Sunday , July 23 2017
Home / اداریہ / مسلمانوں پر حملے ‘ ناقص تحقیقات

مسلمانوں پر حملے ‘ ناقص تحقیقات

ملک بھر میں مسلمانوں پر حملوں اور انہیں ہلاک کرنے کے واقعات میں بے تحاشہ اضافہ ہوگیا ہے ۔ ہر روز ملک کی کسی نہ کسی ریاست اور کسی نہ کسی شہر میں مسلمانوں کو گائے کے تحفظ کے نام پر دہشت گردوں کی جانب سے حملوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔ اب تک کئی افراد موت کے گھاٹ اتار دئے گئے ہیں۔ کسی کو بیف گھر میں رکھنے کے نام پر ہلاک کیا جا رہا ہے تو کسی کو گائے کی منتقلی کے نام پر موت کے گھاٹ اتارا جا رہا ہے ۔ کسی کو گائے کی غیر قانونی منتقلی کے نام پر نشانہ بنایا جا رہا ہے تو کسی چلتی ٹرین میں معصوم اور نہتے نوجوانوں کو گوشت خور قرار دیتے ہوئے پیٹ پیٹ کر ہلاک کیا جا رہا ہے ۔ یہ سب کچھ حکومتوں کی اور نفاذ قانون کی ایجنسیوں کی ناک کے نیچے ہو رہا ہے اور افسوس اس بات کا ہے کہ اس طرح کے واقعات کی روک تھام کیلئے کوئی سنجیدہ اقدامات نہیں کئے جا رہے ہیں اور نہ ہی کسی گوشے سے اس طرح کے واقعات کی مذمت ہو رہی ہے ۔ وزیر اعظم نریندر مودی بھی ایسا لگتا ہے کہ مسلمانوں پر حملوں کی مذمت کرنے کی بجائے گائے کے تحفظ کی اہمیت پر زیادہ زور دینے کے بعد خود کو بری الذمہ سمجھ رہے ہیں۔ ملک بھر میںا س طرح کے حملوں کے تعلق سے جو تشویش کی لہر پیدا ہورہی ہے اس سے حکومتوں کی آنکھیں نہیں کھل رہی ہیں۔ اسی طرح جہاں تک نفاذ قانون کی ایجنسیوں اور خاص طور پر پولیس کے رول کا سوال ہے وہ بھی تحقیقات کے نام پر گاؤ دہشت گردوں کو کیفر کردار تک پہونچانے کی بجائے انہیں بچانے کے پہلووں پر زیادہ زور دیا جا رہا ہے ۔ جتنے بھی واقعات مسلمانوں یا پھر دلتوں کی ہلاکت کے پیش آئے ہیں ان کی تحقیقات کا آغاز ہی ایسے نکتے سے کیا جا رہا ہے جس کے ذریعہ ملزمین کو سزا ہونے کی بجائے ان کے بچ نکلنے کی راہیں آسان ہوجاتی ہیں۔ ان ہلاکتوں کو گاؤ دہشت گردوں کی کارستانی قرار دینے کی بجائے ہجوم کے ہاتھوں ہلاکتوں کا نام دیا جا رہا ہے ۔ ہجوم کے نام پر اس طرح کی کارروائی سے کسی کو بھی سزا دلانے میں مدد نہیں ملتی بلکہ ملزمین کو یہ موقع ملتا ہے کہ وہ کسی طرح قانونی کشاکش سے خود کو بچانے میں کامیاب ہوجائیں ۔اب تک جتنے بھی واقعات پیش آئے ہیں سب میں اسی طرح کی حکمت عملی اختیار کی گئی ہے اور یہ تحقیقات کے نام پر ایک مذاق ہی ہے ۔

جہاں کہیں اس طرح کے واقعات پیش آئے ہیں اور محض نفرت کی وجہ سے کسی نہ کسی بہانے سے مسلمانوں کو موت کے گھاٹ اتارا گیا ہے وہاں تمام واقعات کو یکجا کرتے ہوئے ان کی تحقیقات کو حقیقی معنوں میں غیر جانبداری اور پیشہ ورانہ دیانت کے ساتھ آگے بڑھانے کی ضرورت ہے تاکہ اس طرح کی غیر انسانی اور وحشیانہ حرکتیں کرنے والے دہشت گردوں کو کیفر کردار تک پہونچایا جائے ۔ مسلم تنظیموں اور نمائندوں کیلئے بھی ضروری ہے کہ وہ اس طرح کی تحقیقات میں سرگرم رول ادا کریں اور پولیس اور نفاذ قانون کی دیگر ایجنسیوں پر دباؤ بنائے رکھیں ۔ اس بات کو یقینی بنائے جانے کی ضرورت ہے کہ اس طرح کے واقعات پہلے تو پیش ہی نہ آئیں اور اگر خدانخواستہ ایسا ہوتا ہے تو پھر مقدمہ میں ہجوم کے ہاتھوں ہلاکت کا تذکرہ کرنے کی بجائے خود ساختہ گاؤ دہشت گردوں کے ہاتھوں ہلاکت کا تذکرہ ہونا چاہئے ۔ ہجوم میں کسی کو شناخت کرنے کی گنجائش کم ہی پائی جاتی ہے اور قانونی طور پر بھی استغاثہ کا کیس کمزور ہوجاتا ہے ۔ اس حقیقت سے واقف ہونے کی وجہ سے ہی تمام واقعات میں ہجوم کے ہاتھوں ہلاکت کا تذکرہ کیا جا رہا ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ ہجوم کے ہاتھوں ہلاکتیں نہیں ہیں بلکہ یہ باضابطہ تنظیم اور دل کی شکل میں کام کرنے والے گاؤ دہشت گردوں کی کارستانی ہے اور اس کو عدالتوں میں پیش کرنے کی ضرورت ہے ۔ مسلم تنظیمیں اور نمائندے صرف اس بات پر مطمئن ہو رہے ہیں کہ ہجوم کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا ہے ۔ وہ اس کے منطقی انجام سے لا تعلق بنے ہوئے ہیں۔

ایک طرف اس طرح کے حملوں کا سلسلہ جاری ہے تو دوسری طرف اس طرح کے جرائم کے مرتکبین کو قانونی طور پر بچانے کی کوششیں بھی چل رہی ہیں۔ اس کی گہرائی تک پہونچنے کی مسلم تنظیموں اور نمائندوں پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے ۔ کسی بھی واقعہ کے بعد محض اخبارات یا ٹی وی چینلوں پر خود نمائی کیلئے بیان بازی کردینا کافی نہیں ہے بلکہ اس طرح کے رد عمل سے مجرمین کے حوصلے مزید بلند ہو رہے ہیں ۔ جب تک اس طرح کے مقدمات کو فاسٹ ٹریک عدالتوں سے رجوع نہیں کیا جاتا اور تحقیقات کو غیر جانبدارانہ طور پر پورا نہیں کیا جاتا اس وقت تک ان حملوں کو روکنے کی فی الحال کوئی سبیل نظر نہیں آتی ۔ پولیس اور دوسری تحقیقاتی ایجنسیوں کیلئے بھی ضروری ہے کہ وہ پیشہ ورانہ دیانت کے ساتھ خاطیوں کو بچانے کی بجائے انہیں سزائیں دلانے اور کیفر کردار تک پہونچانے کے مقصد سے تحقیقات کا کام انجام دیں۔

 

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT