Monday , August 21 2017
Home / Top Stories / مسعود اظہر پر امتناع عائد کرنے کیلئے سفارتی دباؤ جاری

مسعود اظہر پر امتناع عائد کرنے کیلئے سفارتی دباؤ جاری

لوک سبھا میں وی کے سنگھ کا بیان ۔ اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی اصلاحات کیلئے بھی مساعی جاری : سشما سوراج
نئی دہلی ۔ 4 مئی ۔ ( سیاست ڈاٹ کام ) جیش محمد کے سربراہ مسعود اظہر پر امتناع عائد کرنے کیلئے اقوام متحدہ میں ہندوستان کی مساعی کو چین کی جانب سے روک دیئے جانے کے پس منظر میں حکومت نے آج کہا کہ وہ سفارتی دباؤ ڈال رہی ہے تاکہ فنی رکاوٹ کو دور کرتے ہوئے اظہر پر امتناع عائد کیا جاسکے ۔ مملکتی وزیر برائے اُمور خارجہ وی کے سنگھ نے لوک سبھا کو بتایا کہ ہندوستان نے چین سے بھی کہا ہے کہ دہشت گردی کا معاملہ درپیش ہو تو الگ الگ صورتوں میں مختلف موقف اختیار نہیں کیا جاسکتا ۔ گزشتہ ماہ چین نے جیش محمد کے سربراہ اور پٹھان کوٹ دہشت گرد حملے کے مبینہ سرغنہ اظہر پر پابندی عائد کرنے کیلئے اقوام متحدہ میں کی گئی ہندوستان کی کوشش کو ناکام بنادیا تھا ۔ وقفۂ سوالات کے دوران وی کے سنگھ نے کہاکہ اظہر پر امتناع کا اقدام اقوام متحدہ میں کچھ فنی رکاوٹوں کا شکار ہے ۔ ’’ہم سفارتی ذرائع سے زور ڈال رہے ہیں تاکہ یہ رکاوٹ یقینی طورپر دور ہوجائے‘‘۔ چین اقوام متحدہ سلامتی کونسل کے اُن پانچ مستقل ارکان میں سے ہے جنھیں ویٹو اختیارات حاصل ہیں۔

دیگر مستقل ارکان فرانس ، روسی فیڈریشن ، یوکے اور یو ایس ہیں۔ اقوام متحدہ نے جیش محمد پر امتناع عائد کیا تھا لیکن 2008ء کے ممبئی دہشت گردانہ حملے کے بعد اظہر پر بھی پابندی عائد کرنے کیلئے ہندوستان کی کوششیں بارآور ثابت نہیں ہوئیں کیونکہ تب بھی چین نے اس سعی کو کامیاب ہونے نہیں دیا تھا ۔ اقوام متحدہ میں اصلاحات کے بارے میں وی کے سنگھ نے کہاکہ مستقل او رغیرمستقل دونوں زمروں کی رکنیت میں توسیع اقوام متحدہ سلامتی کونسل میں مجوزہ اصلاحات کا لازمی عنصر رہے گی ۔ چار مستقل رکن ممالک کا حوالہ دیتے ہوئے وی کے سنگھ نے کہا کہ وہ سب اصلاحات کے معاملے میں ہماری بات کی تائید کرتے ہیں ۔ چین کے تعلق سے وزیر موصوف نے کہا کہ وہ ملک ہندوستان کے موقف کو سمجھتا ہے اور اُس کی رائے ہے کہ ہندوستان کو اقوام متحدہ میں اچھا کام کرنے کاموقع ضرور ملنا چاہئے ۔ اُنھوں نے نشاندہی کی کہ ہمیں اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی رکنیت کیلئے معقول تائید و حمایت حاصل ہورہی ہے اور ملک کے قائدین جب بھی سمندر پار کے دورے پر جاتے ہیں تو یہ مسئلہ اُٹھاتے ہیں ۔

تاہم اقوام متحدہ میں اصلاحات طویل عمل ہے ۔ ایک تحریری جواب میں وزیر اُمور خارجہ سشما سوراج نے کہا کہ بڑی تعداد میں ملکوں نے سلامتی کونسل میں اصلاحات کے لئے ہندوستان کی پہل کی تائید کی ہے اور ساتھ ہی ساتھ مستقل رکنیت کیلئے ہندوستان کی اُمیدواری کی توثیق بھی کی ہے ۔ انھوں نے کہاکہ اس بات کا مختلف فورموں میں اظہار ہوا ہے جن میں حکومت ہند کے ساتھ باہمی تبادلہ خیال اور مذاکرات کے مواقع شامل ہیں۔ سشما سوراج نے کہا کہ حکومت کی رائے میں سلامتی کونسل کی عاجلانہ اصلاحات اقوام متحدہ کو بدلنے کی مجموعی کوشش کا لازمی عنصر ہے تاکہ اسے وسیع تر نمائندہ ادارہ بنایا جاسکے جو موثر اور شفاف ہو اور اپنے فیصلوںپر عمل درآمد کے معاملے میں اثرپذیر بھی ہو ۔ توسیع اقوام متحدہ سلامتی کونسل میں مستقل رکنیت کے حصول کی سمت ہندوستانی حکومت کی طرف سے باہمی اور ہمہ جہت فورموں میں کوششیں مسلسل جاری ہیں۔

TOPPOPULARRECENT