Wednesday , June 28 2017
Home / اداریہ / مسلمانوںکے تعلق سے ریمارکس

مسلمانوںکے تعلق سے ریمارکس

جب بھی دنیا میں نیا فتنہ کوئی اٹھتا ہے
دور سے لوگ بتادیتے ہیںتربت میری
مسلمانوںکے تعلق سے ریمارکس
ہندوستانی مسلمان ان دنوں ہر گوشے سے نشانے پر ہیں۔ آئے دن کسی نہ کسی گوشے سے انہیں نشانہ بنانے کا عمل شروع ہوچکا ہے ۔ اب تک کچھ فرقہ پرست عناصر اور فاشسٹ منصوبوں والے طاقتیں انہیں نشانہ بنایا کرتی تھیں لیکن اب خود مرکزی وزیر روی شنکر پرساد نے ایسے ریمارکس کئے ہیں جو انتہائی قابل مذمت ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ملک کے مسلمانوں نے حالانکہ ان کی پارٹی کو ووٹ نہیں دیا ہے اس کے باوجود مرکزی حکومت نے مسلمانوں کو ان کا مقام اور احترام دیا ہے ۔ مرکزی وزیر کا یہ بیان در اصل دستور ہند کے مغائر ہے ۔ ملک کا جو دستور ہے اس نے سارے شہریوں کیلئے مساوی حقوق کی ضمانت دی ہے ۔ اس ملک میں اقلیتوں کے مفادات اور ان کے حقوق کی ضمانت دی گئی ہے ۔ ان کے اختیارات کا تعین کردیا گیا ہے ۔ حقوق اور مفادات کے معاملہ میں اکثریت اور اقلیت کا کوئی امتیاز دستور ہند میں نہیں رکھا گیا ہے اس کے باوجود یہ کہنا کہ مسلمانوں نے بی جے پی کو ووٹ نہیں دیا ہے اس کے باوجود بی جے پی کی حکومت ان کو مقام اور احترام دے رہی ہے ۔ یہ بیان کسی فرقہ پرست تنظیم کے کسی کارکن کی جانب سے دیا جاتا تو بات سمجھ میں بھی آتی افسوس اس بات کا ہے کہ یہ بیان ایک ذمہ دار حکومت کے ذمہ دار نمائندے کی جانب سے دیا گیا ہے ۔ اس ملک میں ہر کوئی واقف ہے کہ تمام شہریوں کیلئے بنیادی حقوق اور اختیارات دستور ہند میں متعین کردئے گئے ہیں اور کسی کو بھی کسی دوسروں کے حقوق اور اختیارات چھیننے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے ۔ روی شنکر پرساد کو اور ان کے ہم خیال قائدین کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ جہاں دستور نے اپنے تمام شہریوں کو بلا لحاظ مذہب و ملت تمام حقوق و اختیارات دئے ہیں وہیں اسی دستور نے حکومتوں کو بھی ذمہ داری تفویض کی ہے کہ وہ ان حقوق کے تحفظ کو یقینی بنائیں اور تمام شہریوں کے ساتھ مساویانہ سلوک کیا جائے ۔ مرکز میں یا ریاستوں میں چاہے جس کسی جماعت کی حکومت ہو ہر ایک کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ ملک کے تمام شہریوں کے حقوق اور ان کے مفادات کا تحفظ کریں اور ان کو پامال کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے ۔ اگر کوئی حکومت ایسا نہیں کرتی ہے تو وہ اپنی دستوری ذمہ داری سے فرار اختیار کر رہی ہے ۔
مسلمان اس ملک میں مساویانہ حقوق رکھتے ہیں۔ انہیں دوسرے درجہ کا شہری بنانے کی کوششیں ہو رہی ہیں۔ ان میں خوف پیدا کیا جا رہا ہے ۔ ان سے امتیاز برتا جا رہا ہے ۔ ان کی شریعت میں مداخلت کی کوششیں ہو رہی ہیں۔ ان کے کھانے پینے کے ضابطے حکومت تیار کرنے لگی ہے ۔ ان کی عبادات کے تعلق سے اعتراضات کئے جا رہے ہیں یہ ایسی صورتحال ہے جس میںمرکزی حکومت کی دستوری ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ عملی میدان میں آئے اور اس صورتحال کا سدباب کرنے کیلئے اقدامات کرے ۔ جو عناصر مسلمانوں کا عرصہ حیات تنگ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ان کو کیفر کردار تک پہونچایا جائے ۔ اس ملک سے مسلمانوں کو پاکستان چلے جانے کے مشورے دئے جا رہے ہیں۔ ان عناصر کو نشانہ بنانے کی ضرورت ہے ۔ گوشت رکھنے کی پاداش میں یا محض جانوروں کو منتقل کرنے کی وجہ سے مسلمانوں کا قتل سر عام کیا جا رہا ہے ۔ ایسے جرائم کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کرنے کی ضرورت ہے نہ کہ یہ جتانے کی کہ حکومت نے مسلمانوں کو ان کا مقام اور احترام دیا ہے ۔ ہر شہری کو عزت و احترام اور پرسکون زندگی فراہم کرنا ہی حکومت کی دستوری ذمہ داری ہے اور ایسا کرتے ہوئے کوئی بھی حکومت کسی بھی فرقہ یا مذہب کے ماننے والوں پر کوئی احسان نہیںکرتی بلکہ وہ اپنی دستوری ذمہ داری پوری کرتی ہے ۔ حکومت کو یہ جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ اس نے مسلمانوں کے تئیں اپنی دستوری اور قانونی ذمہ داری کو کس حد تک پورا کیا ہے اور اسے مزید کیا کچھ کرنے کی ضرورت ہے ۔
یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ اس ملک میں مسلمان کسی کے رحم و کرم پر نہیں ہیں بلکہ وہ پورے مساویانہ حقوق رکھتے ہیں ۔ انہیں بھی اتنے ہی حقوق حاصل ہیں جتنے دوسرے مذاہب کے ماننے والوں کو حاصل ہیں۔ اگر مسلمان کسی جماعت کو ووٹ نہیں دیتے ہیں تو وہ اس جماعت یا اس کے قائدین کو جوابدہ نہیں ہیں۔ ووٹ دینا ہر ایک کا بنیادی حق ہے اور ہر کوئی اپنی پسند کے امیدوار یا جماعت کے حق میں ووٹ استعمال کرتا ہے ۔ اگر کوئی حکومت کسی طبقہ یا فرقہ کو محض اس لئے نظر انداز کرتی ہے کہ اس نے اس جماعت کے حق میں ووٹ نہیں دیا ہے تو وہ دستوری خیانت کی مرتکب کہی جائیگی اور فی الحال ایسا ہی ہور ہا ہے ۔ مرکزی حکومت کو اپنے موقف کا از سر نو جائزہ لینے کی ضرورت ہے اور اسے دستوری ذمہ داری کو پورا کرتے ہوئے اس ملک میں مسلمانوں کو ان کا جائز مقام اور ان کے تمام بنیادی حقوق دلانے کیلئے آگے آنا چاہئے ۔ یہ اس کی ذمہ داری ہے ‘ مسلمانوں پر کوئی احسان نہیں۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT