Wednesday , October 18 2017
Home / Top Stories / مسلمانوں سے اظہاریگانگت کیلئے نیویارک میں ریلی

مسلمانوں سے اظہاریگانگت کیلئے نیویارک میں ریلی

مختلف مذاہب کے ماننے والے امریکیوں نے ’’میں بھی مسلم ہوں‘‘ کا نعرہ لگایا
نیویارک۔20 فبروری ۔ ( سیاست ڈاٹ کام ) امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی مسلم دشمن ایمیگریشن پالیسیوں کے خلاف احتجاج اور مسلمانوں سے اظہاریگانگت کرتے ہوئے مختلف عقائد اور مذاہب سے تعلق رکھنے والے ہزاروں امریکیوں نے آج تاریخی ٹائمس اسکوائر پر جمع ہوکر علامتی طورپر اعلان کیا کہ ’’میں بھی مسلمان ہوں‘‘ ۔ سات مسلم اکثریتی ممالک کے شہریوں کے امریکہ میں داخلہ پر امتناع عائد کرنے صدر ٹرمپ کے نئے عاملانہ حکمنامہ سے پیداشدہ غیریقینی اور بے چینی کے جواب میں فاؤنڈیشن برائے نسلی مفاہمت اور نسانتارا فاؤنڈیشن نے مشترکہ طورپر اس ریلی کااہتمام کیا تھا۔ مسلمانوں سے اظہاریگانگت کیلئے منعقدہ اس ریلی میں شامل ہزاروں امریکیوں نے اپنی مذہبی ’’وابستگیوں سے بالاتر ہوکر ’’ہم بھی مسلمان ہیں‘‘ ۔ ’’میں بھی مسلم ہوں‘‘ کے نعرے لگائے ۔ دیگر کئی مرد و خواتین بیانرس تھامے ہوئے تھے جن پر ’’ٹرمپ کی نفرت سے محبت‘‘ ۔ ’’امریکہ۔امریکہ‘‘ اور ’’مسلمانوں پر کوئی امتناع نہیں‘‘ ۔ جیسے نعرے درج تھے ۔ امریکہ کے نئے صنعتکار اور مصنف آرتھر سمنس اور اداکارہ سوزان سارنڈان کی قیادت میں منعقدہ اس ریلی میں مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے امریکیوں نے شرکت کی ۔ جس میں مختلف مذاہب کے پیشواؤں اور سرکردہ قائدین نے اپنے ملک ( امریکہ ) میں انتشارپسند سیاسی ماحول کی مذمت کی اور امریکیوں پر زور دیا کہ وہ مسلمانوں کی تائید و حمایت کریں جو (مسلمان ) مسلسل بڑھتے ہوئے دباؤ ، دھمکیوں اور خطرات کا سامنا کررہے ہیں ۔ نیویارک کے میئر بل ڈی بلاسیو نے ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تمام مذاہب اور عقائد کے احترام کے لئے امریکہ کی بنیاد ڈالی گئی تھی اور مسلمانوں کے خلاف بے بنیاد و گمراہ کن پروپگنڈہ سے پیدا شدہ بدگمانیوں کو ختم کیا جانا چاہئے ۔ بلاسیو نے کہا کہ ’’اس شہر کے میئر کی حیثیت سے میں ہر کسی کو اس کے خاندانی پس منظر ، عقیدہ اور مقام پیدائش کا امتیاز کئے بغیر یہ پیغام دینا چاہتا ہوں کہ یہ آپ کا شہر ہے اور یہ آپ کا ملک ہے ‘‘ ۔ میئر نے مزید کہا کہ ’’خواہ جو کوئی بھی ہوں ہم سب امریکی ہیں اور اس جذبہ کا تحفظ کیا جانا چاہئے ۔ کسی کے مذہب و اعتقاد پر کیا جانے والا کوئی بھی حملہ دراصل تمام مذاہب و عقائد کے ماننے والے تمام افراد پر حملے کے مترادف ہے‘‘ ۔ میئر بلاسیو نے نیویارک سٹی پولیس کے 900 مسلم اہلکاروں کی ستائش کرتے ہوئے اپنی تقریر کے اختتام پر اعلان کیا کہ ’’مجھے یہ کہنے پر فخر ہے کہ میں بھی مسلم ہوں‘‘ ۔ سرکردہ سکھ امریکی مقرر اور جہدکار سمرنجیت سنگھ نے کہا کہ وہ اس ریلی کی اس لئے تائید کررہے ہیں کہ بحیثیت ایک سکھ وہ بھی جانتے ہیں کہ امتیازی سلوک اور جبر و استبداد دوسروں کو کیسا محسوس ہوتا ہے ۔ انھوں نے کہا کہ ’’ہم ایک قابل قبول ، برداشت و رواداری پر مبنی دنیا چاہتے ہیں‘‘ ۔ اداکارہ سوزان سارنڈان نے کہاکہ ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال میں اب خاموش تماشائی یا بے تعلق رہنا ممکن نہیں رہا ہے ۔ اگر آپ خاموش رہیں گے تو یہ آپ کا تساہل و کاہلی ہوگی ۔ سوزان نے کہا کہ ’’ہم سب یہاں اس لئے جمع ہوئے ہیں کہ ہم کسی ایسی مشین کا پرزہ بننا نہیں چاہتے جو ہمارے دستور اور ہمارے حقوق کو تہس نہس کرتا ہے ‘‘ ۔ ان کے اس ریمارک کا شرکاء نے پرجوش نعروں کے ساتھ خیرمقدم کیا۔ امریکی مسلم خاتون لتیشا جیمس نے کہاکہ یگانگت کی اس ریلی پر انھیں فخر ہے ۔ تمام شرکاء اس ملک کے مسلمانوں کی تائید کے لئے جمع ہوئے ہیں ۔ امریکی عوام اپنے ساتھیوں کے خلاف امتیازی سلوک برداشت نہیں کریں گے۔ لیتیشا جیمس نے مزید کہاکہ ’’تمام امریکی شہریوں کی نوعیت یکساں ہے ۔ کسی کے ساتھ کوئی متیازی سلوک نہیں کیا جانا چاہے ۔ ہم سب دیگر مقامات سے نقل وطن کرتے ہوئے امریکہ پہونچے تھے چنانچہ ٹرمپ کے لئے یہ ٹھیک نہیں ہوگا کہ وہ مسلمانوں پر امتناع عائد کریں۔ مسلمانوں اور پناہ گزینوں کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جارہا ہے ۔ سب کے لئے یہ بہتر ہوگا کہ وہ مسلمانوں کی تائید کریں‘‘۔

TOPPOPULARRECENT