Tuesday , September 26 2017
Home / Top Stories / مسلمانوں کو %12 تحفظات کیلئے اسمبلی میں عنقریب قرارداد کی منظوری : چیف منسٹر

مسلمانوں کو %12 تحفظات کیلئے اسمبلی میں عنقریب قرارداد کی منظوری : چیف منسٹر

تحفظات کے فیصد میں اضافہ پر زور، ٹاملناڈو کے خطوط پر عمل کرنے ریاستی حکومت کا عزم، غریب عوام کی فلاح و بہبود اولین ترجیح: کے چندر شیکھر راؤ کا خطاب
حیدرآباد۔ 13 مارچ (سیاست نیوز) چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے ریاست تلنگانہ میں مسلمانوں کو 12% تحفظات دینے کیلئے اپنے وعدہ کو بہرحال پورا کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ آئندہ دو ماہ کے اندر اسمبلی کا خصوصی سیشن طلب کریں گے تاکہ مسلمانوں کو تحفظات کی فراہمی کیلئے قرارداد منظور کی جاسکے۔ اس قرارداد میں تحفظات کے فیصد میں اضافہ کیلئے زور دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت نے پڑوسی ریاست ٹاملناڈو کے خطوط پر 69% تحفظات دینے کی پالیسی اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ فیصد سپریم کورٹ کی جانب سے مقرر کردہ فیصد سے 19% زیادہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت نے مسلمانوں کو تحفظات فراہم کرنے کیلئے پہلے ہی سدھیر کمیشن اور چلپا کمیشن کا تقرر عمل میں لایا ہے تاکہ مسلمانوں اور درج فہرست ذاتوں کی سماجی، معاشی اور تعلیمی صورتِ حال کا جائزہ لے کر حکومت کو رپورٹ پیش کرے۔ توقع ہے کہ یہ رپورٹ 2 ماہ کے اندر پیش کی جائے گی۔ ان رپورٹس کو پسماندہ طبقات کمیشن سے رجوع کیا جائے گا اور بعدازاں اسمبلی میں مسلمانوں کو تحفظات کی فراہمی یقینی بنانے کیلئے ایک قرارداد منظور کی جائے گی۔ چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ نے یہ بھی واضح کردیا کہ یہ تحفظات مذہب کی بنیاد پر نہیں بلکہ پسماندگی کی بنیاد پر دیئے جائیں گے۔ چیف منسٹر تلنگانہ مسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے آج ایوان میں کانگریس کو اپنی سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے سال 2009ء انتخابات کے موقع پر اپنے انتخابی منشور میں عوام سے کئے ہوئے وعدوں و تیقنات کو پورا نہ کئے جانے پر سوالات کی بوچھار کردی اور دریافت کہا کہ آخر کیا وجہ تھی کہ اپنے انتخابی منشور میں عوام سے کئے ہوئے وعدوں کو پورا کرنے میں کانگریس کیوں ناکام رہی۔ جبکہ ٹی آر ایس کی زیرقیادت تلنگانہ حکومت اپنے انتخابی منشور میں کئے ہوئے وعدوں کے علاوہ انتخابی منشور میں نہ کئے ہوئے وعدوں کو بھی پورا کرنے کیلئے کوشاں ہے۔ تلنگانہ قانون ساز اسمبلی میں گورنر کے خطبہ پر تحریک تشکر کے سلسلے میں ہوئے مباحث کا جواب دیتے ہوئے چیف منسٹر نے کہا کہ کانگریس ارکان کی جانب سے گورنر کے خطبہ کو ٹی آر ایس کا انتخابی منشور قرار دینا اپنے آپ کا مذاق اُڑا لینے کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس حکومت میں صنعت کاروں کی جانب سے اندرا پارک کے پاس برقی سربراہی کے مطالبہ پر بڑے پیمانے پر احتجاج منظم کیا تھا جبکہ موجودہ حکومت صنعتوں کو 24 گھنٹے برقی سربراہی کو یقینی بنانے کے اقدامات کی ہے۔ اس کے علاوہ زرعی شعبہ کیلئے بھی کسی تاخیر کے بغیر معیاری انداز میں مقررہ مدت کے مطابق برقی سربراہ کی جارہی ہے۔ انہوں نے سابق کانگریس حکومتوں کا مذاق اُڑاتے ہوئے کہا کہ کانگریس حکومت نے تانڈوں کو گرام پنچایتوں میں تبدیل کرنے (گرام پنچایتوں کا موقف فراہم کرنے) کا وعدہ کرکے خود کانگریس نے اپنے اس وعدے کو فراموش کردیا تھا ۔ تلنگانہ حکومت نے فلاح و بہبود پر اولین ترجیح دیتے ہوئے غریب افراد کو سابق کانگریس حکومت میں دیئے جانے والے 200 روپئے وظیفہ کی رقم کو بڑھاکر ایک ہزار روپئے کرنے کے اقدامات کی اور ماہانہ یہ رقومات فراہم کی جارہی ہیں۔ سابق کانگریس حکومت میں صرف 29 لاکھ افراد کو وظائف دیئے گئے جبکہ تلنگانہ حکومت 35.7 لاکھ افراد کے علاوہ بیڑی ورکروں کو بھی ایک ہزار روپئے فراہم کررہی ہے۔ ہاسٹلوں کے طلباء کیلئے اخراجات کی پرواہ کئے بغیر باریک چاول فراہم کرکے کھانا کھلایا جارہا ہے اور آئندہ تعلیمی سال سے کالجوں اور یونیورسٹی طلباء کو بھی باریک چاول فراہم کرنے کا چیف منسٹر نے اعلان کیا۔ انہوں نے واضح طور پر اس بات کا اعلان کیا کہ تلنگانہ حکومت سابق کانگریس حکومت کے بنگارو تلی اسکیم کو ہرگز روبہ عمل نہیں لائے گی اور جس پر عمل آوری کی جائے گی۔ ان ہی اسکیمات کا حکومت ہمیشہ تذکرہ کرے گی۔ انہوں نے یاد دلایا کہ اپنے وعدے کے مطابق ریاست میں پہلے مرحلے کے تحت 50% فیصد کسانوں کے قرض معاف کئے اور اب بجٹ کے ذریعہ ایک اور مرحلہ کے تحت 75 فیصد تک کے قرض معاف کئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس مالی دوراندیش کا مظاہرہ کرتے ہوئے حکومت نے کسانوں کو زرعی کھاد اور تخم کی سربراہی کیلئے اقدامات کئے جس کی وجہ سے کسانوں کو کوئی احتجاج کرنے کی ضرورت نہیں پڑی۔ چیف منسٹر نے کہا کہ غریب عوام کیلئے ڈبل بیڈروم مکان کی تعمیر و فراہمی بہت ہی صبر آزما فیصلہ و اقدام ہے۔ غریب عوام کو بھی باوقار زندگی گذارنے کا موقع فراہم کیا جارہا ہے۔ بینکوں کے ذریعہ اس اسکیم کو مربوط کرنے کی صورت میں غریبوں کو مکانات فراہم نہیں ہوسکیں گے۔ مکانات کی تعمیر پر مصارف زیادہ بھی ہوں تو اس کی پرواہ کئے بغیر حکومت نے کارپوریٹ سماجی ذمہ داری (Corporate Social Responsibility) کے تحت تعاون حاصل کرکے مکانات تعمیر کئے جارہے ہیں۔ انہوں نے سابق کانگریس حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس حکومت نے ایک مکان کیلئے جتنی رقم خرچ کی تھی، تلنگانہ حکومت ایک مکان پر اس سے 6 گنا رقم اضافہ خرچ کررہی ہے۔ (باقی سلسلہ صفحہ 6 پر ) ۔

TOPPOPULARRECENT