Tuesday , August 22 2017
Home / شہر کی خبریں / مسجد نانا باغ بشیر باغ کی اراضی کے تحفظ کو یقینی بنانے کی ہدایت

مسجد نانا باغ بشیر باغ کی اراضی کے تحفظ کو یقینی بنانے کی ہدایت

سکریٹری اقلیتی بہبود سید عمر جلیل کے چیف ایکزیکٹیو آفیسر وقف بورڈ محمد اسد اللہ کو احکامات
حیدرآباد۔/25فبروری، ( سیاست نیوز) مسجد نانا باغ، بشیر باغ کی وقف اراضی پر غیر مجاز تعمیرات کو روکنے کیلئے سکریٹری اقلیتی بہبود سید عمر جلیل نے چیف ایکزیکیٹو آفیسر وقف بورڈ محمد اسد اللہ کو فوری کارروائی کی ہدایت دی ہے۔ انہوں نے چیف ایکزیکیٹو آفیسر اور وقف بورڈ کے دیگر عہدیداروں کو طلب کرتے ہوئے مسجد نانا باغ اور اس سے متصل اراضی پر جاری غیر مجاز تعمیرات کی شکایات کا جائزہ لیا۔ انہوں نے عہدیداروں سے کہا کہ وہ اس مسجد کا معائنہ کرتے ہوئے اراضی کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔ چیف ایکزیکیٹو آفیسر نے سروے عہدیداروں کے ذریعہ مسجد کا معائنہ کرایا اور تعمیری کام روکنے کیلئے کارروائی شروع کی ہے۔ اسی دوران مجلس بچاؤ تحریک کے سابق کارپوریٹر امجد اللہ خاں خالد نے چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ اور ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی سے نمائندگی کرتے ہوئے مسجد کی اراضی کے تحفظ کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے چیف منسٹر کو روانہ کردہ مکتوب میں مسجد اور متصل اراضی کے وقف کئے جانے سے متعلق تفصیلات بھی پیش کی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ مذکورہ مسجد وقف گزٹ میں شامل ہے جس کے تحت تقریباً 7 ایکر اراضی موجود ہے جسے میر لیاقت علی خاں مقرب جنگ نے وقف کیا تھا۔ وقف بورڈ عہدیداروں کی لاپرواہی کے سبب اراضی پر ناجائز قبضے ہوگئے اور صرف 1500مربع گز اراضی باقی رہ گئی جو مسجد کے تحت ہے۔ امجد اللہ خالد نے مسجد کی اراضی پر کمرشیل کامپلکس کی تعمیر کا حوالہ دیا اور کہا کہ غیر قانونی طور پر جاری اس تعمیر میں قبرستان کو نقصان پہنچایا گیا ہے اور قبروں کو مسمار کیا جارہا ہے۔ تعمیر کے سلسلہ میں نہ ہی وقف بورڈ اور نہ گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن سے اجازت حاصل کی گئی۔ امجد اللہ خالد نے کہا کہ بعض افراد جو مسجد کمیٹی کے ارکان ہونے کا دعویٰ کررہے ہیں انہوں نے انہیں مسجد کے معائنہ سے روکنے کی کوشش کی۔ انہوں نے کمیٹی کے بعض ارکان کی غیر مجاز قابضین سے ملی بھگت کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ وقف بورڈ کے بعض اعلیٰ عہدیدار بھی اس معاملہ میں ملوث دکھائی دے رہے ہیں کیونکہ وہ توجہ دہانی کے باوجود خاموش ہیں۔ انہوں نے اندیشہ ظاہر کیا کہ کمرشیل کامپلکس کیلئے تعمیر کئے جارہے بڑے پلرس سے مسجد کو نقصان ہوسکتا ہے۔ انہوں نے اس معاملہ کی سی آئی ڈی کے ذریعہ تحقیقات کا مطالبہ کیا اور کہا کہ اس اراضی کی مالیت 500کروڑ سے زائد ہے۔ انہوں نے ڈپٹی چیف منسٹر کے علاوہ وزیر انفارمیشن ٹکنالوجی کے ٹی راما راؤ، میئر حیدرآباد، ڈپٹی میئر حیدرآباد، چیف سکریٹری، کمشنر جی ایچ ایم سی، ڈائرکٹر جنرل اے سی بی، ڈائرکٹر جنرل پولیس، سکریٹری اقلیتی بہبود، کمشنر پولیس حیدرآباد اور دوسروں کو بھی یادداشت روانہ کی ہے۔ امجد اللہ خالد نے کہا کہ مسجد کی 4ملگیوں کے غیر مجاز قابضین کے خلاف سپریم کورٹ میں کامیابی کے باوجود ان غیر مجاز قابضین کو وقف بورڈ نے کرایہ دار بنالیا ہے جس کا وقف بورڈ کو کوئی اختیار نہیں ہے حالانکہ ان ملگیات کا ہراج کرتے ہوئے زیادہ بولی دینے والوں کو الاٹ کیا جانا تھا۔

TOPPOPULARRECENT