Friday , July 28 2017
Home / شہر کی خبریں / مسجد اقصیٰ و گنبد صخرہ میں داخلہ پر اسرائیل کی پابندیوں پر فلسطینی عوام برہم

مسجد اقصیٰ و گنبد صخرہ میں داخلہ پر اسرائیل کی پابندیوں پر فلسطینی عوام برہم

شرائط قبول کرنے سے انکار ۔ اسرائیلی حکومت کی کارروائی کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاج
حیدرآباد۔17جولائی (سیاست نیوز) مسجد اقصی و گنبد صخرہ کے حصہ میں داخلہ کے لئے اسرائیلی حکومت کی جانب سے لگائے جانے والے نئے شرائط و سیکوریٹی انتظامات کے خلاف فلسطینی مسلمانو ںنے شدید احتجاج کرتے ہوئے ان اقدامات و شرائط کو قبول کرنے سے انکار کردیا اور کہا کہ اسرائیل کی جانب سے مسجد اقصی میں داخلہ کیلئے موجود راستہ کو مفقود کرتے ہوئے میٹل ڈیٹکٹر کی تنصیب اور سیکوریٹی تلاشی کی پابندی کو مسترد کرتے ہیں ۔ گذشتہ دنوں مسجد اقصی کے باب الداخلہ پر متعین دو اسرائیلی پولیس اہلکاروں کی فائرنگ میں موت کے بعد اسرائیلی حکام نے مسجد اقصی اور گنبد صخرہ کی سمت کھلنے والے باب الداخلوں پر میٹل ڈیٹیکٹر کی تنصیب عمل میں لاتے ہوئے تمام مصلیوں کو تلاشی کے بعد ہی اندر داخل ہونے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا ہے اور اس سلسلہ میں گذشتہ یوم اقدامات کے بعد فلسطینی مسلمانو ںمیں غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی ۔ مسلمانوں نے اسرائیلی حکومت کی جانب سے کی جانے والی اس کاروائی کے خلاف زبردست احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے مسجد اقصی میں جانے کیلئے تلاشی کی شرط کو برخواست کرنے اور نصب کردہ میٹل ڈیٹیکٹر کو فوری ہٹانے کا مطالبہ کیا۔ احتجاجی مسلمانوں نے مسجد اقصی میں ظہر کی اذان کے بعد مسجد کے بیری حصہ میں نماز ادا کی اور باب الداخلہ سے داخل ہونے والوں کو روکتے ہوئے انہیں احتجاج میں شامل ہونے کی ترغیب دی۔اسرائیل کی جانب سے کئے جانے والے ان اقدامات کے خلاف کئے گئے مظاہرہ میں مرد وخواتین کے علاوہ بچوں کی بڑی تعداد موجود تھی جو اسرائیلی مظالم کے خلاف نعرہ لگا رہے تھے۔ حکومت اسرائیل کی جانب سے عائد کی گئی ان پابندیو ںکو قبول نہ کرنے کا ڈائریکٹر مسجد اقصی نے بھی اعلان کیا اور کہا کہ اس طرح کی پابندیوں کے ذریعہ مصلیوں کی تعداد میں تخفیف کے اقدامات کئے جا رہے ہیں اسی لئے ان سازشوں کو کامیاب ہونے نہیں دیا جائے گا اور اسرائیل کے خلاف جاری اس احتجاج میں آئندہ دنوں کے دوران مزید شدت پیدا کی جائے گی۔ اسرائیل کے عہدیداروں کا ادعا ہے کہ باب الداخلہ پر کئے گئے صیانتی انتظامات صرف کسی ایک مخصوص مذہب کے ماننے والوں کے لئے نہیں ہیں کیونکہ یہی راستہ یہودیوں کے مقدس مقام تک بھی جاتا ہے اور انہیں بھی سیکوریٹی امور کے اس مرحلہ سے گذرنا پڑے گا اسی لئے یہ کہنا درست نہیں ہے کہ یہ اقدامات کسی مخصوص حکمت کا حصہ ہیں ۔فلسطینی مسلمانو ںکا کہنا ہے کہ جب کبھی اسرائیل کی جانب سے کوئی صیانتی انتظامات کئے جاتے ہیں اس کے فوری بعد مسلمانوں پر نئے تحدیدات عائد ہونے لگتے ہیں اسی لئے وہ ان نئے اقدامات کو مسترد کرتے ہیں۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT