Saturday , October 21 2017
Home / شہر کی خبریں / مسجد نانا باغ کی وقف اراضی پر قابضین کے خلاف نوٹس

مسجد نانا باغ کی وقف اراضی پر قابضین کے خلاف نوٹس

بورڈ سے سروے ، اراضی تحفظ کے لیے حد بندی کے اقدامات ، سی ای او وقف محمد اسد اللہ کی مساعی
حیدرآباد۔ 11۔ مئی  ( سیاست نیوز) مسجد نانا باغ ، بشیر باغ کی اوقافی اراضی کے تحفظ کیلئے وقف بورڈ نے 85 قابضین کے خلاف نوٹس جاری کی ہے اور 6 خصوصی ٹیموں کے ذریعہ یہ نوٹسیں حوالے کردی گئیں۔ چیف اگزیکیٹیو آفیسر وقف بورڈ محمد اسداللہ نے اس اراضی کے تحفظ میں خصوصی دلچسپی دکھاتے ہوئے وقف بورڈ میں موجود ریکارڈ کی بنیاد پر یہ نوٹسیں جاری کی ہیں جس کے تحت 7 بیگھے اراضی کا تحفظ کیا جائے گا ۔ یہ اراضی 5 ایکر 7 گنٹے ہوتی ہے جس پر کئی تجارتی ادارے اور اپارٹمنٹس تعمیر ہوچکے ہیں۔ وقف بورڈ میں موجود ریکارڈ کے مطابق 1925 ء میں یہ اراضی وقف کی گئی تھی۔ وقف بورڈ میں اس اراضی سے متعلق دو گزٹ پائے گئے ۔ ایک گزٹ میں 16 ایکر اراضی درج ہے جبکہ دوسرے میں 5 ایکر 7 گنٹے اراضی کا تذکرہ ہے ۔ پہلی گزٹ کے حق میں منتخب موجود نہیں جس کے باعث وقف بورڈ میں دوسرے گزٹ اور اس سے متعلقہ دستاویزات کی بنیاد پر اس قیمتی اراضی کے تحفظ کا فیصلہ کیا ہے ۔ مسجد نانا باغ سے متصل  غیر قانونی طور پر عمارت کی تعمیر کے بعد یہ معاملہ منظر عام پر آیا اور وقف بورڈ نے اپنے ریکارڈ کو اکٹھا کرتے ہوئے قابضین کے خلاف کارروائی کا آغاز کیا ہے ۔ بورڈ کی جانب سے پہلے اراضی کا سروے کیا گیا اور حدبندی کی گئی۔ اس علاقہ میں آنے والی تمام تجارتی اور رہائشی عمارتوں کے بلدی نمبر جمع کئے گئے اور اسی بنیاد پر 85 نوٹسیں تیار کی گئیں۔ بتایا جاتا ہے کہ بورڈ کے مختلف عہدیداروں پر مشتمل 6 خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئی تھی جنہوں نے یہ نوٹسیں قابضین کے حوالے کیں۔ بعض مکانات کے حقیقی مالکین کا پتہ نہیں چلا جس کے باعث وہاں نوٹس حوالے نہیں کی گئی ۔ حقیقی مالکین کا پتہ چلاکر دوبارہ نوٹس جاری کی جائے گی ۔ بعض مکان مالکین نے وقف بورڈ کی نوٹس قبول کرنے سے انکار کردیا۔ لہذا ان کے مکان پر نوٹس چسپاں کردی گئی۔ چیف اگزیکیٹیو آفیسر وقف بورڈ محمد اسد اللہ نے بتایا کہ وقف ایکٹ کی دفعہ 54 (1) کے تحت یہ نوٹسیں جاری کی گئی ہیں جس میں قابضین سے کہا گیا ہے کہ وہ فوری وقف بورڈ کے کرایہ دار بن جائیں یا پھر مکان کا تخلیہ کردیں۔ قابضین کو جواب دینے کیلئے کسی مدت کا تعین نہیں کیا گیا ہے ۔

بتایا جاتاہے کہ قابضین نے باقاعدہ اسوسی ایشن تشکیل دیتے ہوئے وقف بورڈ کے خلاف عدالت سے رجوع ہونے کا فیصلہ کیا ہے ۔ نانا باغ کی اس قیمتی اراضی کے تحفظ کے سلسلہ میں وقف بورڈ کو مختلف گوشوں سے دباؤ کا سامنا ہے۔ حکومت میں شامل افراد کی جانب سے وقف بورڈ پر دباؤ ڈالا گیا کہ وہ قابضین کے خلاف کارروائی سے گریز کرے۔ اس معاملہ میں ایک تنازعہ اس وقت پیدا ہوا جب 30 سال تک وقف بورڈ کے خلاف مقدمہ لڑنے والے بعض کرایہ داروں کے کرایہ کو سکریٹری اقلیتی بہبود نے معاف کردیا تھا۔ رینٹ ریویو کمیٹی کی سفارش پر صرف ایک لاکھ روپئے حاصل کرتے ہوئے 30 سال کے کرایہ کو معاف کردیا گیا جس پر مختلف گوشوں سے کافی تنقیدیں کی گئیں۔ اس فیصلہ سے وقف بورڈ کو لاکھوں روپئے کا نقصان ہوا۔ مسجد نانا باغ کے تحت اراضی پر موجود بعض تاجروں اور رہائشی مکانات کے مالکین نے وقف بورڈ کے کرایہ دار بننے کا پیشکش کیا ہے لیکن ان کی درخواستیں طویل عرصہ سے زیر التواء ہے۔ وقف بورڈ کی جانب سے بشیر باغ جیسے اہم مرکزی مقام پر 5 ایکر سے زائد اراضی کا تحفظ یقیناً ایک کارنامہ تصور کیا جائے گا ۔ شرط یہ ہے کہ وقف بورڈ اور اس کے عہدیدار پوری سنجیدگی کے ساتھ اس اراضی کے تحفظ کی مساعی کریں۔

TOPPOPULARRECENT