Friday , July 21 2017
Home / شہر کی خبریں / مسجد مسلم جنگ مولا علی کے تحت 49.11 ایکڑ اراضی پر قبضے

مسجد مسلم جنگ مولا علی کے تحت 49.11 ایکڑ اراضی پر قبضے

صرف 9 ایکڑ 15 گنٹے اراضی دستیاب ۔ وقف بورڈ سے فائیل لا پتہ ۔ رجسٹری روکنے اقدامات
حیدرآباد۔ 21 فروری (سیاست نیوز) شہر اور اس کے مضافات میں قیمتی اوقافی اراضیات کی تباہی کیلئے وقف بورڈ کے داخلی عناصر اور وقف مافیا کی ملی بھگت کے کئی واقعات منظر عام پر آچکے ہیں۔ گزشتہ دنوں میڑچل ضلع کے مولا علی علاقہ میں 49 ایکر قیمتی اوقافی اراضی پر ناجائز قبضوں کا معاملہ منظر عام پر آیا اور جب چیف ایگزیکٹیو آفیسر محمد اسداللہ نے اراضی کے تحفظ کیلئے ریکارڈ طلب کیا تو پتہ چلا کہ اراضی سے متعلق فائیل لاپتہ ہے۔ کافی تگ و دو کے بعد وقف بورڈ میں متعلقہ فائیل کو برآمد کیا گیا اور اراضی کے رجسٹریشن کو منسوخ کرنے کی کارروائی شروع کی گئی ہے۔ اس اراضی سے متعلق بعض ایسے معاملات کا علم ہوا جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ وقف بورڈ کے بعض اندرونی عناصر نے ناجائز قابضین سے ملی بھگت کے ذریعہ اس قیمتی اراضی کے ریکارڈ کو غائب کردیا تاکہ کبھی بھی وقف بورڈ اپنی دعویداری پیش نہ کرسکے۔ بتایا جاتا ہے کہ وقف ریکارڈ میں مسجد مسلم جنگ مولاعلی کے تحت 49.11 ایکر اراضی موجود ہے جس کے متولی کی حیثیت سے حضور نظام کا نام درج ہے۔ اس اوقافی اراضی اور مسجد کے سلسلے میں کسی نائب متولی یا تولیت کمیٹی کا وجود نہیں ہے، جس کے باعث قابضین کو اس اراضی کو ہڑپنے میں کوئی دشواری نہیں ہوئی۔ بتایا جاتا ہے کہ مسلم جنگ کے خاندان سے کسی شخص نے بھی اس اراضی پر اپنا دعویٰ پیش نہیں کیا۔ اس قیمتی اراضی کے بارے میں جب وقف بورڈ کو اطلاع ملی تو چیف ایگزیکٹیو آفیسر نے سروے ٹیم کو روانہ کیا۔ سروے کے دوران بتایا چلا کہ صرف 9 ایکر 15 گنٹے اراضی فی الوقت موجود ہے جبکہ باقی اراضی کی کوئی نشاندہی نہیں ہے۔ وقف ریکارڈ کے مطابق سروے نمبر 358/1-2-3 کے تحت 49.11 ایکر اراضی موجود ہے۔ گزٹ 6-A مورخہ 9 فروری 1989ء کے صفحہ 171 اور سیرئیل نمبر 2681 میں اس اراضی کی تفصیلات درج ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ اس اراضی پر 2 شادی خانے، 60 ملگیات اور سوئمنگ پول تعمیر کیا گیا ہے۔ حال ہی میں 500 گز اراضی فروخت کرنے کی کوشش کی گئی جس کے لئے ہائیکورٹ سے عبوری حکم التواء حاصل کیا گیا اور حکم التواء کی مدت بھی ختم ہوچکی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ وقف بورڈ نے 500 گز اراضی کی رجسٹری کو روکنے کیلئے متعلقہ رجسٹرار کو مکتوب روانہ کیا ہے جس پر انہوں نے رجسٹری کی کارروائی کو روک دیا۔ وقف بورڈ کے ذرائع نے بتایا کہ عدالت کے فیصلے اور چیف کمشنر لینڈ ایڈمنسٹریشن کے احکامات کا حوالہ دیتے ہوئے غیرمجاز قابضین اپنی دعویداری پیش کررہے ہیں۔ وقف بورڈ نے جب سروے کی کوشش کی تو خود ریکارڈ روم میں دستاویزات غائب تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ بورڈ کے ایک ماتحت عہدیدار کے پاس یہ فائیل دستیاب ہوئی جو طویل عرصہ سے لاپتہ تھی۔ اراضی پر دعویداری پیش کرنے والے افراد مذکورہ ماتحت عہدیدار سے ربط میں ہیں۔ چیف ایگزیکٹیو آفیسر نے موجودہ سروے کے اعتبار سے 9 ایکر 15 گنٹے اراضی کے تمام رجسٹریشن منسوخ کرنے کی کارروائی شروع کی ہے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT