Friday , August 18 2017
Home / شہر کی خبریں / مسجد چیونٹی شاہ عثمان پورہ کی موقوفہ اراضی کو سرکاری قرار دے کر پٹوں کی اجرائی

مسجد چیونٹی شاہ عثمان پورہ کی موقوفہ اراضی کو سرکاری قرار دے کر پٹوں کی اجرائی

کلکٹر حیدرآباد کے حکم پر تحصیلدار چارمینار منڈل کا اقدام ،دونوں ریاستوں میں مساجد اور قبرستانوں کی اراضیات خطرہ میں : عثمان الہاجری
حیدرآباد ۔ 13 ۔ نومبر : ( سیاست نیوز ) : وقف اراضیات یا موقوفہ جائیدادیں ہمیشہ کے لیے موقوف ہی رہتی ہیں ان کی کسی حال میں نوعیت یا موقف تبدیل نہیں کیا جاسکتا ۔ لیکن ہمارے شہر میں اب موقوفہ جائیدادوں اور اراضیات کا موقف تبدیل کرنے کے غیر قانونی عمل کا آغاز ہوچکا ہے اگر اس عمل کی ابھی حوصلہ شکنی نہ کی جائے تو مستقبل میں حکومتیں قبرستانوں کو پرمبوک لینڈ Parambok Land ( سرکاری اراضی ) میں تبدیل کرتے ہوئے بڑی آسانی سے ہڑپ سکتی ہیں یا لینڈ گرابرس شہر خموشاں پر زندہ نعشوں کی بستیاں بسا سکتے ہیں ۔ دکن وقف پراپرٹیز پروٹیکشن سوسائٹی حیدرآباد نے شہر کے علاقہ عثمان پورہ ( اعظم پورہ ) میں ایسی موقوفہ جائیداد کا پتہ چلایا ہے جسے حکومت ( کلکٹر حیدرآباد ) نے سرکاری اراضی کی حیثیت دیتے ہوئے کرایہ داروں کے نام پٹے جاری کرنے کی ہدایت دی ہے ۔ دکن وقف پراپرٹیز پروٹیکشن سوسائٹی حیدرآباد کے صدر عثمان بن محمد الہاجری اور سید کریم الدین شکیل ایڈوکیٹ کا کہنا ہے کہ عثمان پورہ میں واقع مسجد چیونٹی شاہ کے تحت موقوفہ جائیدادیں اور اس سے متصل ایک قبرستان ہے ۔ آندھرا پردیش گزٹ نمبر 7 مورخہ 16-02-1984 میں اس موقوفہ اراضی ، قبرستان کی ساری تفصیلات درج ہیں ۔ عثمان الہاجری کے مطابق مذکورہ وقف جائیداد 8142 مربع میٹر پر محیط ہے جس میں مسجد چیونٹی شاہ قبرستان اور کئی مکانات شامل ہیں ۔ کئی کرایہ دار مسجد کمیٹی کو کرایہ ادا کررہے ہیں اور کئی مسجد کمیٹی کو کرائے ادا نہیں کررہے ہیں ۔ دکن وقف پراپرٹیز پروٹیکشن کمیٹی نے ضلع کلکٹر حیدرآباد کو پیش کردہ مکتوب میں بتایا کہ آپ کلکٹر نے ایک پروسیڈنگ نمبر 12/905/GYD/2015/3 مورخہ 28-3-2015 جاری کی ہے اور اس کے تحت آپ نے مذکورہ موقوفہ اراضی کو سرکاری اراضی میں تبدیل کر کے وقف اراضی کے کرایہ داروں کے نام پٹہ بھی جاری کئے جو کہ بالکل غیر قانونی اور ناجائز ہیں جب کہ کسی حکومت اور سرکاری عہدیدار کو حق نہیں پہنچتا کہ وہ ایک وقف جائیداد کو Porambok Land سرکاری اراضی میں تبدیل کرے ۔ دکن وقف پراپرٹیز پروٹیکشن سوسائٹی کا مطالبہ ہے کہ کرایہ داروں کو جو پٹے جاری کئے گئے ہیں نہ صرف انہیں منسوخ کیا جائے بلکہ وقف اراضی کو سرکاری اراضی میں تبدیل کرنے سے متعلق ہدایات بھی منسوخ کردی جائیں ۔ سرکاری گزٹ میں چیونٹی شاہ مسجد کی موقوفہ اراضی بشمول قبرستان کی تفصیلات کے مطابق اس کا فائل نمبر C4/46/2/79 مسجد چیونٹی شاہ عثمان پورہ بیرون دروازہ چادر گھاٹ حیدرآباد کا اصل میں پہلے انڈومنٹ میں اندراج تھا ۔ اس کا منتخب نمبر 232 مورخہ 29 مہر 1337F گزٹ نمبر 7 مورخہ 16 فروری 1984 ہے ۔ دوسری جانب آندھرا پردیش اسٹیٹ وقف بورڈ کو مسجد کمیٹی کی نمائندگی پر چیف اگزیکٹیو آفیسر اے پی اسٹیٹ وقف بورڈ حیدرآباد نے سب رجسٹرار رجسٹریشن آفس چارمینار حیدرآباد کے نام ایک مکتوب مورخہ 14-10-2015 روانہ کرتے ہوئے ان کے علم میں یہ بات لائی کہ مسجد چیونٹی شاہ کی موقوفہ اراضیات کے پٹے جاری کئے گئے ہیں جسے منسوخ کیا جانا ضروری ہے ۔ اسی دوران تحصیلدار چارمینار منڈل نے آر ٹی آئی کے تحت پوچھے گئے سوالات پر تسلیم کیا کہ 19 افراد کی درخواستیں موصول ہوئی تھیں ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ان میں 14 کرایہ داروں کی پٹے جاری کردئیے گئے ۔ بہر حال مسلمان اس طرح کی کوششوں پر خاموش رہیں تو نہ صرف حیدرآباد اور مضافاتی علاقوں کی موقوفہ اراضیات و قبرستانوں کو سرکاری اراضی قرار دیا جائے گا بلکہ بڑے پیمانے پر مختلف افراد کے نام پٹہ جاری کر کے کروڑہا روپئے کی سودے بازی کی جائے گی ۔۔

TOPPOPULARRECENT