Friday , May 26 2017
Home / Top Stories / مسلمانوں اور درج فہرست قبائیل کو تحفظات کی راہ ہموار

مسلمانوں اور درج فہرست قبائیل کو تحفظات کی راہ ہموار

آج کابینہ کے اجلاس میں بی سی کمیشن رپورٹ کی منظوری، 16 اپریل کو اسمبلی کا خصوصی سیشن طلب کرنے کا فیصلہ
حیدرآباد۔/11اپریل ، ( سیاست نیوز) ٹی آر ایس حکومت نے مسلمانوں اور درج فہرست قبائیل کو تحفظات میں اضافہ کے وعدہ پر عمل آوری کیلئے 16 اپریل کو اسمبلی کا خصوصی اجلاس طلب کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ باوثوق ذرائع نے بتایا کہ پسماندہ طبقات کمیشن نے مسلم تحفظات کے مسئلہ پر چیف منسٹر کو آج اپنی رپورٹ پیش کردی ہے۔ ریاستی کابینہ کا اجلاس کل 12 اپریل کی شام طلب کیا گیا ہے جس میں بی سی کمیشن کی رپورٹ کو منظوری دی جائے گی۔ اسی دوران چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے ریاستی گورنر ای ایس ایل نرسمہن سے ملاقات کی اور تحفظات کے مسئلہ پر اسمبلی کا خصوصی اجلاس طلب کرنے کے منصوبہ سے واقف کرایا۔ بتایا جاتا ہے کہ گورنر کو مسلمانوں اور درج فہرست قبائیل کے تحفظات میں اضافہ کے طریقہ کار سے آگاہ کیا گیا۔ حکومت دونوں طبقات کے تحفظات کو علی الترتیب 9 فیصد کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ مسلمانوں اور درج فہرست قبائیل کو حکومت نے فی کس 12 فیصد تحفظات فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا تاہم بعض دستوری اور قانونی رکاوٹوں کو دیکھتے ہوئے 9 فیصد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ بی سی کمیشن نے بھی مسلمانوں کو 9 فیصد تحفظات کی سفارش کی ہے۔ ریاست میں مسلمانوں کو 4 فیصد تحفظات پہلے ہی سے حاصل ہیں لہذا تحفظات میں مزید 5 فیصد کا اضافہ کرتے ہوئے اسمبلی میں بل منظور کیا جائے گا۔ بتایا جاتا ہے کہ مسلمانوں سے تعلق رکھنے والے دودیکلا طبقہ کے ایک فیصد تحفظات کو ملالیں تو مسلم تحفظات مجموعی طور پر 10 فیصد ہوجائیں گے۔ اسی طرح درج فہرست قبائیل کے تحفظات کو بھی 9 فیصد کرتے ہوئے اسمبلی میں قانون سازی کی جائے گی۔ بجٹ اجلاس کے موقع پر چیف منسٹر نے اعلان کیا تھا کہ تحفظات کے مسئلہ پر اندرون ایک ہفتہ خصوصی اجلاس طلب کیا جائے گا۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر نے مسلم تحفظات کے مسئلہ پر کئی قائدین بشمول ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی سے بات چیت کی۔ چیف منسٹر کا کہنا ہے کہ بی جے پی کے خوف سے مسلم تحفظات میں تاخیر نہیں کی جاسکتی۔ انہوں نے کہا کہ یو پی اور تلنگانہ کی صورتحال مختلف ہے تلنگانہ میں گنگاجمنی تہذیب کا غلبہ ہے اور یہاں بی جے پی کو اس مسئلہ سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ چیف منسٹر نے کہا کہ مسلم تحفظات کی فراہمی دراصل حکومت کا وعدہ ہے جس کی تکمیل وہ خود پر فرض سمجھتے ہیں۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT