Thursday , September 21 2017
Home / شہر کی خبریں / مسلمانوں اور درج فہرست قبائل کے تحفظات میں اضافہ کا خیر مقدم

مسلمانوں اور درج فہرست قبائل کے تحفظات میں اضافہ کا خیر مقدم

پسماندہ طبقات کو آبادی کے لحاظ سے تحفظات کا مطالبہ ، تلگو دیشم رکن اسمبلی آر کرشنیا
حیدرآباد۔6 جنوری (سیاست نیوز) تلگودیشم کے رکن اسمبلی آر کرشنیا نے مسلمانوں اور درج فہرست قبائل کے تحفظات کے فیصد میں اضافہ کا خیرمقدم کرتے ہوئے پسماندہ طبقات کو ان کی آبادی کے لحاظ سے تحفظات فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔ اسمبلی میں وقفہ صفر کے دوران یہ مسئلہ اٹھاتے ہوئے آر کرشنیا نے کہا کہ حکومت کی جانب سے مسلم تحفظات کے فیصد میں اضافے کی کوششوں سے بی سی طبقات میں تشویش پائی جاتی ہے۔ انہیں اندیشہ ہے کہ مسلمانوں اور درج فہرست قبائل کے تحفظات میں اضافہ کی صورت میں کہیں ان سے ناانصافی نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ تاملناڈو کی طرز پر تحفظات کی فراہمی کا فیصلہ خوش آئند ہے اور وہ مسلمانوں اور درج فہرست قبائل کے تحفظات کے فیصد میں اضافے کے اقدامات کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نو قائم شدہ بی سی کمیشن کو حکومت کی جانب سے مسلم تحفظات کے مسئلہ پر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی گئی ہے تاکہ اسمبلی میں بل پیش کیا جاسکے۔ آر کرشنیا نے کہا کہ تلنگانہ میں پسماندہ طبقات کی آبادی 52 فیصد ہے اس اعتبار سے انہیں تحفظات فراہم کئے جانے چاہئیں۔ پسماندہ طبقات سے تعلق رکھنے والے افراد تحفظات میں اضافے کا طویل عرصے سے مطالبہ کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دستور میں اس بات کی گنجائش موجود ہے کہ آبادی کے اعتبار سے تحفظات میں اضافہ کیا جائے۔ سپریم کورٹ نے بھی اس کی اجازت دی ہے اور بعض کمیشنوں کی رپورٹ بھی آبادی کے اعتبار سے تحفظات کے فیصد میں اضافے کے حق میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت بی سی کمیشن کے ذریعہ پسماندہ طبقات کو آبادی کے اعتبار سے تحفظات کی فراہمی کے اقدامات کرنی چاہئے۔ گزشتہ 69 برسوں سے پسماندہ طبقات کے ساتھ ناانصافی کی جارہی ہے اور بی سی طبقات کے کئی ذیلی گروپ کو تحفظات میں موثر نمائندگی نہیں ہے۔ وزیر زراعت پوچارم سرینواس ریڈی نے تلگودیشم رکن کو تیقن دیا کہ حکومت اس مسئلہ کا جائزہ لے گی۔

TOPPOPULARRECENT