Monday , September 25 2017
Home / اداریہ / مسلمانوں سے پاک ہندوستان

مسلمانوں سے پاک ہندوستان

کچھ بات ہے کہ ہستی مٹتی نہیں ہماری
صدیوں رہا ہے دشمن ‘ دور زماں ہمارا
مسلمانوں سے پاک ہندوستان
وشوا ہندو پریشد کی لیڈر سادھوی پراچی نے ایک بار پھر متنازعہ بیان جار ی کیا ہے اور اس بار انہوں نے راست مسلمانوں کو نشانہ بناتے ہوئے ہندوستان کو مسلمانوں سے پاک کرنے کا نعرہ دینے کی کوشش کی ہے ۔ سادھوی پراچی اس سے قبل بھی کئی متنازعہ بیانات دیتی رہی ہیں۔ انہوں نے بالی ووڈ کے تینوں خان اداکاروں شاہ رخ ‘ سلمان اور عامر خان کی فلموں کا بائیکاٹ کرنے کی اپیل بھی کی تھی تاہم اس کا زرہ برابر بھی اثر نہیں ہوا ۔ انہوںنے ملک میں تمام اقلیتی تعلیمی اداروں اور دیوبند کے بشمول تمام مدارس کی سی بی آئی تحقیقات کروانے کا بھی مطالبہ کیا تھا ۔ ان کے بیانات حالانکہ کسی بھی سطح پر اثر انداز نہیں ہوسکتے لیکن ان کے بیانات سے ملک میں فرقہ پرستوں اور فاشٹسوں کی ذہنیت آشکار ہوتی ہے اور ان کے بیانات پر حکومت کی خاموشی معنی خیز ہی سمجھ میں آتی ہے ۔ گذشتہ دنوں بی جے پی کے صدر امیت شاہ نے کانگریس کے نائب صدر راہول گاندھی کو نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ این ڈی اے نے بی جے پی کو ایسا وزیر اعظم دیا ہے جو بولتا ہے ۔ تاہم افسوس کی بات یہ ہے کہ وزیر اعظم حساس نوعیت کے مسائل پر کچھ نہیں بولتے ۔ ملک میں فرقہ وارانہ منافرت پیدا کی جا رہی ہے ۔ سماج کے دو طبقات کے مابین خلیج کو بڑھاوا دیا جا رہا ہے ۔ نفرت کا بازار گرم کیا جا رہا ہے ‘ اس ملک سے مسلمانوں کو ختم کرنے کی بات کی جارہی ہے ‘ مسلمانوں کو پاکستان جانے کے مشورے دئے جا رہے ہیں اور ان تمام حالات پر امریکہ کی جانب سے بھی تشویش ظاہر کی گئی ہے اس کے باوجود وزیر اعظم خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ انہیں بھی ایسے مسائل پر اظہار خیال کرنے کیلئے ناگپور سے اجازت لینی پڑتی ہے اور یہ اجازت انہیں مل نہیں رہی ہے ۔ بی جے پی کی دو سال کی حکمرانی میں جس طرح سے فرقہ پرستوں کے حوصلے بلند ہوئے ہیں اور جس طرح سے مرکزی ایجنسیاں بھی جانبدارانہ موقف اختیار کرنے پر اتر آئی ہیں اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ صرف دو سال میں حالات کو یکسر بگاڑنے کی مہم شروع ہوچکی ہے ۔ حکومت کی توجہ اس جانب بالکل نہیں ہے یا پھر وہ اس پر مصلحت کے تقاضوں کی تکمیل کرتے ہوئے خاموشی اختیار کرنے میں ہی اپنی عافیت سمجھتی ہے ۔
ہندوستان کسی ایک ذات یا دھرم کے ماننے والوں کا نہیں ہے ۔ ہندوستان کسی ایک زبان کے بولنے والوں کا مذہب نہیں ہوسکتا ‘ ہندوستان کسی ایک نظریہ کے حامیوں کا مذہب نہیں ہوسکتا ۔ ہندوستان ایک گلدستہ ہے جس میں تمام مذاہب کے ماننے والے ‘ ہزاروں زبانیں بولنے والے اور مختلف النوع تقافتی ورثہ رکھنے والے لوگ رہتے بستے ہیں اور عالمی سطح پر ہندوستان کی یہی انفرادیت اور یہی پہچان ہے ۔ سادھوی پراچی جیسی شخصیتیں اگر اس طرح کی بیان بازی کرتی ہیں تو اس سے نفرت کا ماحول گرم ہوسکتا ہے ۔ ویسے بھی گذشتہ دو سال کے دوران کافی فرقہ پرستوں کے حوصلے کافی بلند ہوگئے ہیں۔ اسی وجہ سے مسلمانوں کا عرصہ حیات تنگ کرنے کی کوششیں اور بھی تیز ہوگئی ہیں۔ یہ کوششیں کبھی کامیاب ہوئی ہیں اور نہ ہوسکتی ہیں۔ تاہم ایسے عناصر پر لگام کسنا ضروری ہے ۔ ان عناصر کو متنازعہ بیانات دینے سے روکنے کی ضرورت ہے ۔ ان کے خلاف قانون کے دائرہ میں سخت ترین کارروائی کی جاسکتی ہے تاکہ دوسروں کو اس سے عبرت ہو اور وہ مزید لب کشائی سے گریز کریں۔ سادھوی پراچی ہوں کہ یوگی آدتیہ ناتھ ہوں یا ان ہی کی قبیل کے دوسرے فرقہ پرست عناصر ہوں یہ سب ایسا لگتا ہے کہ ملک میں ہم آہنگی اور بھائی چارہ کی فضا کو مکدر کرنے کے مقصد سے سرگرم ہوگئے ہیں۔ یہ کوششیں ملک کے مفاد میں ہرگز نہیں ہوسکتیں۔ ان سے ترقی کا سفر متاثر ہوسکتا ہے ۔ ان کے نتیجہ میں عالمی سطح پر ہندوستان کی شبیہہ متاثر ہونی شروع ہوگئی ہے ۔ عالمی سطح پر اس مسئلہ پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے ۔ امریکی کانگریس کی خارجی امور سے متعلق کمیٹی نے بھی ایک سے زائد بار اس مسئلہ پر تشویش کا اظہار کیا ہے ۔
حکومت کو چاہئے کہ وہ اس حساس اور اہمیت کے حامل مسئلہ پر خاموشی کو ترک کرے اور ان عناصر کے خلاف کارروائی کی جائے ۔ سادھوی پراچی ہو یا کوئی اور فرقہ پرست تنظیمیں ‘ ادارے یا افراد ہوں ‘ سبھی کو یہ بات ذہن نشین رکھنی چاہئے کہ اس ملک پر مسلمانوں نے صدیوں حکومت کی ہے لیکن انہوں نے اوچھے پن سے گریز کیا تھا ۔ تمام مذاہب کے ماننے والوں کو مساوی حقوق دئے گئے تھے اور ہندوستان کے دستور میں بھی تمام مذاہب کے ماننے والوں کیلئے یکساں حقوق رکھے گئے ہیں۔ کوئی بھی کسی دوسرے کو اس کے حق سے محروم نہیں کرسکتا اور نہ ہندوستان کسی ایک مذہب کے ماننے والوں کی جاگیر ہوسکتا ہے ۔ ہندوستان کو مسلمانوں سے پاک کرنے والے خود ختم ہوسکتے ہیں لیکن اس ملک سے مسلمان کبھی ختم نہیںہوسکتے ۔

TOPPOPULARRECENT