Tuesday , September 26 2017
Home / Top Stories / مسجد اقصیٰ میں مسلسل تیسرے دن بھی جھڑپیں

مسجد اقصیٰ میں مسلسل تیسرے دن بھی جھڑپیں

شاہ اردن کا اسرائیل کو انتباہ، دونوں ممالک کے تعلقات متاثر ہونے کے اندیشے کا اظہار

یروشلم 15 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) اسرائیل کی پولیس کا آج فلسطینی احتجاجیوں سے مسلسل تیسرے دن بھی تصادم ہوگیا جبکہ یروشلم میں بے چینی کے تیسرے دن انتہائی حساس مقدس مقام مسجد اقصیٰ پر فلسطینی احتجاجیوں اور پولیس میں جھڑپیں ہوئیں۔ پولیس کی ترجمان لوبا سامری نے کہاکہ پولیس مسجد اقصیٰ کے احاطہ میں احتجاجیوں کے ہجوم کو منتشر کرنے داخل ہوگئی جو کل رات بھر مسجد میں محصور رہے تھے۔ احتجاجیوں نے پولیس پر پتھروں، آتش بازی، کنکریٹ کے بڑے بڑے ٹکڑوں اور عہدیداروں پر آتشیں بم سے حملہ کیا۔ دو فلسطینی گرفتار کرلئے گئے جبکہ 5 پولیس عہدیدار معمولی سے زخمی ہوئے۔ اُنھوں نے کہاکہ مسجد کے اندر سے پولیس پر پھینکے ہوئے آتشیں بم سے احتجاجیوں کی جانب سے ذخیرہ کئے ہوئے لکڑی کے ٹکڑوں میں آگ لگ گئی۔ بعدازاں مسجد کے عہدیداروں نے آگ بجھادی۔ پولیس نے لکڑی کے ٹکڑوں کے ڈھیر کی راکھ کی تصویریں جاری کی ہیں جو مسجد کے باہر پڑا ہوا ہے۔ پولیس نے بعدازاں سکون بحال کردیا

اور سیاحوں کے لئے اِس مقام کو کھول دیا۔ سامری نے کہاکہ اب بھی احتجاجیوں کا ایک گروپ مسجد کے اندر موجود ہے۔ مسجد اقصیٰ کا یہودی اور مسلمان مساوی طور پر احترام کرتے ہیں۔ یہ مقام وقفہ وقفہ سے تشدد کا مرکز بنا رہا ہے۔ یروشلم کے پرانے شہر میں اِس عمارت کو یہودی ’’ٹمپل ماؤنٹ‘‘ اور مسلمان ’’بیت المقدس‘‘ قرار دیتے ہیں جہاں سے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و سلم آسمانوں کی سیر پر تشریف لے گئے تھے۔ جبکہ یہودی اِسے ٹمپل ماؤنٹ قرار دیتے ہیں جو انجیل مقدس میں مذکور دو مذہبی عبادت گاہوں میں سے ایک ہے۔ یہودی سیاحوں کو اِس مقام میں داخل ہونے کی اجازت ہے لیکن عبادت کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ مسلمان اِس سیاحت کو اشتعال انگیزی سمجھتے ہیں۔ یہ مقام اکثر کشیدگی کا مرکز بنا رہا ہے۔ جبکہ بڑی یہودی تعطیلات جیسے یہودی سال نو ’’روش ہشانہ‘‘ کی تقریب یہی منائی جاتی ہے جس کا اختتام منگل کی رات ہوگا۔ وزیراعظم اسرائیل بنجامن نیتن یاہو منگل کی شام جبکہ تعطیلات اختتام پذیر ہوں گے ایک ہنگامی اجلاس طلب کرنے والے ہیں، تاکہ اِس مقام پر تشدد سے نمٹنے کے طریقوں پر غور کیا جاسکے۔ علاوہ ازیں فلسطینیوں کی سنگباری کے واقعات میں حالیہ اضافہ پر بھی غور کیا جاسکے جس سے کل ایک اسرائیلی شخص کی جان ضائع ہوچکی ہے۔ اسرائیل نے اِس مقام پر جوں کا توں موقف برقرار رکھنے کا تیقن دیا ہے۔ اردن کا اسرائیل کے ساتھ امن معاہدہ ہے۔ مسلم مذہبی اُمور کے منتظمین اور شاہ اردن عبداللہ دوم نے پیر کی رات اسرائیل کو انتباہ دیا ہے کہ وہ یہاں امن قائم کرے ورنہ یروشلم میں مزید اشتعال انگیزی سے اردن اور اسرائیل کے تعلقات متاثر ہوسکتے ہیں اور اردن کے سامنے کارروائی کرنے کے سوائے کوئی اور متبادل نہیں رہے گا جسے وہ بدبختی سمجھتا ہے۔

TOPPOPULARRECENT