Thursday , April 27 2017
Home / Top Stories / مسلمانوں کو تحفظات نہیں ملے تو 2017ء میں حکومت کیلئے خطرہ

مسلمانوں کو تحفظات نہیں ملے تو 2017ء میں حکومت کیلئے خطرہ

تلنگانہ کے مسلمان سخت مایوس، 2019ء تک انتظار ممکن نہیں، بی سی کمیشن سے جناب عامر علی خان کی کھری کھری

ll   تمام پسماندہ طبقات کا تقابلی جائزہ لینے تجویز
ll   مرکز سے رجوع ہونے کی مخالفت
ll   عجلت کے بجائے ٹھوس اقدامات کی خواہش
ll    ’’سیاست‘‘ کی جانب سے 10 ہزار تحریری اور38 ہزار ای میل نمائندگیاں

حیدرآباد ۔ 19۔ڈسمبر (سیاست نیوز) مسلمانوں کو تحفظات کی فراہمی کی سفارش سے قبل بی سی کمیشن کو چاہئے کہ دیگر پسماندہ طبقات کی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے حکومت کو تقابلی رپورٹ پیش کرے۔ اگر بی سی کمیشن صرف سدھیر کمیشن کی سفارشات کی بنیاد پر مسلم تحفظات کے فیصد میں اضافے کے حق میں رپورٹ پیش کرے گا تو عدالت میں یہ تحفظات تعطل کا شکار ہوجائیں گے۔ تلنگانہ کے مسلمان اپنی شدید پسماندگی کے سبب مایوسی کا شکار ہیں اور بی سی کمیشن کی سفارشات کے باوجود اگر تحفظات حاصل نہ ہوں تو پھر ریاست میں حالات بگڑسکتے ہیں۔ 2019 ء کے عام انتخابات سے قبل 2017 ء میں ہی حکومت کو مسلمانوں کی ناراضگی کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ نیوز ایڈیٹر سیاست جناب عامر علی خاں نے آج بی سی کمیشن کے صدرنشین بی ایس راملو اور ارکان سے ملاقات کرتے ہوئے انتہائی بے باکی کے ساتھ مسلمانوں کے جذبات کی کھری کھری طور پر نمائندگی کی ۔ جناب عامر علی خاں نے سابق میں مسلم تحفظات کے خلاف مختلف عدالتی فیصلوں کی نقل پیش کی اور یہ واضح کیا کہ بی سی کمیشن جس انداز میں رپورٹ کی تیاری کی طرف گامزن ہے ، یہ طریقہ کار عدالت میں ٹک نہیں پائے گا۔ روزنامہ سیاست کی جانب سے مسلم تحفظات کے حق میں 10,000 تحریری نمائندگیاں اور 38,437 ای میل نمائندگیاں بی سی کمیشن کے حوالے کی گئیں۔ تلنگانہ کے مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والی تنظیموں اور اداروں کے علاوہ انفرادی طور پر مسلمانوں نے اپنی نمائندگی دفتر سیاست کو روانہ کی تھی ۔ کمیشن کے صدرنشین اور ارکان نے سیاست کی جانب سے اس قدر بڑی تعداد میں نمائندگیوں پر خوشنودی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس سے یہ ثابت ہوتاہے کہ سیاست نے تحفظات کے حق میں جو شعور بیداری مہم شروع کی تھی ، اس کے مثبت نتائج برآمد ہوئے ہیں اور تلنگانہ بھر سے عوام سیاست کی اس مہم سے وابستہ ہوچکے ہیں۔ جناب عامر علی خاں نے مختلف عدالتی فیصلوں کے حوالے کے ساتھ کمیشن کو مشورہ دیا کہ وہ عجلت  میں کوئی فیصلہ کرنے سے گریز کریں اور کمیشن کا کوئی بھی اقدام قانونی اور دستوری رکاوٹوں سے پاک ہونا چاہئے ۔ سدھیر کمیشن آف انکوائری نے مسلمانوں کی تعلیمی ، معاشی اور سماجی پسماندگی کا جائزہ لیا جو کہ اس کی  ذمہ داری تھی۔ اگر بی سی کمیشن صرف سدھیر کمیشن کی رپورٹ کی بنیاد پر ہی سفارشات پیش کرے گا تو سپریم کورٹ میں بآسانی حکم التواء حاصل ہوسکتا ہے ۔ جناب عامر علی خاں نے کہا کہ کمیشن کو صرف حیدرآباد میں بیٹھ کر عوامی سماعت کی بنیاد پر مسلمانوں کی پسماندگی کا تعین کرنے کے بجائے اضلاع کا دورہ کرتے ہوئے دیگر پسماندہ طبقات کی صورتحال کا بھی جائزہ لینا چاہئے ۔ صرف سدھیر کمیشن پر اکتفا کرنا مسلم تحفظات کیلئے نقصان دہ ثابت ہوگا۔ انہوں نے کمیشن سے سوال کیا کہ وہ کن بنیادوں پر یہ فیصلہ کریںگے کہ مسلمانوں اور دیگر پسماندہ طبقات میں پسماندگی کی کیا تقابلی صورتحال ہے۔ صدرنشین کمیشن بی ایس راملو نے وضاحت کی کہ سدھیر کمیشن نے مسلمانوں کے علاوہ ایس سی ، ایس ٹی اور بی سی کے حالات کا بھی احاطہ کیا ہے ۔ تاہم جناب عامر علی خاں نے واضح کیا کہ سدھیر کمیشن نے دیگر طبقات کا صرف سرسری انداز میں تذکرہ کیا جبکہ اس کی ذمہ داری مسلمانوں کے حالات کا جائزہ لینا تھی۔ انہوںنے کہا کہ اگر حیدرآباد میں سماعت کی بنیاد پر ہی بی سی کمیشن کوئی فیصلہ کرتا ہے تو پھر قانونی مسائل پیدا ہوں گے ۔ جناب عامر علی خاں نے بتایا کہ بی سی کمیشن سے جلد از جلد رپورٹ حاصل کرتے ہوئے اسمبلی میں پیش کرنے اور پھر اسے مرکز کو روانہ کرنے کی اطلاعات مل رہی ہیں۔ یہ طریقہ کار تحفظات کی فراہمی کے حق میں بہتر نہیں ۔ مسلمان جو ہر شعبہ میں انتہائی پسماندہ ہے، وہ تحفظات کا بے چینی سے انتظار کر رہے ہیں۔ اگر تحفظات نہیں ملتے ہیں تو پھر صورتحال سنگین ہوجائے گی۔ مسلم سماج میں کافی مایوسی ہے اور حکومت کو 2019 ء سے قبل 2017 ء میں ہی عوامی ناراضگی کا سامنا کرنا پڑے گا ۔ جناب عامر علی خاں نے تحفظات کے فیصد میں اضافہ کو مرکز سے رجوع کرنے کی مخالفت کی اور کہا کہ کمیشن کو عجلت پسندی کے بجائے مزید وقت لیتے ہوئے تمام اضلاع کا دورہ کرنا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ 4 فیصد تحفظات اور ٹاملناڈو میں 9 ویں شیڈول کے تحت فراہم کردہ تحفظات کے معاملات سپریم کورٹ میں زیر التواء ہے۔ انہوں نے 8 فروری 2010 ء کو آندھراپردیش ہائی کورٹ کے ایک فیصلہ کا حوالہ دیا جس میں عدالت نے کمیشن کی جانب سے صرف 6 اضلاع کا دورہ کرتے ہوئے رپورٹ پیش کئے جانے پر اعتراضات کئے اور کہا تھا کہ صرف چند علاقوں کا دورہ کرتے ہوئے کس طرح یہ طئے کیا جاسکتا ہے کہ مسلمانوں کے بعض طبقات سماجی اور تعلیمی طور پر پسماندہ ہیں۔ عدالت نے عجلت میں کئے گئے سروے پر شدید اعتراضات تھے۔ ایک اور جج نے اپنے فیصلہ میں کہا کہ کمیشن نے صرف 9 دن میں سماعت کی تکمیل کرلی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کمیشن اپنے دماغ کے استعمال میں بری طرح ناکام ہوچکا ہے۔ جناب عامر علی خاں نے مسلم تحفظات سے متعلق مختلف عدالتی فیصلوں کا حوالہ دیا اور تجویز پیش کی کہ کمیشن کی رپورٹ نقائص سے پاک ہونی چاہئے۔ جناب عامر علی خاں نے صدرنشین بی ایس راملو سے سوال کیا کہ اگر دوڑ میں صرف ایک ہی شخص ہو تو کس طرح یہ فیصلہ کیا جاسکتا ہے کہ پہلا اور آخری کون تھا۔ جب تک کہ اس دوڑ میں دوسرا شامل نہ ہو۔ اسی طرح بی سی کمیشن دیگر پسماندہ طبقات کے حالات کا تقابلی جائزہ لئے بغیر کسی نتیجہ پر نہیں پہنچ سکتا۔ انہوں نے کہا کہ تمام اضلاع کا دورہ کرتے ہوئے صورتحال کا برسر موقع جائزہ لینا چاہئے ۔ بھلے ہی اس کیلئے 6 ماہ کیوں نہ لگ جائیں۔ بصورت دیگر ہائی کورٹ میں بآسانی حکم التواء حاصل ہوجائے گا۔ عوام کو چیف منسٹر اور بی سی کمیشن سے کافی امیدیں ہیں اور اگر وہ مطمئن نہ ہوں تو 2017 ء میں صورتحال بگڑ سکتی ہے اور 2019 ء تو حکومت کیلئے تباہ کن ثابت ہوگا۔ بی سی کمیشن کے صدرنشین اور ارکان نے جناب عامر علی خاں کی تجاویز اور تحریری دلائل کا جائزہ لینے کا تیقن دیا اور کہا کہ قطعی رپورٹ کی پیشکشی سے قبل ان امور کو پیش نظر رکھا جائے گا ۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT