Tuesday , September 26 2017
Home / شہر کی خبریں / مسلح افواج کو تنازعات میں گھسیٹنا قومی مفاد میں نہیں ‘ وینکیا نائیڈو

مسلح افواج کو تنازعات میں گھسیٹنا قومی مفاد میں نہیں ‘ وینکیا نائیڈو

مغربی بنگال میں فوج کی تعیناتی کو بغاوت کی کوشش قرار دینے پر اعتراض ۔ مرکزی وزیر اطلاعات و نشریات کا بیان
حیدرآباد 3 ڈسمبر ( پی ٹی آئی ) مغربی بنگال میں ٹول پلازا پر فوج کی موجودگی کے بعد ترنمول کانگریس کی جانب سے عائد کئے گئے ’ بغاوت ‘ کے الزام پر شدید اعتراض کرتے ہوئے مرکزی وزیر ایم وینکیا نائیڈو نے آج کہا کہ یہ بات قوم کے مفاد میں نہیں ہے کہ مسلح افواج کو تنازعات میں گھسیٹا جائے ۔اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے وینکیا نائیڈو نے کہا کہ ’ بغاوت کیا ہے ؟ ۔ اس کے بعد فوج کو تنازعہ میں گھسیٹا جا رہا ہے ۔ یہ قوم کے مفاد میں نہیں ہیں۔ جس کسی نے یہ کیا ہے یہ قابل مذمت ہے ۔ نہ صرف ترنمول کانگریس بلکہ افسوس کی بات یہ ہے کہ کانگریس اور دوسروں نے بھی حقائق کو جانے بغیر اس کو ایک بڑا مسئلہ بنانے کی کوشش کی ہے اور نتیجہ یہی نکال ہے کہ یہ بات الٹی پڑ گئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں ہندوستانی فوج کو تنازعہ میں گھسیٹنا نہیں چاہئے ۔ فوج ہمارا فخر ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مغربی بنگال میں فوج کی موجودگی پر ترنمول کانگریس نے اعتراض جتایا تھا حالانکہ یہ معمول کا عمل ہے اور اس میںکوئی نئی بات نہیں ہے ۔ نائیڈو نے کہا کہ یہ معمول کا عمل تھا اور ہر سال ہوتا ہے ۔ اس سال بھی یہ کام اتر پردیش ‘ بہار ‘ جھارکھنڈ ‘ اروناچل پردیش ‘ میگھالیہ ‘ منی پور اور آسام میں ہوا ہے ۔ گذشتہ سال یہ خود مغربی بنگال میںہواتھا ۔ اس میں کوئی نئی بات نہیں ہے ۔ یہ فوج کی تعیناتی یا بغاوت جیسی بات نہیں ہے ۔ یہ لوگ جھوٹی مہم چلا رہے ہیں۔ مغربی بنگال میں ٹول پلازا پر فوج کی موجودگی پر چیف منسٹر مغربی بنگال ممتابنرجی نے شدید اعتراض کیا تھا اور وہ احتجاج کیلئے ساری رات سیکریٹریٹ میں موجود رہی تھیں۔ انہوں نے سوال کیا تھا کہ کیوں فوجی بغاوت کی جا رہی ہے ۔ نائیڈو نے الزام عائد کیا کہ مختلف موضوعات پر جھوٹی مہم چلائی گئی ۔ ملک میں نمک کی قلت کی مہم چلائی گئی ‘ یہ مہم چلائی گئی کہ سونے کو ضبط کرلیا جائیگا ۔ یہ بھی کہا گیا کہ ایمرجنسی نافذکردی جائیگی کیونکہ فوج کو متعین کیا جا رہا ہے ۔ انہوں نے اپوزیشن جماعتوں سے اپیل کی کہ وہ اس طرح کی جھوٹی مہم نہ چلائیں اور نہ بڑے کرنسی نوٹوں کو بند کرنے کے فیصلے کے تعلق سے کسی طرح کی تنقیدیں کی جائیں۔ یہ اعتراف کرتے ہوئے کہ بڑے کرنسی نوٹوں کا چلن بند کئے جان سے عوام کو مشکلات پیش آئی ہیں مرکزی وزیر اطلاعات و نشریات نے کہا کہ جب کبھی کوئی تبدیلی لائی جاتی ہے تو ابتدا میں کچھ مسائل ضرور پیدا ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ابتداء میں کچھ مشکلات ضرور ہونگی ۔ یہی وجہ ہے کہ طویل مدتی فائدہ کیلئے وقتی تکلیف کو برداشت کیا جائے ۔ اسی لئے وزیر اعظم نے کہا تھا کہ انہیں 50 دن دئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کا منصوبہ سارے معاشی نظام کو بدلنے کا اور دہشت گردی ‘ حوالہ معاملتوں اور اسی طرح کے دوسرے جرائم کو روکنے کا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مودی ملک میں سارے معاشی اور فینانشیل نظآم کو بدلنا چاہتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ کالے دھن کو ختم کیا جائے ۔ وہ چاہتے ہیں کہ دہشت گردی کو ملنے والی مدد ختم ہوجائے ۔ وہ چاہتے ہیں کہ حوالہ کا کاروبار ختم ہو اور جو لوگ رقم کا ذخیرہ کرتے ہیں ان کے خلاف کارروائی کی جائے ۔ یہی وزیر اعظم کا خیال ہے ۔ انہوں نے ادعا کیا کہ تکالیف برداشت کرنے کے باوجود شہری وزیر اعظم کے اس فیصلے کی ستائش کر رہے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ حکومت کے ارادے کیا ہیں۔

TOPPOPULARRECENT