Tuesday , July 25 2017
Home / شہر کی خبریں / مسلمانوں پر مظالم میں اضافہ تشویشناک : روشن بیگ

مسلمانوں پر مظالم میں اضافہ تشویشناک : روشن بیگ

آر ایس ایس کی فرقہ پرستی کو روکنا ضروری ‘ اختلافات دور کرنے علماء و سیاسی قائدین سے خواہش

بنگلورو۔12فبروری(سیاست ڈسٹرکٹ نیوز)  مرکز میں جب سے مودی حکومت برسر اقتدار آئی ہے ملک میں مسلمانوں پر مظالم کے واقعات میں بے تحاشہ اضافہ ہورہا ہے۔ ان مظالم کے سد باب کیلئے سب سے پہلے قوم میں اتحاد کا ہونا ضروری ہے۔ ان خیالات کا اظہار ریاستی وزیر شہری ترقیات وحج جناب روشن بیگ نے کیا۔ شہر کے حمید شاہ اردو ہال میں سابق مرکزی وزیر ورکن پارلیمان ڈاکٹر کے رحمن خان کی طرف سے اتحاد امت کے سلسلے میں طلب کئے گئے ایک مشاورتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ابھی سے اگر مسلمان بیدار ہوکر منظم ومتحد نہ ہوئے تو آنے والے دنوں میں مسلمانوں پر ظلم کرنے والے عناصر کی طاقت پر روک لگانے والا کوئی نہیں ہوگا۔انہوں نے کہا کہ آزادی کے وقت جہاں آر ایس ایس ایک محدود تنظیم تھی، مرکز میں مودی حکومت کے اقتدار پر آنے کے بعد صرف ریاست کرناٹک میں اس کی 50ہزار شاکھائیں قائم ہوئی ہیں۔آر ایس ایس کو ہر گلی کوچے تک پھیلا کر فرقہ وارانہ ذہنیت کو عام کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ جب تک اس کا جواب موثر طریقے سے نہیں دیاجاتا، اس پھیلاؤ کو روکنا ناممکن ہے۔ انہوں نے کہاکہ ملک میں 1992میں بابری مسجد کے انہدام کے بعد گزشتہ سال دادری میں محمد اخلاق نامی مسلمان کو بیف رکھنے کے فرضی الزام میں دادری میں سنگسار کردیا گیا۔اس طرح کے انسانیت سوز واقعات موجودہ حکومت کے دور میں مسلسل بڑھتے جارہے ہیں۔ مسلمانوں کو نشانہ بناکر ہر ریاست میں مہم چلائی جارہی ہے، یہاں تک کہ مغربی بنگال جیسی ریاست جہاں کی حکومت بھی سکیولر ہے اور عوام بھی سیکولر مانی جاتی ہے۔ وہاں کے دیہاتوں میں فرقہ وارانہ تشدد عام ہوچکا ہے، ان حالات کو دیکھتے ہوئے مسلمانوں کو اپنے مسلکی اور آپسی اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر متحد ہوناچاہئے۔ انہوں نے کہاکہ مسلکوں کو اپنے گھروں اور اپنی عبادت تک محدود رکھیں ۔ اور سماجی زندگی میں اپنے آپ کو ایک متحد قوم بناکر آگے بڑھیں۔ سوشیل میڈیا کے ذریعہ مسلمانوں کو بدنام کرنے کی مسلسل کوششوں کا تذکرہ کرتے ہوئے جناب روشن بیگ نے کہاکہ مسلمانوں کو بھی چاہئے کہ سوشیل میڈیا کے پلاٹ فارم کو استعمال کرتے ہوئے اسلام اور مسلمانوں کے تعلق سے پائی جانے والی غلط فہمیوں کو دور کریں اور جو گمراہ کن پروپگنڈہ کیا جارہاہے اس کے موثر جواب کیلئے ایک اہل ٹیم ترتیب دی جائے۔ انہوں نے کہاکہ علمائے کرام اور سیاسی قائدین کو سب سے پہلے اپنے اختلافات دور کرنے ہوں گے، اپنے مفاد کیلئے نہ سہی بلکہ قومی مفاد میں ان تمام کو ایک پلیٹ فارم پر آکر متحد ہوجانا چاہئے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT