Sunday , April 30 2017
Home / شہر کی خبریں / مسلمانوں میں پھوٹ ، ہندوؤں میں اتحاد پیدا کرانے میں مسلم سیاستدانوں کا اہم رول

مسلمانوں میں پھوٹ ، ہندوؤں میں اتحاد پیدا کرانے میں مسلم سیاستدانوں کا اہم رول

اترپردیش میں بی جے پی کو مسلم ووٹ ڈالے جانے کی خبریں گمراہ کن ، ووٹوں کی تقسیم کی ذمہ دار قیادت چہروں پر لگی سیاہی صاف کرنے میں مصروف
حیدرآباد۔14مارچ (سیاست نیوز) بھارتیہ جنتا پارٹی نے مسلمانوں میں تفرقہ پیدا کرتے ہوئے ووٹ حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے؟ کیا مسلمانوں نے بھارتیہ جنتا پارٹی کو ووٹ دیا ہے ؟ اترپردیش کے مسلمانوں نے بھارتیہ جنتا پارٹی کو قبول کرتے ہوئے اسے آزمانے کا فیصلہ کیا ہے؟ اترپردیش کے انتخابی نتائج ملک بھر کے علاوہ سماجی رابطہ کی ویب سائٹس اور شہر میں بھی ہر گلی و چوراہے پر بحث کا موجب بنے ہوئے ہیں۔ شہر حیدرآباد سے ان انتخابات کا تعلق ہوجانے کے سبب حیدرآباد میں بھی اس موضوع پر مباحث ہونے لگے ہیں ۔ انتخابی نتائج کے بعد سے یہ قیاس آرائیاں کی جانے لگی تھیں کہ مسلمانوں نے بھارتیہ جنتا پارٹی کو ووٹ دیا ہے اور اس کیلئے یہ دلیل دی جا رہی ہے کہ تین طلاق کے مسئلہ پر خواتین کی بڑی تعداد نے بی جے پی امیدواروں کو کامیاب بنانے کی حکمت عملی اختیار کی اور اپنا حق رائے دہی کا استعمال بی جے پی امیدواروں کے حق میں کیا۔ ان قیاس آرائیوں کو اترپردیش کے سیاسی حلقوں کی جانب سے مسترد کیا جانے لگا ہے اور یہ کہا جا رہا ہے کہ مسلمانوں نے بی جے پی کو ووٹ نہیں دیا ہے لیکن بھارتیہ جنتا پارٹی سماجی رابطہ کی ویب سائٹس کے ذریعہ چند برقعہ پوش خواتین کی تصویریں گشت کرواتے ہوئے یہ تاثر دے رہی ہے کہ اترپردیش میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی کامیابی پر مسلم خواتین جشن منا رہی ہیں۔ اترپردیش انتخابات کے نتائج سے جو صورتحال ابھر کر آئی ہے اس میں مسلم سیاسی قائدین ان کے چہروں پر لگی سیاہی کو صاف کرنے میں مصروف ہیں اپنے قائدین کو عوام کے درمیان پہنچ کر ان کے مسائل حل کروانے پر توجہ دیتے ہوئے اترپردیش سے عوام کی توجہ ہٹانے کی کوشش کرنے پر معمور کرچکے ہیں۔ اترپردیش انتخابات میں جو حالات پیدا کئے گئے اس کے ذمہ دار مختلف طریقوں سے ووٹوں کی تقسیم کے علاوہ اکثریتی رائے دہندوں کو متحد کرنے میں اہم کردار ان سیاسی قائدین کا ہے جن کے ورکر نہ ہونے کے باوجود انہوں نے بے تحاشہ کئی نشستوں پر اپنے امیدوار میدان میں اتارے اور یہ پیغام دیا کہ ہم اترپردیش سے انتخابات میں کامیابی حاصل کرتے ہیں۔ ان حالات میں اکثریتی ووٹوں کا متحد ہونا کوئی مضحکہ خیز یا انسانی فطرت کے خلاف نہیں ہے ۔ مسلم سیاسی جماعتوں کے امیدواروں کو میدان میں اتارنے کے جو سنگین نتائج کی پیش قیاسی کی جا رہی تھی اس کے متعلق ان جماعتوں کے ذمہ داروں نے کوئی جواب نہیں دیا بلکہ یہ کہتے رہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کو اقتدار حاصل کرنے سے روکنا صرف ہماری یعنی مسلمانوں کی ذمہ داری نہیں ہے جبکہ ہم صرف بی جے پی سے مقابلہ کرنا جانتے ہیں۔ ان کا یہ کہنا عوام کے سمجھ آنے لگا ہے اور شہر کے گلی کوچوں میں اس موضوع پر کھل کر گفتگو کی جانے لگی ہے اسی لئے فوری تمام منتخبہ عوامی نمائندوں کو عوام کے درمیان پہنچ جانے کی ہدایت دیدی گئی تاکہ مسائل کے حل کے چکر میں عوام اترپردیش کے متعلق استفسار نہ کرپائیں اور عوام کو یہ احساس دلایاجائے کہ ان کے منتخبہ قائدین کسی اور ریاست میں کچھ بھی کرلیں ان کے لئے بہتر ہیں تو کافی ہے۔ اترپردیش میں انتخابی شکست سے دوچار ہونے والی سیاسی جماعتوں و امیدواروں کی بڑی تعداد نے الکٹرانک ووٹنگ مشین کی کارکردگی پر بھی سوالات اٹھائے جانے لگے ہیں اور مشینوں سے چھیڑ چھاڑکے الزامات اور اس کے تحقیق کے مطالبات کے ساتھ ساتھ یہ دعوے بھی کئے جا رہے ہیں کہ جن مقامات پر رائے دہی کا فیصد 60فیصد رہا ان مقامات پر 68فیصد تک ووٹ رائے شماری کے دوران برآمد ہوئے۔ان الزامات اور سیاسی جماعتوںکے خدشات کے باوجود مسلم ووٹوں کی تقسیم اور اکثریتی طبقہ کے رائے دہندوں میں پیدا ہوئے اتحاد سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔بھارتیہ جنتا پارٹی اور اس کی محاذی تنظیموں کی جانب سے برقعہ پوش خواتین کی اتر پردیش میں جشن کی تصاویر گشت کرواتے ہوئے مسلمانوں میں بی جے پی کامیابی پر خوشی کے اظہار کے جو دعوے کئے جا رہے ہیں ان کو بھی جھوٹا قرار دیا جانے لگا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ جس بھارتیہ جنتا پارٹی نے رائے دہی کے دوران مسلم خواتین کے چہرے دیکھ کر انہیں ووٹ ڈالنے کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا ہے اس بی جے پی کی کامیابی کے جشن میں مسلم خواتین کس طرح شرکت کرسکتی ہیں ؟ اتر پردیش انتخابات کے دوران شمشان اور قبرستان سے گدھوں تک کی سیاست نے صورتحال کو چوتھے مرحلہ کے بعد سے مکدر کردیا تھا لیکن اس سے قبل گجرات میں نسل کشی ‘ بابری مسجد کی شہادت اور مسلمانوں کے ساتھ ناانصافی کے واقعات پر مشتمل تقاریر نے اکثریتی رائے دہندوں کی ذہن سازی کردی تھی جس کے نتیجہ میں فرقہ وارانہ خطوط پر رائے دہی کے بھی امکانات کو مسترد نہیں کیا جا رہا ہے لیکن پوسٹل بیلٹ میں کے ریکارڈس کے مطابق سماج وادی پارٹی اور کانگریس اتحاد کو بھاری اکثریت نے شبہات کو تقویت پہنچانی شروع کردی ہے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT