Wednesday , August 23 2017
Home / شہر کی خبریں / مسلمانوںکو 9 تا 12 فیصد تحفظات فراہم کئے جائیں

مسلمانوںکو 9 تا 12 فیصد تحفظات فراہم کئے جائیں

ٹاملناڈو کی تقلید کی جائے ۔ ایس سی ‘ ایس ٹی کی طرز پر علیحدہ سب پلان فراہم کیا جائے
وقف اثاثوں کے تحفظ کیلئے کمیشن اور اردو اساتذہ کے تقرر پر زور ‘ سدھیر کمیشن کی سفارشات
حیدرآباد  10 ڈسمبر ( سیاست نیوز ) مسلم تحفظات کے مسئلہ پر قائم کئے گئے سدھیر کمیشن نے آج سفارش کی ہے کہ مسلم اقلیت کی سماجی اور تعلیمی ترقی کو یقینی بنانے اور انہیں با اختیار بنانے کیلئے 9 تا 12 فیصد تحفظات فراہم کئے جائیں۔ ریاستی حکومت کو پیش کردہ اپنی رپورٹ میںسدھیر کمیشن نے مشورہ دیا ہے کہ وہ تحفظات کیلئے ٹاملناڈو کا طریقہ کار اختیار کرے اور ضروری ہو تو دستور میں ترمیم کیلئے مرکز سے نمائندگی کرے ۔ کمیشن نے ایس سی ‘ ایس ٹی سب پلانس کی طرز پر مسلم اقلیت کیلئے علیحدہ سب پلان کی تجویز بھی پیش کی ہے اور سفارش کی ہے کہ مسلمانوں کو روزگار ‘ تربیت ‘ اراضیات اور تعلیم ‘ نگہداشت صحت و دیگر بنیادی ضروریات جیسی سہولتیں فراہم کی جائیں۔ کمیشن نے جملہ 12 سفارشات پیش کی ہیں۔ ان میں مساوی مواقع فراہم کرنے کیلئے ایک خصوصی کمیشن کا قیام ‘ مسلم آبادی کو تمام سہولیات کی فراہمی کیلئے کمیٹی کا قیام ‘ بڑے پیمانے پر ہائی اسکولس اور کالجس قائم کرتے ہوئے بہترین تعلیمی مواقع کی فراہمی بھی شامل ہے ۔ کمیشن نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ 85 فیصد مسلمان انتہائی پسماندہ ہیں اور یہ ضروری ہے کہ انہیں مناسب حد تک تحفظات فراہم کئے جائیں۔ کمیشن نے کہا کہ مسلمانوں میں میہر ذات کو بھی ایس سیز میں شامل کیا جانا چاہئے تاکہ انہیں بھی تحفظات فراہم کئے جاسکیں۔ انہوں نے کہا کہ سچر اور کنڈو کمیٹیوں کی سفارشات پر عمل آوری کیلئے علیحدہ کمیٹیاں قائم کی جاسکتی ہیں۔ کمیٹی نے مزید جو سفارشات پیش کی ہیں ان میں یہ بھی شامل ہے کہ وقف اثاثہ جات کو بچانے اور تحفظ کیلئے ایک کمیشن قائم کیا جائے ۔ مسلم خواتین کو اضافی کوٹہ دیا جائے تاکہ وہ روزگار حاصل کرسکیں۔ اس کے علاوہ مسلم لڑکیوں کو تعلیم کے مواقع فراہم کرنے ہائی اسکولس و کالجس قائم کئے جائیں۔ طلبا کو ان اداروں میں داخلوں کیلئے کیاش لیس معاملے کئے جائیں اور طلبا کو اسکالرشپ حاصل کرنے میں مشکلات کو ختم کیا جائے ۔ کمیشن نے سفارش کی ہے کہ اردو زبان کے اساتذہ کے تقرر کیلئے اقدامات کئے جانے چاہئیں اور اسے دوسری سرکاری زبان کے طور پر فروغ دیا جانا چاہئے ۔ مسلم تاجروں کیلئے اسٹارٹ اپ فنڈ قائم کیا جانا چاہئے ۔ مسلمانوں میں خود اعتمادی پیدا کرنے اقدامات کئے جانے چاہئیں۔ گاووں میں ’’ آٹو ۔ اونر شپ ‘‘ اسکیم کو توسیع دی جانی چاہئے ۔

TOPPOPULARRECENT