Friday , September 22 2017
Home / ہندوستان / مسلمانوں میں اختلافات پیدا کرنے کیلئے منافقین کی ریشہ دوانیاں

مسلمانوں میں اختلافات پیدا کرنے کیلئے منافقین کی ریشہ دوانیاں

جنرل سکریٹری اسلامک پیس فاؤنڈیشن مولانا سید طارق انور کا بیان
نئی دہلی۔/24مارچ، ( فیکس ) مسلم سماج کو تقسیم کرنے کی سازشیں کسی بھی صورت میں کامیاب نہیں ہوسکتیں، ہر دور میں میر جعفر اور میر صادق اپنی گھناؤنی چالیں چلتے رہے ہیں مگر مسلمان ماضی میں بھی باوقار تھے اور آج بھی پروقار ہیں۔ اسرائیل، امریکہ اور آر ایس ایس مل کر آج بھی مسلمانوں کو تقسیم کرنے کی کوششیں کررہے ہیں لیکن اس بار بھی ان کو منہ کی کھانی پڑ رہی ہے۔ ان خیالات کا اظہار نوجوان عالم دین اور اسلامک پیس فاؤنڈیشن آف انڈیا کے جنرل سکریٹری مولانا سید طارق انور قاسمی نے ملک کے موجودہ سیاسی منظر نامہ پر صحافیوں سے گفتگو کے دوران کیا۔ مولانا طارق انور نے کہا کہ ملک اور عالمی سیاسی منظرنامہ مسلمانوں کے لئے تشویش کا باعث ضرور ہے لیکن بہت جلد وہ دن بھی آئیں گے کہ مسلم دشمن قوتوں کو اپنے کئے پر پچھتانا پڑے گا۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے تعاون سے گزشتہ دنوں کچھ تقریبات پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہر دور میں منافقین ریشہ دوانیاں پیدا کرکے مسلم قوم میں اختلافات کو تنازعات بنانے کی سازش کرتے رہے ہیں۔، ہمیشہ ابن سبا، میر جعفر اور میر صادق گھناؤنی سازشیں انجام دے کر مسلمانوں کو مغلوب کرنے کی کوششیں کرتے رہے ہیں۔ لیکن تاریخ کہتی ہے کہ ہر کربلا کے بعد مسلمانوں میں نئی توانائی، نیا جوش اور ولولہ پیدا ہوتا رہا ہے۔ اس بار بھی بھارتیہ جنتا پارٹی اپنے سفلی مقاصد میں اسی لئے ناکام رہے گی کہ ہندوستان کا ایک بڑا طبقہ اقلیتوں کے حقوق کی حفاظت کے لئے ہروقت کھڑا رہتا ہے۔ ملک کی اکثریت سیکولرازم پر یقین رکھتی ہے

، ہر طرح کی ناانصافی کے خلاف رہتی ہے اس لئے حقوق غصب کرنے فرقہ پرستی کو ہوا دینے اور مسلکی اختلافات کو جھگڑوں میں تبدیل کرنے کی سازشیں پوری طرح ناکام ہوجائیں گی۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کو چاہیئے کہ وہ ملک کے قانون اور سیکولرازم کو جان سے زیادہ عزیز جانیں، اسلامی احکام کی پابندی کریں اور اپنے سیاسی شعور کو بیدار کریں۔ انصاف پسند غیرمسلم حضرات کی طاقت بنیں اور آنے والے انتخابات میں فاشسٹ جماعتوں کی سازشوں کو کامیاب نہ ہونے دیں۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کی بوکھلاہٹ بتارہی ہے کہ بہار کی کراری ہار کا بدلہ وہ بنگال، آسام اور اُتر پردیش کے انتخابات میں مسلم ووٹوں کی طاقت کو برباد کرکے لینا چاہتی ہے۔ واضح رہے کہ ان تینوں ہی ریاستوں میں مسلم رائے دہندگان فیصلہ کن طاقت رکھتے ہیں۔ بھارتیہ جنتا پارٹی بہار کی ہار سے سبق سیکھ چکی ہے اور جان چکی ہے کہ مسلمانوں کی چوکھٹ پر سلامی دیئے بغیر اقتدار کا سورج بلند نہیں ہوسکتا، آنے والے انتخابات میں اسے مسلمانوں کے اتحاد سے ہی خوف ہے اس لئے وہ مسلم طبقہ کے کچھ بکاؤ اورمفاد پرست نام نہاد عالموں کو آلہ کار بناکر مسلم اکثریت کی تقسیم کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگارہی ہے۔ لیکن بی جے پی کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہیئے کہ مسلمان خدا اور رسولؐ اور قرآن پر کبھی کوئی سمجھوتہ نہیں کرسکتے، وہ ایک ہیں اور ایک رہیں گے۔ دنیا کی بڑی سے بڑی طاقت انہیں بکھیرنے کی کوشش کرے گی تو خود ہی پارہ پارہ ہوجائے گی۔

TOPPOPULARRECENT