Sunday , July 23 2017
Home / Top Stories / مسجد اقصیٰ کی حملے کے بعد دوبارہ کشادگی

مسجد اقصیٰ کی حملے کے بعد دوبارہ کشادگی

 

یروشلم ۔ /16 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) اسرائیل نے انتہائی حساس مسجد اقصیٰ کو جو ایک حملے میں دو ملازمین پولیس کی ہلاکت کے بعد بند کردی گئی تھی ،دوبارہ کھول دیا ۔ لیکن مسلم مصلیوں نے اندر داخل ہونے سے انکار کردیا ۔ کیونکہ نئے صیانتی اقدامات بشمول میٹل ڈیٹکٹرس اور کیمرے نصب کئے گئے تھے ۔ ہجوم اللہ اکبر کے نعرے لگا رہا تھا ۔ ابتداء میں کئی سیاح یروشلم کے حرم شریف کے احاطہ میں جسے یہودی ٹمپل ماؤنٹ کہتے ہیں داخل ہوئے تھے ۔ لیکن درمیان ہی میں مسلم مصلیوں نے جو مسجد اقصیٰ کے باہر جمع تھے نئے صیانتی اقدامات کی بنا پر انہیں روک دیا ۔ مصلیوں نے کہا کہ وہ اس وقت تک مسجد میں داخل نہیں ہوں گے جب تک کہ میٹل ڈیٹکٹرس ہٹادیئے نہیں جاتے ۔ 3 عرب اسرائیلیوں نے پولیس پر جمعہ کے دن قدیم شہر یروشلم میں فائرنگ کردی بعد ازاں فرار ہوکر مسجد کے احاطہ میں داخل ہوگئے ۔ اسرائیلی عہدیداروں نے کہا کہ وہ حملہ کرنے کیلئے مسجد اقصیٰ سے باہر آئے تھے ۔ اسرائیل نے انتہائی غیرمعمولی فیصلہ کرتے ہوئے مسجد اقصیٰ میوزیم کے احاطہ کو نماز جمعہ کیلئے بند کردیا تھا ۔جس کی وجہ سے اردن کے مسلمانوں نے برہمی کی لہر دوڑ گئی تھی جو مسجد اقصیٰ کے کلید بردار ہیں ۔ مسجد اقصیٰ ہفتہ کے دن بند رہی جبکہ قدیم شہر یروشلم کے بعض علاقوں کی ناکہ بندی کی گئی تھی ۔ اسرائیلی عہدیداروں کے بموجب مسجد کو بند کردینا ضروری تھا تاکہ صیانتی معائنے کئے جاسکے اور آج اس مسجد کے دوبارہ کھول دینے کا اعلان کیا جاسکے ۔ پولیس نے اتوار کے دن مسجد اقصیٰ کے دو دروازے کھول دیئے ۔

اسرائیلی فوج نے گرفتاری کے دوران فلسطینی
بندوق بردار کوگولی مارکر ہلاک کردیا
یروشلم ۔16جولائی ( سیاست ڈاٹ کام ) اسرائیلی فوج اور پولیس نے جو مغربی کنارے کے قصبہ نبی صلاح میں گرفتاری کی ایک مہم چلارہی تھی ۔ ایک فلسطینی کو گولی مار کر ہلاک کردیا جو آج علی الصبح اس طلایہ گرد پارٹی پر فائرنگ کی کوشش کررہا تھا ۔ فوج نے مشتبہ شخص کا انکاؤنٹر کردیا ۔ جس نے ان پر فائرنگ کی تھی ۔ فلسطینی کی شناخت اسرائیلی پولیس نے 34سالہ حلیل متوطن نبی صلاح قصبہ کی ہے ۔ ایک اور مشتبہ فلسطینی جو بری طرح زخمی ہوگیا تھا گرفتار کرلیا گیا ۔ اکٹوبر 2015ء سے اس علاقہ میں مخالف اسرائیل بے چینی عام ہے جس میں 44اسرائیلی ‘ 2امریکی ‘ 2اردنی ‘ ایک حبشی اور 282فلسطینی ‘ ایک سوڈانی اور برطانیہ کا ایک شہری ہلاک ہوچکے ہیں ۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT