Thursday , August 17 2017
Home / Top Stories / مسجد الاقصیٰ میں نماز جمعہ پر اسرائیل کی پابندی، تین جاں بحق

مسجد الاقصیٰ میں نماز جمعہ پر اسرائیل کی پابندی، تین جاں بحق

۔100 سے زائد زخمی، مقبوضہ بیت المقدس کے متعدد مقامات پر مسلمانوں اور صیہونی فورسیس میں جھڑپیں

بیت المقدس ۔ 21 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) مقبوضہ بیت المقدس میں جمعہ کے روز اسرائیلی فوج کے ساتھ جھڑپ میں زخمی تین فلسطینی جاں بحق ہوگئے ہیں۔آج نماز جمعہ کے بعد مقبوضہ مشرقی بیت المقدس کے تمام علاقوں میں جھڑپیں پھوٹ پڑیں۔ اسرائیل کی جانب سے مسجد اقصیٰ کے اطراف سخت سکیورٹی اقدامات کے بعد کشیدگی کی شدت میں اضافہ ہو گیا ہے۔ ان اقدامات میں مسجد کے داخلی راستوں پر دھات کا انکشاف کرنے والے آلات اور خصوصی اسکینر شامل ہیں جنہوں نے فلسطینی نمازیوں اور قیادت کے اندر غم و غصے کی لہر دوڑا دی۔اسرائیلی پولیس نے نماز جمعہ کی ادائیگی کے لیے پچاس برس سے کم عمر افراد کو مقبوضہ مشرقی بیت المقدس کے علاقے البلدہ القدیمہ میں داخل ہونے سے روک دیا۔ اس کے بعد ہزاروں فلسطینیوں نے جمعہ کی نماز مقبوضہ مشرقی بیت المقدس کی سڑکوں پر ادا کی۔نماز جمعہ کے اختتام کے ساتھ ہی قابض فوج کے اہل کاروں کی جانب پتھراؤ کیا گیا۔ اس کے جواب میں اسرائیلی فوج نے فائرنگ اور آنسو گیس کے شیلوں کے ذریعے اْن فلسطینیوں کو منتشر کر دیا جو نماز ادا کرنے سے روکے جانے پر احتجاج کر رہے تھے۔ادھر بیت المقدس میں البلدہ القدیمہ کی باڑھ کے باہر مرکزی شاہراہ صلاح الدین پر سیکڑوں فلسطینیوں نے نماز جمعہ ادا کی۔ بعد ازاں اسرائیلی پولیس کے ساتھ جھڑپیں شروع ہو گئیں جس نے نمازیوں کو منتشر کرنے کے واسطے آوازوں والے بموں اور آنسو گیس کا استعمال کیا۔مسجد اقصی کے خطیب شیخ عکرمہ صبری کے مطابق اسرائیلی فوج کی جانب سے مظاہرین پر گولیاں چلا دینے کے نتیجے میں کم از کم 100 فلسطینی زخمی ہو گئے۔مسجد اقصی کے گرد گھیرا تنگ کرنے اور نماز کی اجازت نہ دینے کے خلاف فلسطینیوں کے احتجاج کا مقابلہ کرنے کے لیے اسرائیلی حکام پولیس کے علاوہ فوجی اہل کاروں کو بھی بھیجنے پر مجبور ہو گئی جو ایک نادر اقدام تھا۔قابض اہل کاروں اور فلسطینیوں کے درمیان جھڑپوں کا آغاز قلندیا میں ہوا اور پھر اس کا دائرہ بیت لحم اور مسجد اقصی کے اطراف پھیل گیا۔انتہائی حساس عبادت گاہ مسجد الاقصیٰ میں اسرائیلی حکومت کے جدید سیکوریٹی انتظامات کے خلاف فلسطینیوں کے سخت احتجاج اور اس سے پیدا شدہ کشیدگی کے نتیجہ میں صیہونی پولیس نے آج 50 سال سے کم عمر کے مسلمانوں کے نماز جمعہ کی ادائیگی کیلئے پرانا شہر یروشلم میں داخلہ پر امتناع عائد کردیا۔ شاذونادر ہی عائد کی جانے والی پابندی و ناکہ بندی اسرائیلی وزراء کی طرف سے حرم قدسی کے احاطہ اور باب الداخلہ پر نصب کئے جانے والے میٹل ڈیٹکٹرس کو ہٹانے کا حکم نہ دینے کے فیصلے کئے جانے کے بعد عائد کی گئی ہے۔ اسرائیلی پولیس نے اپنے بیان میں کہا کہ مسلمانوں اور یہودیوں کیلئے یکساں طور پر مقدس اس مقام پر گذشتہ ہفتہ ایک حملے میں اسرائیل کے دو ملازمین پولیس ہلاک ہوگئے تھے اور جوابی کارروائی میں تین فلسطینیوں کو گولی مار کر ہلاک کردیا گیا تھا۔ اس واقعہ کے بعد اسرائیلی حکومت باب الداخلہ پر خفیہ کیمرے اور میٹک ڈیٹکٹرس نصب کرنے کا فیصلہ کی تھی۔
اسرائیلی پولیس نے مزید کہا کہ پرانا شہر یروشلم کی اس مقدس مقام پر 50 سال سے زائد عمر کے مسلمان اور یہودی داخل ہوسکتے ہیں البتہ داخلہ کی خواہشمند خواتین کی عمر کی کوئی حد مقرر نہیں کی گئی ہے چنانچہ کسی بھی عمر کی خواتین مقدس مقام کے احاطہ میں داخل ہوسکتے ہیں۔ اسرائیلی پولیس نے بعدازاں کہا کہ ہر کسی کو میٹل ڈیٹکٹرس سے گذرنے کیلئے زبردستی نہیں کی جائے گی بلکہ اختیاری طور پر وہ اس سے گذر سکتے ہیں جس کے باوجود فلسطین اور مسلم مذہبی قائدین مصلیان پر ہنوز زور دے رہے ہیں کہ میٹل ڈیٹکٹرس ہٹائے جانے تک وہ اس مسجد میں داخل نہ ہوں۔ پرانا شہر یروشلم کے باہر فلسطینیوں کا بڑا ہجوم دیکھا گیا۔ اس موقع پر اکثر دوکانات بند تھیں اور فلسطینیوں کے زیراستعمال باب الدمشق کی ناکہ بندی کی گئی تھی۔ سینکڑوں افراد نے جن میں چند مسلم قائدین بھی شامل تھے ایک جلوس کی شکل میں مسجد کے احاطہ کے قریب باب الاسد کی سمت پیشقدمی کررہے تھے جنہیں حکام نے مطلع کیا کہ صرف 50 سال سے زائد عمر کے افراد کو ہی احاطہ میں جانے کی اجازت دی گئی ہے۔

TOPPOPULARRECENT