Wednesday , August 16 2017
Home / ہندوستان / مسلح افواج میں ڈسیپلن شکنی کا سخت نوٹ لینا ضروری

مسلح افواج میں ڈسیپلن شکنی کا سخت نوٹ لینا ضروری

حکام بالا کے احکام کی خلاف ورزی انتہائی غلط رویہ ۔ سپریم کورٹ کی سہ رکنی بنچ کی رولنگ

نئی دہلی 19 ڈسمبر ( سیاست ڈاٹ کام ) سکیوریٹی فورسیس کے عملہ کی جانب سے ڈسیپلن شکنی کو سنجیدگی سے لیا جانا چاہئے اور عہدیداران بالا کے احکام کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کام سے فرار اختیار کرنا ایک سنگین غلطی ہے ۔ سپریم کورٹ نے آج یہ رولنگ دی ۔ ایک سہ رکنی بنچ نے چیف جسٹس ٹی ایس ٹھاکر کی قیادت میں مزید کہا کہ ڈسیپلن شکنی کرنے والے ملازم پر جرمانہ عائد کرتے ہوئے کی ماضی کی روش کو بھی پیش نظر رکھنے کی ضرورت ہے ۔ عدالت نے یہ ریمارک اس وقت کئے جبکہ وہاں سی آئی ایس ایف کی ایک درخواست کی سماعت کی جا رہی تھی ۔ سی آئی ایس ایف نے دہلی ہائیکورٹ کے اگسٹ 2014 کے فیصلے کو چیلنج کیا ہے جس میں فورس کو ہدایت دی گئی ہے کہ ایک کانسٹیبل ابرار علی کی خدمات بحال کی جائیں۔ سی آئی ایس ایف کا کہنا تھا کہ ابرار علی کو اس کی ڈسیپلن شکنی اور غلط رویہ کی وجہ سے خدمات سے برطرف کیا گیا ہے ۔ اپنے فیصلے میں عدالت نے کہا کہ حالانکہ ابرار علی پانچ دن تک اپنی ڈیوٹی سے غیر حاضر رہنے کا خاطی ہے اور اس نے سابق میں تین موقعوں پر جرمانہ عائد کئے جانے کے باوجود اپنے رویہ میں کوئی بہتری پیدا نہیں کی ہے اس کے باوجود اس کی خدمات سے برطرفی بہت زیادہ سخت جرمانہ ہے ۔ عدالت نے کہا کہ اس کے خیال میں لازمی سبکدوشی کے ذریعہ اس معاملہ میں انصاف ہوسکتا ہے ۔ اس بنچ میں جسٹس ڈی وائی چندرا چوڑ اور جسٹس ایل ناگیشور راو بھی شامل تھے ۔ بنچ نے کہا کہ مسلح فورس کے کسی رکن کی جانب سے ڈسیپلن شکنی کا سخت نوٹ لیا جانا چاہئے یہ واضح ہے کہ ابرار علی نے عمدا اپنے عہدیداران بالا کے احکام کی خلاف ورزی کی ہے اور وہ پانچ دن تک ڈیوٹی سے غیر حاضر رہا تھا ۔ اس طرح فرائض سے فرار سنگین خلاف ورزی ہے اور اس پر مناسب کارروائی کی جانی چاہئے ۔ بنچ نے ہدایت دی کہ ابرار علی کی خدمات کو وظیفہ کا اہل قرار دینے تک کی مہلت تک اس کی خدمات کو برقرار رکھنے کی ضرورت ہے تاہم اس وقت تک اسے تنخواہ یا الاونس نہیں ملے گا ۔ ابرار علی کا سی آئی ایس ایف میں 1990 میں تقرر ہوا تھا اور اکٹوبر 1999 میں اس کے خلاف انکوائری ہوئی تھی ۔ اس پر الزام ہے کہ وہ دھنباد میں خدمات انجام دیتے ہوئے اپنے حکام بالا کے احکام کی خلاف ورزی کی تھی ۔ نومبر 2000 میں اسے خدمات سے برطرف کردیا گیا تھا ۔ اس کے بعد اس نے اپنی برطرفی کے خلاف اپیل کی تھی ۔ اس کی اپیل مسترد کردی گئی تھی تاہم دہلی ہائیکورٹ نے اسے بحال کرنے کے احکام جاری کئے تھے ۔

TOPPOPULARRECENT