Saturday , September 23 2017
Home / شہر کی خبریں / مسلمانوں کو تحفظات کی فراہمی کیلئے حکومت کا غیرمحفوظ طریقہ کار

مسلمانوں کو تحفظات کی فراہمی کیلئے حکومت کا غیرمحفوظ طریقہ کار

اسمبلی میں قرارداد کی منظوری اور دستوری ترمیم کیلئے مرکز سے رجوع کرنے چیف منسٹر کے فیصلہ پر ماہرین کا اظہار ِ حیرت

حیدرآباد۔29 ڈسمبر (سیاست نیوز) چیف منسٹر کے چندر شیکھر رائو نے اعلان کیا کہ ان کی حکومت غریب مسلمانوں اور درج فہرست قبائل کے تحفظات کے فیصد میں اضافے کے عہد کی پابند ہے۔ انہوں نے عہدیداروں کو ہدایت دی کہ وہ تحفظات کے فیصد میں اضافہ کے لئے دستوری اور قانونی طریقہ کار تلاش کریں۔ چیف منسٹر نے کل رات اس مسئلہ پر بی سی کمیشن اور سدھیر کمیشن کے صدورنشین کے علاوہ اعلی عہدیداروں کے ساتھ اجلاس منعقد کیا اور اس بات کا فیصلہ کیا کہ تحفظات کے فیصد میں اضافہ کے لئے قانون ساز اسمبلی میں قرارداد منظور کرتے ہوئے مرکز کو روانہ کی جائے گی۔ واضح رہے کہ حکومت نے عام انتخابات سے قبل مسلمانوں اور درج فہرست قبائل کو 12 فیصد تحفظات فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ اب جبکہ حکومت کے ڈھائی سال مکمل ہوچکے ہیں، بی سی کمیشن تشکیل دیتے ہوئے رپورٹ طلب کی گئی ہے۔ اعلی سطحی اجلاس میں چیف منسٹر کا یہ بیان باعث حیرت ہے کہ تحفظات کے لئے اسمبلی قرارداد منظور کی جائے گی اور مرکز کو روانہ کرتے ہوئے دستوری ترمیم کی درخواست کی جائے گی۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ تحفظات کو محفوظ طریقہ سے فراہم کرنے کا یہ مناسب طریقہ نہیں ہے اور نہ ہی اسمبلی میں قرارداد کے ذریعہ امید کی جاسکتی ہے کہ مرکز دستوری ترمیم کے ذریعہ تحفظات کے فیصد میں اضافہ کرے گا۔ مرکز میں بی جے پی زیر قیادت این ڈی اے حکومت برسر اقتدار ہے جو مسلم تحفظات کی پہلے ہی سے مخالفت کررہی ہے۔ موجودہ حالات میں قرارداد کی منظوری اور مرکز کو روانہ کرنے کا فیصلہ دراصل اپنی ذمہ داری سے عہدہ برا ہونے کی ایک کوشش ہے تاکہ مسلمانوں کو یہ پیام دیا جائے کہ حکومت نے اسمبلی میں تو قرارداد منظور کردی اور اب مرکز تحفظات کے فیصد میں اضافہ کرے گا۔ اعلی سطحی اجلاس میں چیف منسٹر نے اس بات کی وضاحت  نہیں کی کہ وہ کس طرح مرکز کو تحفظات کے فیصد میں اضافے کے لئے راضی کریں گے جبکہ تلنگانہ کے موجودہ 4 فیصد تحفظات سپریم کورٹ میں زیر التوا ہیں۔ چیف منسٹر ایک طرف وعدے کی تکمیل کا اعلان  کررہے ہیں تو دوسری طرف وہ جس طریقہ کار کو اختیار کرنا چاہتے ہیں اس سے تحفظات کی فراہمی ممکن نظر نہیں آتی۔ ہوسکتا ہے کہ آئندہ انتخابات کو پیش نظر رکھتے ہوئے حکومت اس طرح کا کوئی سیاسی قدم اٹھائے گی تاکہ مسلمانوں کے ووٹ حاصل کئے جاسکیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ چیف منسٹر کے جائزہ اجلاس میں ریاست کے ایڈوکیٹ جنرل رام کرشنا ریڈی بھی شریک تھے جو مسلم تحفظات کے کٹر مخالفین میں شمار کئے جاتے ہیں۔ کانگریس دور حکومت میں جب پہلی مرتبہ 5 فیصد اور دوسری مرتبہ 4 فیصد تحفظات فراہم کئے گئے تھے، اس وقت رام کرشنا ریڈی نے ہائی کورٹ سے رجوع ہوکر تحفظات کو کالعدم کرانے میں اہم رول ادا کیا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ وہ سپریم کورٹ میں 4 فیصد تحفظات کے زیر دوران مقدمہ میں ابھی بھی مخالف وکیل کی حیثیت سے درج ہیں۔ کے سی آر نے انہیں نہ صرف ریاست کا ایڈوکیٹ جنرل مقرر کیا بلکہ تحفظات کے مسئلہ پر مشاورت میں شامل رکھا گیا ہے۔ ایک مخالف تحفظات وکیل سے کس طرح توقع کی جاسکتی ہے کہ وہ یکایک اپنا موقف تبدیل کرلیں گے۔ قانون اور دستور کے ماہرین نے اسمبلی میں قرارداد کے ذریعہ مسلمانوں کو تحفظات کے فیصد میں اضافے کو ناممکن قرار دیا۔ چیف منسٹر کے جائزہ اجلاس میں اس نے قرارداد کی منظوری اور مرکز کو روانہ کرنے کی تجویز پیش کی اس کا علم نہیں ہوسکا تاہم اجلاس میں چیف منسٹر نے بی سی کمیشن کو رپورٹ پیش کرنے کے سلسلہ میں کوئی ہدایت نہیں دی۔ ابتداء میں بی سی کمیشن کو جاریہ ماہ کے اواخر تک رپورٹ پیش کرنے کا مشورہ دیا گیا تھا جس کے لئے کمیشن نے چھ روزہ عوامی سماعت کا اہتمام کیا لیکن اب کمیشن کے ذرائع کا کہنا ہے کہ رپورٹ پیش کرنے میں وقت لگ سکتا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بی سی کمیشن کی رپورٹ اور اس کی سفارشات کے بغیر کس طرح اسمبلی میں قرارداد کی منظوری کا فیصلہ کیا جاسکتا ہے۔ حکومت اگر تحفظات کی فراہمی میں سنجیدہ ہے تو وہ ریاستی سطح پر قانون سازی کرسکتی ہے اور سپریم کورٹ کو یہ قائل کیا جاسکتا ہے کہ پسماندگی کی بنیاد پر یہ فیصلہ کیا گیا۔ سپریم کورٹ نے منڈل کمیشن کیس میں تحفظات کے لئے 50 فیصد کی حد مقرر کرتے ہوئے واضح کیا تھا کہ یہ کوئی پابندی نہیں ہے بلکہ استثنائی صورتوں میں تحفظات کے فیصد کو 50 فیصد سے زائد کیا جاسکتا ہے۔ جب سپریم کورٹ کی واضح رہنمائی موجود ہے اس کے باوجود صرف قرارداد پر اکتفا کرنا محض دکھاوے کے سوا کچھ نہیں۔ چیف منسٹر کے جائزہ اجلاس میں کسی مسلم عہدیدار حتی کہ ڈپٹی چیف منسٹر کو بھی شامل نہیں کیا گیا۔ اجلاس کے بعد چیف منسٹر کے دفتر سے جاری کردہ پریس نوٹ میں بتایا گیا کہ چیف منسٹر نے مسلمانوں اور درج فہرست قبائل کو ان کی آبادی کے اعتبار سے تحفظات فراہم کرنے کا عہد کیا ہے۔ چیف منسٹر نے یہ بھی کہا کہ ٹی آر ایس نے انتخابی منشور میں تحفظات کا جو وعدہ کیا تھا اس پر عمل کیا جائے گا۔ عہدیداروں کی ایک ٹیم تاملناڈو کا دورہ کرتے ہوئے 69 فیصد تحفظات کی فراہمی کے طریقہ کار کا جائزہ لے گی۔ چیف منسٹر نے قانونی اور دستوری رکاوٹوں کے بغیر تحفظات کی راہ ہموار کرنے کی عہدیداروں کو ہدایت دی ہے۔ اجلاس میں وزیر بہبودیٔ پسماندہ طبقات جوگو رامنا، حکومت کے خصوصی مشیر راجیو شرما، صدرنشین بی سی کمیشن بی ایس راملو، ارکان بی سی کمیشن وی کرشنا موہن، جے گوری شنکر، انجانیلو گوڑ، سدھیر کمیشن کے صدرنشین جی سدھیر، چیف سکریٹری کے پردیر چندرا، ایڈوکیٹ جنرل رام کرشنا ریڈی، چیف منسٹر آفس کے پرنسپل سکریٹری ایس نرسنگ رائو، لا سکریٹری سنتوش ریڈی، پرنسپل سکریٹری بی سی ویلفیر سومیش کمار، پولیس کمشنر حیدرآباد مہیندر ریڈی اور دوسرے شریک تھے۔

TOPPOPULARRECENT