Friday , July 21 2017
Home / اداریہ / مسجد اقصیٰ کے تاریخی موقف کو بدلنے کی کوشش

مسجد اقصیٰ کے تاریخی موقف کو بدلنے کی کوشش

کچھ نہ دے بس وہی اک یاد کا صحرا دیدے
اے خدا مجھ کو مرا خواب پرانا دیدے
مسجد اقصیٰ کے تاریخی موقف کو بدلنے کی کوشش
مسلمانوں کے قبلہ اول کو نشانہ پر رکھنے والی اسرائیلی حکومت نے جمعہ کے دن بند رکھا ہے۔ مقبوضہ بیت المقدس میں مسلسل چار دن سے مسجد اقصیٰ بند ہے اور سارا عالم عرب خاموش ہے۔ اسرائیل کو مسلمانوں کے داخلے پر پابندی کا حق کس نے دیا۔ یہ سوال عالم اسلام کو نشتر کی طرح چبھتا ہے۔ اسرائیلی حکام نے مسجد اقصیٰ کے باب الداخلہ پر میٹل ڈکٹیٹرز اور کیمروں کی تنصیب کے علاوہ مسجد کے ذمہ داروں کو بھی اندر جانے کی اجازت نہیں دی۔ گذشتہ کئی عشروں میں یہ پہلی مرتبہ ہیکہ جمعہ کے روز مسجد اقصیٰ کو بند کردیا گیا۔ مسجد میں 3 حملہ آوروں کی موجودگی کے خلاف کارروائی کرنے اسرائیلی فوج نے انہیں گولی مار دی تھی۔ اس کے بعد سے بیت المقدس کو مکمل فوجی چھاونی میں تبدیل کرکے مسلمانوں کو مسجد کے باہر ہی نماز ادا کرنے کیلئے مجبور کردیا۔ اس کارروائی کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ تقریباً نصف صدی میں یہ پہلی مرتبہ ہیکہ مسجد اقصیٰ کو نماز جمعہ کیلئے بند کردیا گیا۔ اسرائیل کی اس حرکت سے ساری دنیا کے مسلمانوں کے احساسات کو ٹھیس پہنچی ہے اور ان کے اندر غم و غصہ پیدا ہونا فطری امر ہے۔ یہ اسرائیل کی سراسر مذہبی آزادی کی خلاف ورزی ہے۔ القدس اور الاقصیٰ مسجد کے موقف کو تبدیل کرنے کی اسرائیل بارہا کوشش کرتا آرہا ہے۔ اس سرزمین پر یہودیوں کی کارروائیاں بین الاقوامی قوانین کو یکسر نظرانداز کرکے اپنی من مانی کرناہے۔ عالمی برادری کو اسرائیل کی جارحیت پر چشم پوشی اختیار نہیں کرنی چاہئے بلکہ اسرائیل پر مسلسل دباؤ ڈال کر مسجد اقصیٰ کے تقدس کو پامال کرنے سے باز رکھتے ہوئے اسے کھول دینے پر زور دیا جانا چاہئے۔ اسرائیل کئی مرتبہ بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی کرتا رہا ہے اور وہ عالمی قوانین کی پابندی بھی نہیں کرتا۔ اس حقیقت کے باوجود عالمی برادری کی خاموشی افسوسناک ہے۔ چوتھے جنیوا کنونشن میں اسرائیل کو پابند کردیا گیا تھا کہ وہ مسجد الاقصیٰ یا القدس کے موقف کو تبدیل کرنے کی کوشش نہ کرے اس کے باوجود اسرائیل اپنی من مانی کے ذریعہ بین الاقوامی قوانین کی دھجیاں اڑا رہا ہے۔ اسرائیل جارحیت کو روکنے کیلئے عالمی طاقتوں نے سختی سے کام تو لیا تو مشرق وسطیٰ میں اس کے بڑھتے ناپاک عزائم اور نقصانات کیلئے عالمی طاقتیں بھی برابر کی ذمہ دار ہوں گی۔ فلسطینی عوام کی حمایت اور ان سے اظہاریگانگت تو کی جاتی ہے مگراسرائیل پر لگام کسنے کی کوئی ہمت نہیں کرتا۔ ترکی کے شہر استنبول میں حال ہی میں 30 ملکوں سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کی تنظیموں اور طلباء یونینوں نے فلسطینی عوام سے اظہاریگانگت کیا۔ ترکی میں منعقدہ دو روزہ کانفرنس میں فلسطینی علاقوں میں اسرائیل کی جانب سے ہونے والی تبدیلیوں کا بھی نوٹ لیا گیا۔ مسلم دنیا میں عوام کے دلوں میں فلسطینی کاز کا جذبہ پایا جاتا ہے مگر اسرائیلی جارحیت کو روکنے ہونے والی ناکامی اور فلسطینیوں کے حقوق کو پامال ہوتا دیکھ کر مسلمانوں کے دل تڑپ اٹھتے ہیں۔ فلسطینیوں اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر غور کرنے کیلئے یوں تو اب تک ساری دنیا میں جلسے، کانفرنس اور اجلاس منعقد ہوتے آرہے ہیں۔ ترکی کے شہر استنبول میں بھی فلسطینی مسئلہ پر اب تک کئی کانفرنس منعقد ہوئے ہیں لیکن ایسے کانفرنس اسرائیل کی جارحیت کو روکنے میں ناکام ہوئے ہیں۔ القدس کے سابق مفتی اعظم شیخ عکرمہ صابری نے اسرائیل فوج کی جانب سے مسجد اقصیٰ کو بند کردینے کی شدید مذمت کی۔ اسرائیلی فورس کی یہ کارروائی ایک خطرناک منصوبہ کی جانب سے اشارہ کرتی ہے۔ مسجد پر قبضہ کرنے اسرائیلی فوج یہاں بتدریج اپنا تسلط بڑھاتے جارہی ہے۔ ایسے میں عالم اسلام خاموش ہے۔ یہاں کے اسلامی میوزیم کے بشمول مسجد کے اندر تک اسرائیلی فوج تعینات کردی گئی۔ فلسطینیوں نے ہمیشہ کی طرح اسرائیل کی اس جارحیت اور غرمنصفانہ کارروائیوں کی مذمت کرتے ہوئے احتجاجی مظاہرے کئے گئے ہیں اور عالمی طاقتوں کی توجہ اس جانب مبذول کروایا ہے کہ اسرائیل پے در پے اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی کررہا ہے اور وہ خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ اس کی یہ خاموشی غیرمنصفانہ اور غیرذمہ دارانہ ہے۔ مسجد اقصیٰ کے تاریخی موقف کو تبدیلی کے خلاف اردن نے وارننگ تو ضرور دی ہے مگر اس کا اسرائیل پر کوئی اثر دکھائی نہیں دیتا۔ جب تک نام نہاد عالمی طاقتیں اپنی ذمہ داری سے اسرائیل کی جارحیت ہاتھ نہیں پکڑتیں اور اس پر لگام کسا نہیں جاتا وہ بے لگام ہوکر بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کی قرارداد کی دھجیاں اڑاتا رہے گا۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT