Wednesday , September 20 2017
Home / شہر کی خبریں / مسلمانوں میں احساس عدم تحفظ، حفاظت خود اختیاری پر توجہ

مسلمانوں میں احساس عدم تحفظ، حفاظت خود اختیاری پر توجہ

حصول لائسنس کیلئے درخواستیں، آسام، جھارکھنڈ اور یوپی کے عوام کی احتیاطی تدابیر
حیدرآباد۔10ستمبر(سیاست نیوز) ملک میں مسلمانو ںپر حملوں اور ان میں پیدا ہونے والے احساس عدم تحفظ کو دور کرنے کے لئے یہ ضروری ہے کہ ان میں ہمت اور حوصلہ پیدا کیا جائے اور انہیں حالات سے مقابلہ کرنے کا اہل بنایا جائے ۔شمالی ہند کی ریاستوں میں ہجوم کی جانب سے پیٹ کر ہلاک کئے جانے کے کئی واقعات کے بعد شہریو ںمیں احساس عدم تحفظ پیدا ہونے لگا ہے اور وہ خود کو بچانے کیلئے مختلف تدابیر اختیار کرنے لگے ہیں۔ آسام اور جھارکھنڈ کے علاوہ اترپردیش کے مسلمانوںمیں یہ احساس پیدا ہوچکا ہے کہ وہ ملک میں محفوظ نہیں ہیں اور ان کی حفاظت کی ذمہ دار پولیس اور انتظامیہ ان کی ہلاکتوں پر خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیںاسی لئے وہ اب حفاظت خود اختیاری کے لئے اسلحہ کے حصول کیلئے درخواستیں داخل کرنے لگے ہیں اور کہا جا رہا ہے کہ مختلف تنظیموں کی جانب سے عوام میں اس بات کا شعور اجاگر کیا جا رہا ہے وہ اپنی حفاظت کیلئے اسلحہ کے حصول کیلئے درخواست داخل کریں تاکہ حملہ آوروں کو بھی اس بات کا خوف لگا رہے کہ کہیں جسے نشانہ بنایا جا رہا ہے اس کے پاس لائسنس یافتہ اسلحہ تو موجود نہیں ہے۔ ملک کی مختلف ریاستوں کے مواضعات میں پیش آنے والے قتل کے واقعات کے بعد مقامی طور پر چلائی جانے والی اس مہم کے متعلق کہا جا رہا ہے کہ مسلمان صرف اپنی حفاظت خود اختیاری کے لئے اسلحہ کے لائسنس حاصل کرنے کی کوشش کریں تاکہ کسی بھی حملہ کی صورت میں اپنا بچاؤ کرنے کے متحمل رہ سکیں ۔ آسام کی بعض تنظیموں کے ذمہ داروں کا کہنا ہے اس سلسلہ میں سرکردہ تنظیموں اور سیاسی قائدین کو بھی پہل کرتے ہوئے مسلمانوں کو لائسنس یافتہ اسلحہ کے حصول کی سمت مائل کرنے کے علاوہ حکومت پر دباؤ ڈالتے ہوئے انہیں لائسنس کی اجرائی کو یقینی بنانے کے اقدامات کریں کیونکہ اس طرح کے اقدامات سے پیدا ہونے والی صورتحال سے ان لوگوں میں خوف پیدا ہوگا جو لوگ ملک کی فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو متاثر کرنے کے علاوہ سیکولر ڈھانچہ کو نقصان پہنچانے کی کوشش میں مصروف ہیں۔ شمالی ہند کی ریاستوں کے مواضعات کے شہریوں کا کہنا ہے کہ اب فرقہ پرستی کی آگ دیہی علاقوں میں دیکھی جا رہی ہے اور جن علاقو ںمیں مسلمانوں کی تعداد کافی کم ہے ان علاقوں میں درندگی کے یہ واقعات پیش آرہے ہیں لیکن اگر ان واقعات اور حالات پر اسی طرح سے خاموشی اختیار کی جاتی رہی تو ایسی صورت میں یہ درندگی شہری علاقو ںمیں بھی پھیل سکتی ہے اسی لئے ان درندہ صفت لوگوں کو جو ملک کی یکجہتی کیلئے خطرہ ہیں ان میں خوف پیدا کیا جانا ضروری ہے اور ان میں خوف اسی وقت پیدا ہو سکتا ہے جب عام مسلمان شہری اپنے تحفظ کیلئے لائسنس یافتہ اسلحہ ساتھ رکھنا شروع کردیں کیونکہ ان کے اسلحہ ساتھ رکھنے سے نہ صرف حفاظت خود اختیاری ہوگی بلکہ شرانگیزی اور قتل و درندگی میں مصروف قوتوں کو ملک کے شیرازہ کو بکھیرنے سے باز رکھنے میں معاون ثابت ہوگی۔ شہریوں کو تحفظ کی فراہمی حکومت اور انتظامیہ کی ہوتی ہے جب انتظامیہ اس ذمہ داری کو نبھانے میں ناکام ہوتا ہے تو ایسی صورت میں شہریوںکو اس بات کا حق حاصل ہے کہ وہ اپنی حفاظت کیلئے دستور میں فراہم گنجائش کے مطابق اسلحہ کا لائسنس حاصل کرے۔

TOPPOPULARRECENT