Saturday , September 23 2017
Home / شہر کی خبریں / مسلمانوں کو بدنام اور سیکولر ڈھانچہ تباہ کرنے کی گھناؤنی سازش

مسلمانوں کو بدنام اور سیکولر ڈھانچہ تباہ کرنے کی گھناؤنی سازش

ٹی وی چیانلوں کے ذریعہ عوام میں مسلمانوں کے تعلق سے بدگمانی ، غلط فہمیاں پیدا کرنے کی کوشش
حیدرآباد۔17مئی (سیاست نیوز) قومی ٹیلی ویژن چیانلس کی جانب سے ملک کی دوسری بڑی اکثریت کو بدنام کرنے کی مسلسل کوششوں کے دوران ایک اور چیانل کے اضافہ اور اس چیانل کے ذریعہ نہ صرف مسلمانوں بلکہ سیکولر قوتوں کو بھی بدنام کرنے کی کوششوں پر سوشل میڈیا پر کافی منفی تبصرہ کئے جا رہے ہیں اور یہاں تک کہا جانا لگا ہے کہ ملک میںموجودہ حکومت کی ایماء پر اس چیانل کے ذریعہ ملک کے سیکولر ڈھانچہ کو کمزور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور اس کوشش کا مقصد ملک کے جمہوری اصولو ں کو متاثر کرتے ہوئے منافرت پھیلانے کے علاوہ شہریو ںمیں بدگمانی پھیلانا ہے۔ حالیہ عرصہ تک ملک کے ایک انگریزی قومی چیانل پر سرکردہ سیاسی قائدین کو بغلیں جھانکنے پر مجبور کرنے والی اپنی شناخت بنانے والے معروف صحافی کی جانب سے اپنا خود کا انگریزی چیانل کھولے جانے پر کئی سوالات اٹھائے جانے لگے ہیں اور یہ کہا جانے لگا ہے کہ انہیں ملک کے جمہوری نظام کو نقصان پہنچانے کے علاوہ ملک میں ہندو راشٹر کے قیام کے نظریہ کو ہموار کرنے کیلئے مالی مدد بھی کی جا رہی ہے۔ نئے انگریزی ٹیلی ویژن چیانل کو غیر معمولی مقبولیت کے حصول کی دوڑ میں ایسے موضوعات سے کھلواڑ کرتے دکھایا جانے لگا ہے جس کے ذریعہ ملک میں سیکولر پارٹیوں کا وجود خطرہ میں پڑ جائے اور بالواسطہ طور پر ملک کی دوسری بڑی اکثریت جو اب تک سیکولر جماعتوں کے ساتھ تھی وہ خود کو غیر محفوظ تصور کرنے لگے۔ذرائع ابلاغ کے توسط سے ذہن سازی کا کام بہت آسانی سے ممکن ہوتا ہے اور اسرائیل نے بھی اسی نظریہ کے تحت ذرائع ابلاغ اداروں کے آغاز کے ذریعہ دنیا کے نام نہاد دانشور ممالک کو اپنا ہمنوا بنانے میں کامیابی حاصل کی ہے اور وہی کوشش ہندستان میں کی جانے لگی ہے اور یہ سمجھا جا رہا ہے کہ ہندستان جیسے کـثیر لسانی ملک میں بھی یہ نظریہ کارگر ثابت ہوگا لیکن اس کے امکانات کافی موہوم ہیں۔ نئے انگریزی چیانل کے آغاز کے ساتھ ہی بہار ‘ دہلی اور اڑیسہ کے علاوہ کیرالہ کے متعلق انکشافات کے بعد اب آئی ایس آئی ایس کے متعلق انکشاف کے نام پر حیدرآباد اور مسلم نوجوانوں کو بدنام کرنے کی کوشش یہ ثابت کر رہی ہے کہ اس چیانل پر نظر آنے والے چہرے اپنی بولی نہیں بول رہے ہیں بلکہ وہ کسی کے آلہ ٔکار بنے ہوئے ہیں اور ان کے نظریات کو فروغ دیتے ہوئے ماحول کو پراگندہ کرنے کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کو یکا وتنہاء کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں۔ سوشل میڈیا پر اس چیانل کے متعلق جاری تبصروں میں منفی تبصروں کی بڑھتی تعداد کو دیکھتے ہوئے اس چیانل کی ہی خبریں بننے لگی ہیں اور اس چیانل کے درپردہ عناصر کے متعلق بھی کھل کر سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمس پر کہا جانے لگا ہیاور یہ کہا جا رہا ہے کہ میڈیا ایک مخصوص نظریہ کے فروغ میں مصروف ہوچکا ہے۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT