Sunday , August 20 2017
Home / دنیا / ’مسلمانوںکا داخلہ ممنوع‘ بورڈ آویزاں کرنے کے خلاف مقدمہ

’مسلمانوںکا داخلہ ممنوع‘ بورڈ آویزاں کرنے کے خلاف مقدمہ

مسلم امریکی فوجی رضاعی فتیحہ یو ایس ڈسٹرکٹ کورٹ سے رجوع
اوکلاہوماسٹی۔ 19 فبروری (سیاست ڈاٹ کام) امریکی فوج کا ایک عہدیدار جسے اوکلاہوما سٹی میں یہ معلوم ہونے کے بعد کہ وہ ایک مسلمان ہے، گن رینج سے باہر چلے جانے کا حکم دیا گیا تھا۔ اس نے اب سیوپورسیلف سروائیول اینڈ ٹکٹیکل گن رینج کے خلاف مقدمہ دائر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کا کہنا ہیکہ اب ملک بھر میں مسلمانوں کے خلاف منافرت میں اضافہ ہی ہوتا جارہا ہے۔ رضاعی فتیحہ نے یو ایس ڈسٹرکٹ کورٹ میں معاملہ درج کیا ہے۔ فتیحہ کے وکیل بریڈی ہنڈرسن کا کہنا ہیکہ ہر جگہ یہ بورڈ نظر آرہے ہیں کہ ’’فلاں فلاں ادارہ مسلمانوں سے پاک ہے‘‘۔

فلوریڈا، ارکنساس، کینٹکی اور نیویارک بھی شامل ہیں۔ فتیحہ مسلم ایڈوکیٹس گروپ کونسل کے بورڈ رکن ہیں جو امریکن ریلیشنر کے اوکلاہوما چیاپٹر سے وابستہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب انہیں مذکورہ بالا متنازعہ بورڈس کے بارے میں پتہ چلا تو انہوں نے وہاں کا دورہ کرنا مناسب سمجھا۔ انہوں نے کہاکہ گن رینج کے مالک نے ان کا خندہ پیشانی سے خیرمقدم کیا۔ تاہم ان کے چہرے پر اس وقت ہوائیاں اڑنے لگیں جب مسٹر فتیحہ نے یہ بتایا کہ وہ مسلمان ہیں اور ان کا رویہ بالکل بدل گیا اور وہ ان سے مشتبہ انداز میں بات کرنے لگے۔ انہوں نے فتیحہ سے یہ تک کہہ دیا کہ کیا وہ ان کا (مالک) قتل کرنے کیلئے وہاں آئے ہیں۔ گن رینج پر اس نوعیت کے بورڈ آویزاں کرنا مسلم دشمنی کے مترادف ہے۔ وکیل ہنڈرسن نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی ادارہ اگر ’’مسلمان نہیں، عیسائی نہیں، خواتین کا داخلہ ممنوع، بدھسٹوں کا داخلہ ممنوع‘‘ جیسے بورڈس آویزاں کرتا ہے تو یہ واقعتاً غیرامریکیت ہے کیونکہ امریکہ ایسی امتیازی سلوک کا متحمل نہیں ہوسکتا اور ایسا کرنا قطعی غلط ہے۔

TOPPOPULARRECENT