Sunday , October 22 2017
Home / شہر کی خبریں / مسلمانوں پر حملوں کے تناظر میں حفاظت خود اختیاری پر غور کا مشورہ

مسلمانوں پر حملوں کے تناظر میں حفاظت خود اختیاری پر غور کا مشورہ

سوشیل میڈیا پر مختلف تجاویز سے حصول لائسنس کی درخواستوں میں اضافہ ، بیف کے نام پر قتل کے واقعات پر ردعمل
حیدرآباد۔3جولائی (سیاست نیوز) ہندوستان میں جاری حالات اور مسلمانو ںپر کئے جانے والے حملوں کے تناظر میں مختلف نظریات ہندوستانی مسلمانو ںمیں فروغ پانے لگے ہیں اور وہ حفاظت خود اختیاری کے متعلق غور کرنے لگے ہیں ۔ ہندستان میں گذشتہ چند ماہ کے دوران بیف کے نام پر کئے گئے مسلمانوں پر حملے اور انہیں جان سے مار دینے کے واقعات کے بعد جو حالات پیدا ہوئے ہیں ان سے مقابلہ کیلئے سوشل میڈیا پر مختلف تجاویز گشت کرنے لگی ہیں اور ان تجاویز میں مسلمانوں کو حفاظت خود اختیاری کیلئے بندوق کے لائسنس حاصل کرنے کا مشورہ بھی دیا جانے لگا ہے۔ سوشل میڈیا کے ذریعہ پھیل رہے اس پیغام میں اس بات کی صراحت کی گئی ہے کہ ہر ہندوستانی شخص جسے جان کا خطرہ ہو وہ حفاظت خود اختیاری کے تحت اسلحہ رکھنے کا لائسنس حاصل کر سکتا ہے اور ملک کے موجودہ حالات میں مسلمانوں کو ہی نشانہ بناتے ہوئے انہیں گاؤکشی کے نام پر ہلاک کیا جا رہا ہے اسی لئے مسلمانوںکو چاہئے کہ وہ اپنے متعلقہ پولیس اسٹیشن میں اسلحہ کے لئے لائسنس کی درخواست داخل کریں تاکہ ان پر حملہ کرتے ہوئے انہیں خوفزدہ کرنے والوں پر خوف طاری ہو سکے۔ سوشل میڈیا پر چلائے جانے والے اس پیغام کے ساتھ نہ صرف وجوہات گنوائی گئی ہیں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ اسلحہ لائسنس کی درخواست بھی منسلک کی گئی ہے ۔ ہندستانی قوانین کے مطابق ہر وہ شخص جو کسی سے خطرہ محسوس کرتا ہو اسے اسلحہ رکھنے کا مکمل اختیار حاصل ہے اور ہندستان کی مختلف ریاستوں میں گاؤکشی کے نام پر مسلمانوں کو مخصوص گروہ کی جانب سے ہلاک کرنے کے واقعات میں بتدریج اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور اس اضافہ کو روکنے کیلئے ضروری ہے کہ مسلمانان ہند منصوبہ بند طریقہ سے نفرت کی مہم چلانے والوں میں خوف پیدا کریں ۔ پیغام روانہ کرنے والوں کا کہنا ہے کہ اگر ملک کے ہر پولیس اسٹیشن میں اسلحہ رکھنے کی اجازت کیلئے درخواست داخل کی جانے لگے تو ایسی صورت میں یہ بات عام ہوگی کہ مسلمان قانونی طور پر اسلحہ حاصل کرنے لگے ہیں اور انہیں اس بات کا حق حاصل ہونے کے علاوہ موجودہ حالات میں وہ جواز بھی پیش کرسکتے ہیں کہ انہیں صرف مسلمان ہونے کے سبب نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔پولیس اسٹیشن یا کوتوالی سے ان درخواستوں کو مسترد کیا جاتا ہے تو ایسی صورت میں عدالت سے رجوع ہونے کی بھی گنجائش حاصل رہے گی ۔سوشل میڈیا پر پھیل رہے اس پیغام سے نہ صرف شہر حیدرآباد بلکہ ریاست و ملک کے مختلف پولیس اسٹیشنوں میں اسلحہ کے لئے لائسنس داخل کرنے رجحان میں زبردست اضافہ ہوگا۔

TOPPOPULARRECENT