Thursday , September 21 2017
Home / آپ کے سوال / مسجدمیں نعرے بلند کرنا

مسجدمیں نعرے بلند کرنا

سوال : مسجد میں محفل وعظ و بیان کے دوران نعرہ بازی ، جیسے ’’ نعرہ تکبیر، نعرہ رسال، ، نعرہ غوث اور ’’ غوث کا دامن نہیں چھوڑیں گے ‘‘ بآواز بلند کہنا درست ہے یا نہیں ۔ شرعاً کیا حکم ہے ؟
حافظ محمد سبحان، ٹولی چوکی
جواب : کتب احادیث سے خود حضرت رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے اور صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیھم اجمعین کے نعرہ تکبیر بلند کرنے کا ثبوت ملتا ہے ۔ خیبر کے موقع پر حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے ’’ نعرہ تکبیر ۔ اللہ اکبر‘‘ بلند فرمایا تھا ، جیسا کہ بخاری جلد ثانی صفحہ 604 صفحہ میں ہے ’’ عن انس قال صلی النبی صلی اللہ علیہ وسلم الصبح قریبا من خیبر بغلس ثم قال اللہ ا کبر خربت خیبر ‘‘ … الخ ۔ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ اجمعین نے خود اس موقع پر نعرہ تکبیر بلند فرمایا تھا ۔ جیسا کہ مذکورہ کتاب کے صفحہ 605 پر ہے ۔ ’’ عن ابی موسی الاشعری رضی اللہ عنہ قال لما غزا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خیبر … فرفعوا اصواتھم بتکبیر اللہ ا کبر اللہ اکبر لاالہ الا اللہ ‘‘ … الخ ۔ حضرت سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کے مشرف بہ اسلام ہونے کی مسرت میں بھی صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیھم اجمعین نے دار ارقم میں نعرہ تکبیر بلند کیا تھا جس کی آواز مسجد والوں نے بھی سنی تھی جیسا کہ اکمال مشکوۃ صفحہ 602 پر ہے‘‘… فقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ما انت منتہ یا عمر ؟ فقلت اشھد ان لا الہ الااللہ وحدہ لا شریک و اشھد ان محمد اعبدہ و رسولہ فکبر اھل الدار تکبیرۃ سمعھا اھل المسجد ‘‘… الخ۔
حضرت رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے قیامت کی نشانیوں میں سے بطور پیشنگوئی حضرت اسحاق علیہ السلام کی اولاد میں ایک جنگ کی فتح کا ذکر فرمایا کہ وہ لوگ ہتھیاروں سے جنگ نہیں کریں گے بلکہ لا الہ الا اللہ واللہ اکبر کا تین مرتبہ نعرہ بلند کریں گے اور کامیاب ہوجائیں گے جیسا کہ مشکوہ المصابیح باب الملاحم صفحہ 467 میں ہے ’’ عن ابی ھریرۃ رضی اللہ عنہ ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال ھل سمعتم بمدینہ جانب منھا فی البر و جانب منھا فی البحر قالوا نعم یا رسول اللہ قال لا تقوم الساعہ حتی یغزوھا سبعون الفامن بنی اسحاق فاذا جاء و ھا نزلوا ولم یقاتلوا بسلاح ولم یرموابسھم قالوا لا الہ الا اللہ واللہ اکبر فیسقط احد جانبیھا ۔ ثم یقولون الثانیہ لا الہ الا اللہ واللہ اکبر فیسقط جانبھا الاخر ثم یقولون الثالثہ لا الہ الا اللہ واللہ اکبر فیفرج لھم فیدخلونھا ‘‘… الخ ۔ (وہ مسلم )
نعرہ تکبیر یعنی اللہ اکبر ، ذکر اللہ ہے۔ اجتماعی ذکر جہر خواہ مسجد میں ہو کہ غیر مسجد میں علمائے متقدمین و متاخرین کے پاس بالاجماع جائز ہے۔ بشرطیکہ جہر (بلند آوازی) کسی کی نماز و قرات یا آرام میں خلل انداز نہ ہو جیسا کہ شامی جلد ایک صفحہ 488 میں ہے ۔ ’’ و فی حاشیہ الحمومی عن الامام الشعرانی رحمہ اللہ اجمع العلماء سلفاء و خلفاء علی استحباب ذکر الجماعہ فی المسجد و غیرھا الا ان یشوش جھرھم علی نائم او مصل او قاری ‘‘۔ بعض اھل علم نے بعض فوائد جیسے ذاکر کے قلب کی بیداری ، نیند کی دوری اور نشاط میں ازدیاد و اضافہ کی بناء پر ذکر جہر کو ذکر خفی کے مقابلے میں ترجیح دی ہے ۔ جیسا کہ مذکورہ کتاب کے اسی صفحہ پر ہے ’’ … فقال بعض اھل العلم ان الجھر افضل لانہ اکثر عملا و لتعدی فائدتہ الی السامعین فیؤخذ قلب الذاکر فیجمع ھمہ الی الفکر و یصرف سمعہ الیہ و یطرد النوم و یزید النشاط‘‘۔
کتب فقہ میں یہ بھی صراحت ہے کہ آیت پاک ’’ و من اظلم ممن منع مساجد اللہ یذکر فیھا اسمہ ‘‘ … کی وجہ سے مساجد میں ذکر جہر سے منع نہیں کیا جائے گا جیسا کہ بزازیہ میں ہے ’’ ان الذکر بالجھر فی المسجد لا یمنع احترازا عن الدخول تحت قولہ تعالیٰ ’’ و من اظلم ممن منع مساجد اللہ ان یذکر فیھا اسمہ ‘‘…
اب رہا نعرہ رسالت وغیرہ کا بلند کرنا تو اس سے متعلق مختصر وضاحت یہ ہے کہ غیر اللہ کے ساتھ ’’ یا ‘‘ حرف ندا کا استعمال کبھی اظہار شوق لقاء یا اظہار حیرت اور بکثرت منادیٰ (جس کو پکارا جارہا ہے) کو نداء کرنے (پکارنے) کے لئے کلام عرب میں معروف و مستعمل ہے۔ مخلوق غائب کو ندا کرنا محض تذکرہ یا شوق وصال یا حسرت فراق کے ہو تو شرعاً کوئی حرج نہیں۔ اس اعتبار سے اگر ’’ یا رسول اللہ ‘‘ ’’ یا غوث ‘‘ وغیرہ کا نعرہ بلند ہوجائے تو شرعاً منع نہیں۔ اگر نداء سے غائب کو سنانا مقصود ہو اور تصفیہ باطن سے منادی کے حق میں منادی مشہود ہو تو ایسی صورت میں بھی حرف نداء کا استعمال شرعاً منع نہیں۔ مخلوق غائب کو بلا کسی مشاہدہ کے سنانے کے اعتقاد کے ساتھ نداء کرنا اگرچیکہ قدرت خدا وندی سے بعید نہیں تاہم ایسا اعتقاد بھی آداب توحید کے خلاف ہے۔ ’’ غوث کا دامن نہیں چھوڑیں گے‘‘ اردو زبان میں ایک محاورہ کا جملہ ہے، جس کے معنی یہ ہیں کہ حضرت غوث اعظم قدس سرہ العزیز جو اللہ کے نیک بندے اور ولی گزرے ہیں جس طرح ان کی زندگی کا مقصود رضائے الہی رہا ہے اور جس کی وجہ سے ان کی زندگی کامل طور پر اتباع شریعت و احیاء سنت کا جیتا جاگتا نمونہ رہی ہے اسی طرح ہم بھی ان کے طریق پر عمل پیرا رہ کر مرضیات الٰہی کے مطابق زندگی گزاریں گے۔
تصریحات بالا سے واضح ہے کہ مذکورہ در سوال نعرہ ہائے توحید و رسالت وغیرہ کا عام محافل میں دوران وعظ و تقریر بلند کرنا بر محفل و بر موقع ہو تو کوئی حرج نہیں ہے تاہم بے محفل و بے موقع ہو تو احتراز کرنا چاہئے ۔ مساجد کی حد تک مذکورہ صورتوں کے تحت بلا تصنع و تکلف از خود کوئی نعرہ بلند ہوجائے تو کوئی حرج نہیں تاہم آداب مسجد ہر حال میں ملحوظ رکھنا ضروری ہے ۔

متفرق مسائل
سوال : زید کا انتقال ہوا ، ورثاء میں ماں اور ایک بیوی، ایک لڑکا ہے ۔ مرحوم نے اپنی جائیداد سامان کے متعلق وصیت کی کہ وہ لڑکے کو دیا جائے کیا یہ وصیت درست ہے ؟ جبکہ دیگر ورثہ اس سے راضی نہیں۔
(2 مرحوم کی بیوی کے پاس 8 تولے سونا ہے جس میں 4 تولہ سونا خود مرحوم کا ہے ۔ 4تولہ سونے کا چندن ہار جو مرحوم نے اپنی والدہ کو دیا تھا کسی تقریب میں پہننے کے بہانے بیوی مرحوم کی والدہ سے حاصل کرلیا اور اب واپس نہیں کر رہی ہے؟
(3 مرحوم کا لڑکا ایک سال کا ہے اس کی پرورش کس کے ذمہ ہے ۔ ماں نانا نانی پر ہے یا لڑکے کی دادی اور چچا پر ؟
(4 مرحوم نے اپنی بیوی کو تاکید کی تھی کہ میرے انتقال کے بعد وہ نکاح کرلے۔ لڑکی نکاح کرنا نہیں چاہتی ، شرعاً کیا حکم ہے ؟
(5 بوقت عقد لڑکی کے والدین نے جو بھی سامان جہیز دیا ہے اس پر کس کا حق ہے ؟
محمد احسان، ٹولی چوکی
جواب : صورت مسئول عنہا میں زید کی جائیداد اور سامان کے حسب حکم شرعی بعد تقدیم ما تقدم علی الارث جملہ (24) حصے کر کے ماں کو (4) حصے بیوی کو تین حصے اور لڑکے کو (17) حصے دیئے جائیں ۔ جائیداد و سامان میں زید کی وصیت وارث کے حق میںدیگر ورثہ کے راضی نہ ہونے کی بناء ناقابل تعمیل ہے۔
(2 مرحوم کی بیوی کے پاس 4 تولے سونے کا چندن ہار بطور عاریت ہے جس کا اس کے مالک (یعنی زید کی والدہ ) کو لوٹا دینا ضروری ہے ۔ مابقی 4 تولے سونا چڑھاوے کے حکم میں ہے جوکہ بیوی کی ملک ہے
(3 مرحوم کا لڑکا 7 سال تک اپنی ماں کے پاس رہے گا۔ ماں اگر دوسری شادی کرلے تو نانی کو حق حاصل ہوگا۔ اس کے بعد چچا کو حق ولایت حاصل ہے ۔
(4 زید کی بیوہ اپنے نکاح کے متعلق مختار ہے۔
(5 زید کی طرف سے اور بیوہ کے والدین کی طرف سے بوقت عقد جو جہیز اور چڑھاوا دیا گیا ہے وہ بیوہ کی ملکیت ہے ۔

مسجد کا پانی کرایہ دار کو فراہم کرنا
سوال : کسی بھی مسجد کے بورویل یا نل کا پانی جو حاصل کرنے کیلئے برقی کا استعمال بھی ہوتا ہے اور اس برقی کے استعمال پر محکمہ برقی کو بل بھی ادا کرنی پڑتی ہے تو کیا اس پانی کو بذریعہ کنکشن مسجد ہی کے کرایہ دار جو کہ مسجد سے متصل مکان میں کرایہ سے ہیں کو بلا کسی معاوضہ کے دیا جانا درست ہے یا پھر اس کا کوئی معاوضہ لے کر دیا جائے یا بالکلیہ طور پر دیا ہی نہ جائے ۔ برائے مہربانی رہنمائی فرمائیں اور عنداللہ ماجور ہوں ۔
نام مخفی
