Saturday , September 23 2017
Home / شہر کی خبریں / مسلمانوں کو تحفظات ، غیر مسلم وزیر کی تائید

مسلمانوں کو تحفظات ، غیر مسلم وزیر کی تائید

دیگر ریاستوں کے مسلم وزراء کو حیرت ، دہلی اجلاس میں اے پی کے وزیر نے مرکزی حکومت کو جھنجھوڑا
حیدرآباد۔ 6 ۔ اپریل ( سیاست نیوز) مسلم تحفظات کو آندھراپردیش کے غیر مسلم وزیر کی جانب سے تائید کے حصول نے دیگر ریاستوں کے مسلم وزراء کو حیرت میں ڈال دیا۔ آندھراپردیش کے وزیر اقلیتی بہبود ڈاکٹر پلے رگھوناتھ ریڈی نے نئی دہلی میں منعقدہ تمام ریاستوں کے وزراء اقلیتی بہبود کے اجلاس میں مسلم تحفظات کے مسئلہ پر مرکزی حکومت کو جھنجوڑ دیا۔ انہوں نے مرکزی وزیر اقلیتی امور ڈاکٹر نجمہ ہپت اللہ سے خواہش کی کہ مسلم تحفظات کے حق میں مرکزی حکومت کی پالیسی میں تبدیلی کی مساعی کریں۔ مرکزی حکومت کو مسلم تحفظات کے خلاف اپنا موقف تبدیل کرتے ہوئے تحفظات کی تائید کرنی چاہئے ۔ اتنا ہی نہیں ڈاکٹر رگھوناتھ ریڈی نے مرکز سے اپیل کی کہ سپریم کورٹ میں زیر دوران 4 فیصد مسلم تحفظات کے حق میں حلفنامہ داخل کیا جائے تاکہ تحفظات برقرار رہیں۔ نجمہ ہپت اللہ کی جانب سے تمام ریاستوں کے وزرائے اقلیتی بہبود اور سکریٹریز کے اجلاس میں صرف آندھراپردیش کی جانب سے تحفظات کے حق میں آواز اٹھائی گئی۔ بتایاجاتاہے کہ چیف منسٹر این چندرا بابو نائیڈو نے تین دن قبل جمیعتہ العلماء کے قائدین سے ملاقات میں واضح کیا تھا کہ ان کی حکومت تحفظات کی برقراری کیلئے سنجیدگی سے اقدامات کرے گی۔ اس پس منظر میں آندھراپردیش کے وزیر اقلیتی بہبود کا تحفظات کے مسئلہ پر آواز اٹھانا اہمیت کا حامل ہے۔ آندھراپردیش حکومت 4 فیصد مسلم تحفظات کی برقراری کیلئے سپریم کورٹ نے جدوجہد کر رہی ہے۔

 

بتایا جاتا ہے کہ آندھراپردیش کے وزیر کے اس مطالبہ کی دیگر ریاستوں کے وزراء نے تائید کی۔ رگھوناتھ ریڈی نے مرکز سے آندھراپردیش کو درپیش مسائل سے واقف کرایا۔ انہوں نے اقلیتی طلباء کیلئے اسکالرشپ میں اضافہ ، حج ہاؤز کی تعمیر کیلئے مرکز سے تعاون اور اردو یونیورسٹی کے قیام کیلئے ضروری فنڈس کی اجرائی کی اپیل کی۔ ڈاکٹر نجمہ ہپت اللہ نے مختلف مسائل کی یکسوئی کا تیقن دیا۔ تاہم مسلم تحفظات کے مسئلہ پر انہوں نے کوئی تیقن نہیں دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ تقریب میں اس وقت کسی قدر ہلچل پیدا ہوگئی جب اردو یونیورسٹی کے قیام کے مسئلہ پر ڈاکٹر نجمہ ہپت اللہ نے منفی رائے کا اظہار کیا۔ انہوںنے یونیورسٹی کو اردو کے نام سے شروع کرنے پر سوال اٹھائے اور کہا کہ ایسی یونیورسٹی سے کیا فائدہ ؟ اگر طلباء صرف اردو پڑھیں تو کیا حاصل ہے ؟ انہیں دیگر زبانوں میں بھی تعلیم حاصل کرنی چاہئے  تاکہ ملازمتوں کے مواقع میسر ہوں۔ اس مرحلہ پر ڈاکٹر پلے رگھوناتھ ریڈی نے وضاحت کی کہ اردو یونیورسٹی میں صرف اردو زبان ہی نہیں بلکہ دیگر پیشہ ورانہ کورسس بھی موجود ہیں۔ حیدرآباد میں قائم کی گئی مولانا آزاد اردو یونیورسٹی کے فارغ طلباء مختلف کمپنیوں میں ملازمتیں حاصل کرچکے ہیں۔ واضح رہے کہ آندھراپردیش کے ضلع کرنول میں ڈاکٹر عبدالحق اردو یونیورسٹی قائم کی جارہی ہے۔ آندھراپردیش کے وزیر نے یونیورسٹی کے قیام میں مرکز سے تعاون کی خواہش کی۔ اس کانفرنس میں 29 کے منجملہ صرف 10 ریاستوں کے وزرائے اقلیتی بہبود نے شرکت کی، جس پر نجمہ ہپت اللہ نے ناراضگی کا اظہار کیا۔

TOPPOPULARRECENT