Tuesday , October 17 2017
Home / Top Stories / مسلمانوں اور قبائلی طبقات کیلئے تحفظات میں اضافہ کو منظوری کی خواہش

مسلمانوں اور قبائلی طبقات کیلئے تحفظات میں اضافہ کو منظوری کی خواہش

پسماندگی کی بنیاد پر فیصلہ ‘ ریاستوں کو تحفظات کے معاملہ میں آزادی دی جانی چاہیئے ‘ وزیراعظم نریندر مودی سے چیف منسٹر کے سی آر کی مؤثرنمائندگی

حیدرآباد ۔24اپریل ( سیاست نیوز) چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر نے وزیراعظم نریندر مودی سے ملاقات کرتے ہوئے مسلم اور قبائیلی طبقات کے تحفظات میں توسیع دینے کیلئے اسمبلی میں منظورہ بل پر عمل آوری کیلئے منطوری دینے کی یادداشت پیش کی ‘ تعلیم اور ملازمتوں میں تحفظات فراہم کرنے کے اختیارات ریاستوں کو سونپ دینے کا مطالبہ کیا ۔ نیتی آیوگ کے اجلاس میں شرکت کرنے کیلئے کل دہلی پہنچنے والے چیف منسٹر تلنگانہ نے آج وزیراعظم سے تقریباً دیڑھ گھنٹہ تک ملاقات کی ۔ تحفظات کے علاوہ ریاست کے دوسرے مسائل پر تفصیلی بات چیت کی ۔ چیف منسٹر کے سی آر نے وزیراعظم نریندر مودی کو بتایا کہ تقسیم ریاست کے بعد تلنگانہ میں پسماندہ طبقات کی آبادی 90فیصد تک پہنچ گئی ہے ۔ تلنگانہ میں ایس سی ‘ ایس ٹی ‘ بی سی اور اقلیتوں کی آبادی بڑھ گئی ہے اور تمام طبقات کو آبادی کے تناسب سے تحفظات فراہم کرنے کی اجازت دی گئی ۔ چیف منسٹر نے وزیراعظم کو بتایا کہ ایس ٹی اور بی سی ۔ای کے تحفظات میں توسیع دینے کیلئے کمیشن تشکیل دیتے ہوئے ان کی سفارشات پر اسمبلی کا خصوصی اجلاس طلب کرتے ہوئے تحفظات میں توسیع دینے کی قرارداد منظور کی گئی ہے ۔ یہ طبقات سماجی ‘ معاشی اور تعلیمی اعتبار سے کافی پسماندہ ہیں ‘ ان کی تمام شعبوں میں مناسب حوصلہ افزائی کیلئے اسمبلی میں قانون سازی کی گئی ہے جس کو مرکز کی منظوری ضروری ہے ۔ اس کے علاوہ چیف منسٹر نے تعلیم اور ملازمتوں میں تحفظات کی توسیع کے اختیارات ریاستوں کو سونپ دینے کا بھی مطالبہ کیا ہے ۔ تلنگانہ ایس سی طبقات میں زمرہ بندی کا برسوں سے مطالبہ کیا جارہا ہے ۔ اس مطالبہ کو عوام کی بھرپور تائید حاصل ہے اور یہ مطالبہ حق بجانب بھی ہے ۔  ایس سی زمرہ بندی پر مرکزی حکومت فوری ردعمل کا اظہار کرے اور پارلیمنٹ میں قانون سازی کرتے ہوئے زمرہ بندی کرنے کا مطالبہ کیا ۔ تقسیم آندھراپردیش بل میں اسمبلی کی نشستوں میں اضافہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا ‘ تلنگانہ میں اسمبلی نشستوں کی تعداد میں اضافہ کرنے پر زور دیا ۔ ہائیکورٹ کی تقسیم کے عمل میں تیزی پیدا کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے تلنگانہ کیلئے مختص 1400 کروڑ روپئے فوری جاری کرنے کا مطالبہ کیا ۔ کالیشورم پراجکٹ کو قومی پراجکٹ کا درجہ دینے کی اپیل کی اور فنڈز جاری کرنے کا مطالبہ کیا ۔ سکریٹریٹ کی تعمیرات کیلئے پریڈ گراؤنڈ ریاستی حکومت کے حوالے کرنے پر زور دیا ۔ چیف منسٹر کے سی آر کی جانب سے پیش کئے گئے تمام مطالبات پر وزیراعظم نریندر مودی نے مثبت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے ان پر فوری کارروائی کرنے کا تیقن دیا ۔ چیف منسٹر نے مذاکرات ثمر آور ہونے کا دعویٰ کیا ۔ چیف منسٹر نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ جس طرح زرعی شعبہ سے ہونے والی آمدنی کو ٹیکس سے استثنیٰ دیا گیا ہے ‘ اسی طرح زرعی شعبہ سے تعلق رکھنے والے دوسرے شعبوں سے ہونے والی آمدنی کو ٹیکس سے  مستثنی ٰ رکھنے کا وزیراعظم سے مطالبہ کیا ۔ اس فیصلہ سے پیشہ وارانہ سرگرمیوں سے وابستہ غریب عوام کی زندگیوں میں خوشحالی آنے کا چیف منسٹر نے دعویٰ کیا ۔ کے سی آر نے کہا کہ پیشہ وارانہ سرگرمیوں سے کئی بی سی طبقات وابستہ ہیں ‘ تلنگانہ حکومت پیشہ وارانہ سرگرمیوں سے وابستہ افراد کی حوصلہ افزائی کیلئے بڑے پیمانے پر اقدامات کررہی ہے ۔ تلنگانہ  میں بھیڑ بکریوں اور مچھلیوں کی تقسیم عمل میں لائی جارہی ہے جو دیہی علاقوں  میں معیشت کو مستحکم کرنے میں کارآمد ثابت ہورہی ہے ۔ غریب عوام کی زندگیوں میں خوشحالی لانے والے پیشہ وارانہ سرگرمیوں سے ٹیکس وصول کرنا غیر مناسب ہے ۔ لہذا مرکزی حکومت اس پر سنجیدگی سے غور کرے ۔ چیف منسٹر نے کہا کہ مرکز کی جانب سے ایک ملک اور ایک ٹیکس کا نظام قائم کیا گیا ہے ۔ اس بل کو تلنگانہ اسمبلی میں بھی منظوری دی گئی ہے ‘ تاہم ریاستوں کو ہونے والے نقصانات کو مرکز برداشت کرے ۔ یہ قانون ریاستوں کے مفادات کے خلاف نہ ہو ‘ مرکز اس کا خیال رکھے ۔ انہیں امید ہے جی ایس ٹی پر عمل آوری ملک کے مفاد میں ہوگی  ۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے مرکزی وزیر قانون روی شنکرپرساد سے ملاقات کرتے ہوئے اسمبلی میں منظورہ حصول اراضیات قانون کو منظوری دینے کی اپیل کی ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ اس قانون سے اراضیات سے محروم ہونے والے عوام کو کم وقت میں زیادہ فائدہ ہوگا ۔ پراجکٹس کی تعمیرات میں بھی تیزی پیدا ہوگی ‘ جس پر مرکزی وزیر نے مثبت ردعمل کا اظہار کیا ۔ ہائیکورٹ کی تقسیم پر بھی مرکزی وزیر قانون نے مثبت ردعمل کا  اظہار کیا ۔

TOPPOPULARRECENT