جواب : مسجد کی ملکیت کے کرایہ دار کو جو جائیداد کرایہ پر دی گئی اس میں پانی دینا بھی شامل ہے تو پھر مسجد کی برقی استعمال کر کے کرایہ دار کو پانی دیا جاسکتا ہے ۔ کرایہ دار جوکرایہ دیتا ہے اس میں پانی کے مصارف شامل رہیں گے ۔ اگر کرایہ میں پانی دینا شامل نہ ہوتو پھر اس سے برقی کا خرچ لیکر پانی دیا جائے ۔ بالکلیہ پانی نہ دینا درست نہیں ۔ بہتر صورت یہ ہے کہ کوئی صاحب خیر یا چند افراد ملکر مسجد کی ضروریات اور مصلیوں کے وضو و طہارت خانوں نیز دیگر مسلمانوں کیلئے پانی کا اہتمام کر کے برقی کے مصارف برداشت کرلیں ‘ ان کے حق میں یہ ثواب جاریہ رہے گا ۔

غیراللہ کوسجدہ کرنا
سوال : ہر مسلمان جانتا ہے کہ شرک ایک ناقابل معافی گناہ ہے پھر بھی ہم مشاہدہ کرتے ہیں کہ کئی مسلمان شرک کے مرتکب ہوتے ہیں اور اس کا احساس بھی نہیں کرتے۔ مثلاً سب جانتے ہیں کہ اللہ کے سوا کسی اور کو سجدہ کرنا شرک ہے۔ پھر بھی ہم آئے دن دیکھتے ہیں کہ کئی لوگ درگاہ کی چوکھٹ پر ہی فوراً سجدہ کر کے اندر داخل ہوتے ہیں، پھر اس کے بعد قبروں کو سجدہ کرتے ہیں اور اس کے علاوہ کسی بھی درگاہ میں محفل سماع کے وقت مرشد کو باقاعدہ سجدہ کرتے ہیں۔ جیسا کہ نماز میں کیا جاتا ہے ۔ کیا یہ کھلا ہوا شرک نہیں ہے اور اسے ہمارے علماء روکتے کیوں نہیں۔
– 2 نماز جمعہ اور نماز عید کے لئے امامت کرنے کیلئے کیا امام کو کسی مدرسہ کا فارغ تحصیل ہونا ضروری ہے یا اسے سند یافتہ خطیب ہونا ضروری ہے اور عربی زبان کو اچھی طرح جاننا ضروری ہے یا کوئی بھی نیک مسلمان جو گناہ سے بچتا ہو اور نیکیاں کرتا ہو جسے سب لوگ عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہوں امامت کر سکتا ہے۔ برائے مہربانی ان سوالوں کا جواب جلد از جلد دیں۔
محمد فاروق علی، فتح دروازہ
جواب : غیر خدا کو سجدہ کرنا جائز نہیں۔ قرآن مجید کی مختلف آیتوں میں صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کو سجدہ کرنے کا حکم ہے۔ غیر خدا کو سجدہ کرنے سے سختی کے ساتھ منع کیا گیا ہے ۔ لاتسجدوا للشمس ولا للقمر الایۃ (تم سورج اور چاند کو سجدہ مت کرو) واسجدواللہ الذی خلقھن ان کتنم ایاہ تعبدون۔ (اگر تم اللہ ہی کی عبادت کرتے ہو تو صرف اور صرف اس کو سجدہ کیا کرو) ۔ لہذا تمام اہل اسلام کو چاہئے کہ وہ قبر ، مزارات کی چوکھٹ اور پیر و مرشد کو سجدہ سے احتراز کریں۔ عقیدت ایک قلبی کیفیت کے نام ہے اور وہ محمود و مطلوب ہے لیکن اس کے اظہار کے لئے غیر شرعی طریقہ اختیار کرنا جہالت ہے اور غیر خدا کو خدا جان کر سجدہ کرنا بلا شبہ شرک ہے۔ وہ اسلام سے خارج ہے اور غیر خدا کو مخلوق سمجھتے ہوئے تعظیم کی خاطر سجدہ کرنا ممنوع و ناجائز ہے،شرک نہیں۔
– 2 جمعہ و عیدین کی امامت کے لئے اہلیت شرط ہے ۔ کسی مدرسہ کا سند یافتہ یا فارغ ہونا ضروری نہیں۔ تاہم مدرسہ کی سند اس کی اہلیت کی ایک علامت ہے۔ گناہ سے بچنا اور نیکی کرنا اہلیت امامت کے لئے کافی نہیں۔

TOPPOPULARRECENT