Friday , May 26 2017
Home / سیاسیات / مسلمانوں پر گاؤ رکھشکوں کے حملوں کی رپورٹ طلب:ڈپٹی چیرمین راجیہ سبھا

مسلمانوں پر گاؤ رکھشکوں کے حملوں کی رپورٹ طلب:ڈپٹی چیرمین راجیہ سبھا

الور واقعہ پر راجیہ سبھا میں شدید ہنگامہ ،شوروغل، اندرونی چوٹ لگنے سے موت ، متوفی پہلو خاں کی پوسٹ مارٹم رپورٹ

نئی دہلی، 6 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) راجستھان کے ضلع الور میں بہروڑ علاقے میں گورکشکوں کے ذریعہ ایک مسلمان کی مبینہ طور پر پٹائی کے بعد اس کی موت کے سلسلے میں اپوزیشن نے راجیہ سبھا میں زبردست ہنگامہ کیا جس کے سبب تقریباً آدھے گھنٹے تک شور و غل ہوتا رہا۔پارلیمانی امور کے وزیر مختار عباس نقوی نے ایسے کسی واقعہ کے ہونے سے انکار کیا اور اخبارات کی رپورٹ کو غلط قرار دیا۔ اس سے اپوزیشن پارٹی مزید مشتعل ہوگئے اور شور مچانے لگے تو ڈپٹی چیئرمین پی جے کورئین نے مسٹر نقوی کو کہاکہ وہ اس واقعہ سے وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ کو آگاہ کرائیں اور اس سلسلے میں ایک رپورٹ طلب کریں تاکہ اس واقعہ کی صداقت کا پتہ چل سکے ۔ایوان کی کارروائی شروع ہونے پر پہلے سماج وادی پارٹی کے نریش اگروال نے سوشل میڈیا پر ممبران پارلیمنٹ کی شبیہ بگڑنے کا معاملہ اٹھایا۔ اس کے بعد کانگریس کے مدھوسودن مستری نے الور ضلع میں ایک مسلمان کی گورکشکوں کے ذریعہ مبینہ طور پر پٹائی سے موت کا معاملہ اٹھانے کوشش کی لیکن مسٹر کوریئن نے انہیں اس معاملے کو اٹھانے کی اجازت نہیں دی۔مسٹر کورئین نے کہاکہ اس معاملے پر ضابطہ 267 کے تحت چار لوگوں کو نوٹس دیا ہے لیکن وہ نوٹس منظور نہیں ہوا ہے اور مسٹر مستری کو وقفہ صفر میں اس معاملے کو اٹھانے کی اجازت دی گئی ہے اس لئے وہ وقفہ صفر میں ہی اس معاملے کو اٹھائیں لیکن مسٹر مستری نہ مانے ۔ وہ بار۔بار اس معاملے کو اٹھانے لگے ۔اس دوران ایوان میں اپوزیشن کے لیڈر غلام نبی آزاد نے کہاکہ مسٹر مستری کے ضابطہ 267 کے تحت دیئے گئے نوٹس کو یا تو منظور کیا جائے یا پھر چھ سات لوگوں کو اس معاملے پر بولنے کی اجازت دی جائے ۔کانگریس کے دگ وجے سنگھ اور دیگر اپوزیشن اراکین نے بھی مسٹر کوریئن سے مسٹر مستری کو اپنی بات کہنے کی اجازت دینے اپیل کی تب مسٹر کوریئن نے اراکین کی اپیل کے پیش نظر مسٹر مستری کو بولنے کی اجازت دی۔مسٹر مستری نے کہاکہ راجستھان میں گورکشکوں کی تنظیم ٹرکوں کو روک روک کر اس کی تلاشی لے رہی ہے ، جو غیرقانونی ہے ۔ وہ یہ اختیار اپنے ہاتھوں میں کیسے لے سکتے ہیں؟انہوں نے کہاکہ گورکشک تنظیم نے تو ٹرک کے ڈرائیور کو تو چھوڑ دیا کیوں کہ وہ ہندو تھا لیکن میوات کی ڈیئری سے گائے لے کر آ رہے مسلمانوں کی بے رحمی سے پٹائی کہ جبکہ انہوں نے گائے خریدنے کی رسید بھی دکھائی۔ انہوں نے کہاکہ نہ صرف راجستھان بلکہ گجرات، مدھیہ پردیش اور اب اترپردیش میں بھی اس طرح کے واقعات پیش آ رہے ہیں۔ اس سلسلے میں ہنگامہ کے دوران دونوں فریقوں کے مابین کافی تکرار ہوئی۔اسی دوران متوفی 55 سالہ پہلو خان کی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں بتایا گیا کہ اندرونی چوٹ لگنے کی وجہ سے موت واقع ہوگئی ہے۔ پیٹ اور سینے پر گھونسے مارنے کے بعد زخم پیدا ہوئے۔ میڈیکل بورڈ کے چیرمین نے پوسٹ مارٹم انجا م دیا۔ ڈاکٹر پشپندرا کمار نے کہا کہ متوفی کے پیٹ اور سینے پر کئی زخم پائے گئے۔

 

گاؤ رکھشک کے نام پر مسلمان کا قتل ، حکومت پر کانگریس کی تنقید
نئی دہلی ۔ 6 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) کانگریس ارکان لوک سبھا نے آج ایوان میں بی جے پی پر شدید تنقید کی کہ زعفرانی پارٹی کی حکمرانی والی ریاستوں میں گاؤ رکھشک کے نام پر قانون توڑا جارہا ہے۔ دستور کی خلاف ورزی ہورہی ہے۔ الور راجستھان میں گاؤ رکھشکوں نے ایک مسلمان کو زدوکوب کرکے قتل کردیا۔ راجستھان حکومت کی مدافعت کرتے ہوئے وزیرداخلہ راجناتھ سنگھ نے کہا کہ اس نے واقعہ کا نوٹ لیا ہے اور قانون کے مطابق ہی کارروائی کی جائے گی۔ وقفہ صفر کے دوران مسئلہ اٹھاتے ہوئے کانگریس کے اپوزیشن لیڈر ملکارجن کھرگے نے کہا کہ پانچ افراد نے مل کر 75000 روپئے میں 3 گائے خریدے اور انہیں گاڑی میں لے جارہے تھے کہ الور میں گاؤ رکھشکوں نے روک کر شدید مارا پیٹا اس کی وجہ  سے ایک شخص کی موت واقع ہوگئی۔ انہوں نے ریاستی وزیرداخلہ کو بھی نشانہ بنایا کہ انہوں نے یہ تبصرہ کیا کہ ملزمین اور متاثرین دونوں جانب سے غلطی ہوئی ہے۔ گائے کی اسمگلنگ کو روکنا کوئی غلط نہیں ہے اس پر کھرگے نے کہا کہ متاثرہ مسلم افراد ڈیری فارمرس تھے۔ اس موقع پر بی جے پی ارکان مداخلت کرنے کی کوشش کررہے تھے جس پر کھرگے نے جھڑک کر کہا کہ آپ لوگ چپ ہوجائے یہاں قانون توڑا گیا ہے۔ ریاست میں اس طرح کا پانچواں واقعہ ہے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT