Thursday , September 21 2017
Home / Top Stories / مسلمانوں کو تحفظات پہلے ہی حاصل ‘ ہم صرف اضافہ کرنا چاہتے ہیں ‘ کے سی آر

مسلمانوں کو تحفظات پہلے ہی حاصل ‘ ہم صرف اضافہ کرنا چاہتے ہیں ‘ کے سی آر

٭    ٹاملناڈو طرز پر تحفظات کی حد میں اضافہ ہوگا ۔ اندرون ایک ہفتہ خصوصی اسمبلی اجلاس کی طلبی
٭    مذہب کے نام پر تحفظات کے الزامات بے بنیاد اور غلط ۔ اسمبلی میں چیف منسٹر کا بیان
حیدرآباد ۔27مارچ ( سیاست نیوز) چیف منسٹر کے چندر شیکھرر اؤ نے مسلمانوں کو مذہب کی بنیاد پر تحفظات فراہم کرنے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ 4 تا 5 دن میں اسمبلی کا خصوصی اجلاس طلب کرتے ہوئے مسلم تحفظات میں مزید 5 تا 6 فیصد اضافہ کرنے کی قرارداد منظور کرکے مرکز اور سپریم کورٹ کو روانہ کی جائیگی ۔ اسمبلی میں آج تصرف بل منظور ہوگیا اور اسمبلی کارروائی غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی ہوگئی ۔ تصرف بل کے مباحث میں حصہ لیتے ہوئے چیف منسٹر نے بی جے پی کا نام لئے بغیر کہا کہ چند لوگ حکومت پر مذہب کے نام پر تحفظات فراہم کرنے کا الزام  عائد کررہے ہیں جو جھوٹا اور بے بنیاد ہے کیونکہ ریاست میں مسلمان 4فیصد مسلم تحفظات سے استفادہ کررہے ہیں ۔ ٹی آر ایس حکومت ان تحفظات میں مزید 5 تا  6 فیصد اضافہ کرنا چاہتی ہے ۔ جاریہ بجٹ سیشن میں ہی مسلم تحفظات میں توسیع کی تجویز تھی تاہم بی سی کمیشن اضلاع کا دورہ کرنے کے بعد رپورٹ تیار کرنے میں مصروف ہے ۔ جیسے ہی بی سی کمیشن سے رپورٹ وصول ہوگی ‘ حکومت اسمبلی کا خصوصی اجلاس طلب کرکے مسلم تحفظات سے رجوع ہوگی اور ساتھ ہی قبائلی طبقہ کے تحفظات میں بھی اضافہ کرنے قرارداد منظور کیجائے گی ۔ چیف منسٹر نے کہاکہ ٹی آر ایس نے 2014 کے عام انتخابات میں اپنے منشور میں مسلمانوں کو 12فیصد تحفظات فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا جس پر بھروسہ کرتے ہوئے مسلمانوں نے ٹی آر ایس پر اپنے بھرپور اعتماد کا اظہار کیا ہے جو وعدہ کیا ہے اس کو پورا کرنا ٹی آر ایس حکومت کی ذمہ داری ہے ۔ چیف منسٹر نے کہا کہ ٹاملناڈو میں 69 فیصد تحفظات دئے جارہے ہیں ۔ تلنگانہ میں پسماندہ طبقات کی آبادی کا تناسب 90فیصد ہے ۔ تلنگانہ اور ٹاملناڈو ہندوستان کے دو ریاستیں ہیں ‘ ایک ریاست سے ایک سلوک دوسری سے دوسرا سلوک غیر دستوری ہے ۔ ٹاملناڈو کے طرز پر ہم نے تحفظات  فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے اور اسمبلی میں قرارداد منظور کرکے مرکز اور سپریم کورٹ سے تحفظات میں توسیع دینے کا مطالبہ کیا جائے گا ۔ بی سی طبقات کے تحفظات میں بھی توسیع کی ضرورت ہے ۔ حکومت اس کا بھی جائزہ لے رہی ہے ۔ بی سی کمیشن سے رپورٹ وصول ہونے کے بعد حکومت سنجیدگی سے اس پر غور کرے گی اور آئندہ سال ریاست میں بی سی سب پلان تیار کیا جائے گا ۔ چیف منسٹر کے سی آر نے اسلامک سنٹر کے قیام میں تمام رکاوٹوں کو دور کرنے کا تیقن دیا ۔ چارمینار پیدل راہرو پراجکٹ کو جلد مکمل کرنے کا وعدہ کیا ۔ چیف منسٹر نے طلبہ کیلئے پرائمری اسکول سے پوسٹ گریجویشن میں زیر تعلیم تمام طلبہ کے میس چارجس  میں اضافہ کرنے کا اعلان کیا اور کہا کہ اس فیصلہ سے 18لاکھ طلبہ کو فائدہ ہوگا ۔ کنٹراکٹ اور آوٹ سورسنگ  پر خدمات انجام دینے والے ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کرنے کا حوالہ دیا اور بہت جلد ہوم گارڈس  اور کنٹراکٹ ایمپلائیز کی خدمات کو مستقل کرنے کا اعلان کیا ۔ آشا ورکرس کا مرکزی اسکیم سے تعلق ہے باوجود اس کے ان کی تنخواہوں میں بھی اضافہ کرنے کا فیصلہ کیا ۔ چیف منسٹر نے تلنگانہ کو سارے ملک میں ویلفیر اسٹیٹ کا اعزاز حاصل ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ ریاست میں جتنے فلاحی اسکیمات پر عمل آوری ہورہی ہے اس کی ملک بھر میں مثال نہیں ملتی ۔ کے سی آر نے کہا کہ تلنگانہ کی معیشت مستحکم ہے جس کی وجہ سے ریاست کو قرض مل رہا ہے ‘ ریاست قرض حاصل کرنے کا اہل ہے ۔ ترقیاتی ‘ تعمیری اور فلاحی کاموں کی انجام دہی کیلئے قرض حاصل نہیں کیا گیا تو جرم تصور کیا جائے گا ۔ اپوزیشن کی جانب سے قرض کے حصول پر تنقید بیجا ہے ۔ تلنگانہ حکومت جاریہ سال 20ہزار کروڑ روپئے ادا کررہی ہے ۔ برقی کو مستحکم بنانے کیلئے بڑے پیمانے پر اقدامات کئے جارہے ہیں ۔ ماضی میں برقی کٹوتی بے حساب ہوا کرتی تھی ۔ برقی کیلئے احتجاج کرنا پڑتا تھا ۔ پولیس لاٹھی چارج اور فائرنگ  ہوتی تھی ۔ تلنگانہ ریاست میں ٹی آر ایس حکومت نے ان سب کا خاتمہ کردیا اور خصوصی توجہ دیتے ہوئے برقی بحران کو ختم کردیا ہے ۔ شادی مبارک اور کلیان لکشمی کی امدادی رقم کو 51 سے بڑھاکر 75ہزار روپئے کردیا گیا ۔ 17ہزار کروڑ  روپئے کسانوں کا قرض معاف کیا گیا ‘ 4ہزار کروڑ  روپئے مکانات کا ٹیکس معاف کیا گیا ۔ چیف منسٹر نے کہا کہ کے جی تا پی جی مفت تعلیم ان کا ڈریم پراجکٹس ہے ۔ اس پر اپوزیشن کو شکوک کی ضرورت نہیں ہے ۔ 10ہزار پولیس ملازمین کا تقرر کیا گیا ہے ‘ بہت جلد 24ہزار ٹیچرس کا تقرر کیا جائے گا ۔ ریذیڈنشیل  اسکولس کیلئے ذاتی عمارتیں تعمیر کی جارہی ہیں ‘ اوورسیز اسکالرشپس کے تحت فی طالب علم کو 20لاکھ روپئے امداد دی جارہی ہے ۔ 1.25 لاکھ غیر مجاز مکانات کو باقاعدہ بنایا گیا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT