہری یہ سمجھتے ہیں کہ اصل مسئلہ یہ ہیکہ بعض مذاہب تشدد برپا کرنے کی تعلیم بھی دیتے ہیں۔ جب ان سے یہ پوچھا گیا کہ آخر ایسا کونسا مذہب ہے جو تشدد کی تعلیم دیتا ہے تو جواب دینے والوں کی اکثریت نے اسلام کا نام لیا۔ دوسری طرف امریکہ میں اس وقت ڈیموکریٹک امیدوار ہلاری کلنٹن کی انتخابی مہمات زوروشور سے جاری ہیں جہاں انہوں نے اب یہ وعدہ بھی کیا ہے کہ اگر وہ صدر بن گئیں تو جنگ زدہ عراق یا شام میں امریکی افواج روانہ نہیں کریں گی۔

TOPPOPULARRECENT