Friday , August 18 2017
Home / عرب دنیا / مسجد اقصیٰ کے فلسطینی محافظوں پر امتناع کا فیصلہ

مسجد اقصیٰ کے فلسطینی محافظوں پر امتناع کا فیصلہ

مقبوضہ بیت المقدس 10 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) اسرائیل کے وزیردفاع موشے یعلون نے داخلی سلامتی کے خفیہ ادارے’’شاباک‘‘ اور پولیس کی سفارش پر مسجدا قصیٰ کے فلسطینی محافظوں کی سرگرمیوں پر پابندی لگانے کا ایک غیر قانونی فیصلہ کیا ہے، جس پر فلسطین میں شدید رد عمل سامنے آیا ہے۔مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق مسجد اقصیٰ کی حفاظت کے لیے آنے والے  فلسطینیوں کی تنظیموں ’’المرابطین‘‘ اور ’’المرابطات‘‘کو غیرقانونی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ گروپ اسرائیل کی سلامتی اور یہودی آباد کاروں کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔ نیز ان کی وجہ سے اسرائیل کا سیکیورٹی سسٹم متاثر ہو رہا ہے۔خیال رہے کہ 24 اگست سے صہیونی پولیس کی جانب سے فلسطینی شہریوں کو قبلہ اول میں داخلے کی سخت ترین پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ عملا فلسطینی شہری نماز کے لیے بھی قبلہ اول میں داخل نہیں ہو پا رہے ہیں۔ مسجد اقصیٰ کے اندر طلباء اور طالبات کی درسگاہیں قائم ہیں۔ قابض صہیونی فوج اور یہودی پولیس طلباء وطالبات کو بھی اندر نہیں جانے دیتے۔

چار سال بعد قاہرہ میں اسرائیلی سفارتخانہ کا احیاء
قاہرہ 10 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام)  اسرائیل نے چار سال کے بعد مصر میں اپنا سفارتخانہ دوبارہ کھول دیا ہے جو کہ مشتعل ہجوم کے حملے کے بعد بند کر دیا گیا تھا۔اسرائیل کے وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ ڈائریکٹر جنرل ڈور گولڈ اس سلسلے میں قاہرہ گئے ہیں۔ستمبر 2011ء میں مظاہرین نے سفارتخانے پر ہلّہ بول دیا تھا اور یہاں سے سفیر یتزاک لیوانون اور دیگر عملے کو منتقل ہونا پڑا تھا۔یہ مظاہرے ان پانچ مصری سکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکت کے خلاف کئے جا رہے تھے جنہیں اسرائیلی فوجیوں نے اس وقت ہلاک کر دیا تھا جب وہ سرحد پر مشتبہ عسکریت پسندوں کا تعاقب کر رہے تھے۔ اس میں 8 اسرائیلیوں کو ہلاک کر دیا گیا تھا۔

TOPPOPULARRECENT